سابق افغان فورسز کو بلوچستان میں بلوچ قوم کے خلاف استعمال کیا جارہا ہے _ بی این پی

0

بلوچستان نیشنل پارٹی نے اپنے مرکزی پریس ریلیز کے مذمتی بیان میں کہا ہے کہ ریاست کی جانب سے سابق افغان فورسز کو بلوچستان میں بلوچ قوم کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے جو انتہائی تشویشناک اور قابل مذمت عمل ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ بلوچ قوم کی نسل کشی کے لیے کسی بھی قوت یا گروہ کو استعمال کرنا نہ صرف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ بلوچ اور افغان اقوام کے درمیان تاریخی اور انسانی رشتوں کو بھی مجروح کرنے کے مترادف ہے تاریخی طور پر بلوچ اور افغان اقوام کے درمیان برادرانہ تعلقات قائم رہے ہیں اور مشکل ترین حالات میں دونوں اقوام کے رہنماؤں اور عوام نے ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے اور مختلف ادوار میں ایک دوسرے کے لیے تعاون اور مدد کا باعث بنے ہیں مگر موجودہ حالات میں سابق افغان فورسزکو بلوچستان میں بلوچ قوم کے خلاف استعمال کرکے ظلم و جبر اور قتل و غارات گری کا سلسلہ جاری رکھا جا رہا ہے ۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ بلوچستان نیشنل پارٹی اس طرز عمل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے واضح کرتی ہے کہ بلوچ قوم کے خلاف طاقت کے استعمال اور کسی بھی گروہ کو بطور آلہ کار استعمال کرنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ حالات مزید پیچیدہ ہوں گے پارٹی کا مؤقف ہے کہ بلوچ قوم کے بنیادی حقوق قومی شناخت سیاسی اور انسانی وقار کو طاقت کے ذریعے دبانے کی ہر کوشش مسائل کو مزید گہرا کرے گی۔

مزید کہا گیا ہے کہ بلوچستان نیشنل پارٹی افغان قیادت افغان اکابرین اور افغان معاشرے کے باشعور و ذمہ دار حلقوں سے اپیل کی کہ وہ بلوچ قوم کے خلاف کسی ایسے عمل کا حصہ نہ بنیں جس سے بلوچ قوم کی نسل کشی یا انسانی حقوق کی پامالی کو تقویت ملے بلوچ اور افغان اقوام کے درمیان صدیوں پر محیط تاریخی تعلقات باہمی احترام تعاون انسانی ہمدردی اور ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہونے کی روایت پر استوار ہیں ان تاریخی رشتوں کو سیاسی مقاصد طاقت کے استعمال اور خونریزی کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان نیشنل پارٹی اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ بلوچ قوم کے سیاسی قومی اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے قومی جمہوری اور سیاسی جدوجہد جاری رکھی جائے گی اور بلوچ قوم کے خلاف ہونے والے تمام اقدامات اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف ہر سطح پر آواز بلند کی جاتی رہے گی