بدھ کے روز بلوچستان اسمبلی کے اجلاس کے دوران اظہارِ خیال کرتے ہوئے گوادر سے رکنِ صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمٰن بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں امن و امان کی صورتِ حال سنگین ہے، شاہراہیں محفوظ نہیں اور منشیات کے باعث ہماری نسلیں تباہ ہو رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ منشیات چاکلیٹ کی طرح فروخت ہو رہی ہیں، لیکن ان کی روک تھام میں حکومت اور متعلقہ ادارے ناکام ہو چکے ہیں۔ ایوان میں بیٹھے لوگ اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ وہ حکومت کر رہے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ حکومت ایسے کی جاتی ہے؟
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں رشتے کے تنازعات پر ہماری بچیوں کو اغوا کیا جاتا ہے۔ اسماء جتک کے والد کے قاتل اب تک گرفتار نہیں ہو سکے۔ اغواکار بااثر ہیں۔ آج ایوان میں ان کے نام لے لیں، میں پہلے بھی ایک بار ان کے نام لے چکا ہوں۔
وڈھ سے رکنِ صوبائی اسمبلی جہانزیب مینگل کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں دس مرتبہ اس کا نام لے چکا ہوں، آپ بھی اس کا نام لیں۔ کسی کو ڈرنے کی ضرورت نہیں۔
اس موقع پر جہانزیب مینگل نے کہا کہ اسماء جتک کے والد کے قتل کا ملزم شفیق الرحمٰن مینگل کے گھر میں موجود ہے۔ پولیس چھاپہ مارے تو اسے گرفتار کیا جا سکتا ہے۔
یاد رہے کہ بلوچستان کے ضلع خضدار سے تعلق رکھنے والی اسماء جتک کو فروری 2025 میں مبینہ طور پر رشتہ دینے سے انکار پر اغوا کیا گیا تھا۔ رواں سال ایک ویڈیو وائرل ہوئی، جس میں وہ قرآنِ مجید ہاتھ میں اٹھائے اپنے اغوا کے ذمہ دار افراد کے خلاف انصاف کی اپیل کرتی نظر آئیں۔ تاہم، ویڈیو وائرل ہونے کے چند گھنٹوں بعد ان کے والد، ماسٹر عنایت اللہ، کو خضدار میں نامعلوم مسلح افراد نے قتل کر دیا۔
اس واقعے کا مرکزی ملزم ظہور جمالزئی کو قرار دیا جا رہا ہے، جو سردار ثناء اللہ کا ذاتی محافظ بتایا جاتا ہے۔ اس کا نام ایف آئی آر میں بھی شامل ہے۔ اس پر اسماء جتک کے اغوا کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے، تاہم وہ اب تک گرفتار نہیں ہو سکا۔



















































