شہید سنگت مٹھا بلوچ – منسور بُگٹی

17

شہید سنگت مٹھا بلوچ

تحریر: منسور بُگٹی

دی بلوچستان پوسٹ

بی ایم سی کا وہ گواڑخ، جو نہایت انسان دوست، مخلص اور نرم دل انسان تھا۔ اس کی شخصیت میں ایسی شرافت اور خلوص تھا کہ نہ کبھی اس سے کسی کو تکلیف پہنچی، نہ کسی کو اس سے کوئی پریشانی ہوئی، اور نہ ہی کسی کے دل میں اس کے لیے کوئی شکایت پیدا ہوئی۔ وہ جہاں جاتا، اپنے اچھے اخلاق، محبت اور مسکراہٹ سے لوگوں کے دلوں میں اپنی جگہ بنا لیتا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ آج اس کی جدائی کا دکھ ہر اس شخص کے دل میں ہے جس نے کبھی اسے قریب سے جانا تھا۔

ہمارے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہم نے اسے ایک اعلیٰ ظرف، مخلص اور بہترین انسان پایا۔ وہ نہایت محنتی، باہمت اور اپنے مقصد کے ساتھ مخلص تھا۔ اپنی تعلیم کو اس نے ہمیشہ بہت سنجیدگی سے لیا اور کبھی اسے نظر انداز نہیں کیا۔ مجھے آج بھی وہ دن اچھی طرح یاد ہے جب ہمارے پیپرز تھے۔ پیپرز کے دوران وہ سخت بیمار تھا۔ اس کی حالت ٍایسی تھی کہ وہ مشکل سے بیٹھ بھی پا رہا تھا، لیکن بیماری اور تکلیف کے باوجود اس نے اپنی تیاری نہیں چھوڑی۔ اس نے ہمت نہیں ہاری، اپنی پڑھائی جاری رکھی اور پیپرز کی بھرپور تیاری کی۔ اس نے وہ پیپر بھی بہت اچھے طریقے سے دیے۔

چند دن پہلے جب رزلٹ آیا تو معلوم ہوا کہ وہ تمام پیپرز میں پاس تھا۔ اس خبر نے ایک طرف اس کی محنت اور لگن پر فخر محسوس کروایا، تو دوسری طرف دل کو یہ سوچ کر بے حد دکھ ہوا کہ جس انسان نے اپنی زندگی، اپنی تعلیم اور اپنے مستقبل کے لیے اتنی محنت کی، وہ آج ہمارے درمیان موجود نہیں۔ اس کا یہ سفر ہمیں ہمیشہ یاد دلاتا رہے گا کہ مشکل حالات انسان کے حوصلے کو شکست نہیں دے سکتے، اگر ارادہ مضبوط ہو۔ وہ اپنی محنت، اپنے کردار اور اپنی خوبصورت یادوں کی صورت میں ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہے گا۔

وہ صرف میڈیکل کا ایک طالب علم نہیں تھا، وہ ایک سوچ تھا، ایک خواب تھا، اپنی قوم کے مستقبل کی ایک امید تھا، اور اپنے خاندان کا سہارا تھا۔ نہ جانے کتنی آنکھیں اس کے مستقبل سے جڑی ہوئی تھیں۔ سب سے بڑھ کر اس کے ماں باپ کی آنکھیں، جنہوں نے بچپن سے اسے اپنی محبت، تربیت اور دعاؤں کے سائے میں پروان چڑھایا، اور اسے اس انداز میں تربیت دی کہ وہ ایک باکردار، باصلاحیت اور عظیم انسان بن کر ابھرا۔ ان کے خواب اس کے خوابوں سے جڑے تھے، ان کی امیدیں اس کے مستقبل سے وابستہ تھیں۔ مگر وقت نے ایک ہی لمحے میں ان کے ان گنت خواب چھین لیے۔

میڈیکل کی سیٹ حاصل کرنا کوئی آسان بات نہیں۔ ہم میں سے بہت سے ایسے طالب علم ہیں جنہیں وہ سہولیات اور مواقع میسر رہے جنہوں نے ہمارے لیے میڈیکل کالج تک پہنچنے کا سفر نسبتاً آسان بنا دیا۔ لیکن مٹھا بلوچ بلوچستان کے ایک دور افتادہ علاقے سے تعلق رکھتا تھا، جہاں زندگی گزارنے کی بنیادی سہولیات تک میسر نہیں۔ نہ کوئی معیاری اسکول، نہ بہتر تعلیمی ماحول، اور نہ ہی ایسا کالج جہاں معیاری تعلیم حاصل کی جا سکے۔

ایسے علاقے سے اٹھ کر میڈیکل کالج تک پہنچنا، اپنی جگہ بنانا اور اس مقام تک پہنچنا کوئی معمولی کامیابی نہیں تھی۔ یہ اس کی محنت، حوصلے اور عزم کی گواہی تھی کہ محدود وسائل کے باوجود اس نے وہ مقام حاصل کیا جس کا خواب بہت سے نوجوان صرف دیکھتے رہ جاتے ہیں۔ اور آج سب سے زیادہ تکلیف اس بات کی ہے کہ جس منزل تک پہنچنے کے لیے اس نے اتنی دشواریاں برداشت کیں، وہ منزل اس کے قدموں کے نیچے آ تو گئی، مگر اسے اس سفر کے اختتام تک ہمارے ساتھ رہنا نصیب نہ ہوا۔

مٹھا بلوچ جیسے باصلاحیت طالب علم اور باکردار انسان کی ہماری قوم کو آج پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔ ایسے نوجوان جو اپنی محنت، کردار اور عزم سے نہ صرف اپنے خاندان بلکہ اپنی قوم کے مستقبل کو سنوارنے کی صلاحیت رکھتے ہوں، بہت کم پیدا ہوتے ہیں۔ مگر بدقسمتی سے مٹھا اب ہمارے درمیان نہیں رہا۔ یہ صرف اس کے خاندان کا نقصان نہیں، بلکہ ہم سب کا، اور ہماری پوری قوم کا نقصان ہے۔ یہ ہماری بہت بڑی بدقسمتی ہے کہ ہم نے مٹھا جیسے باصلاحیت، محنتی اور عظیم انسان کو کھو دیا۔

ہم جو اس کے دوست تھے، اس کی جدائی نے ہمیں اندر سے توڑ کر رکھ دیا ہے۔ تو ذرا سوچیں، اس ماں پر کیا گزری ہوگی جس نے اپنے پیارے بیٹے کی بے جان لاش اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھی ہوگی۔ جس نے اسے لاڈ پیار سے پالا، اس کی ہر خواہش کو اپنی خواہش سمجھا اور اس کے روشن مستقبل کے خواب اپنی آنکھوں میں سجائے۔ اپنے جوان بیٹے کو کھونے کا درد شاید دنیا کا سب سے بڑا دکھ ہے۔ مٹھا کی جدائی ہمیں ہمیشہ یاد دلاتی رہے گی کہ ہم نے صرف ایک دوست نہیں، بلکہ ایک ماں کا سہارا، ایک خاندان کی امید اور ایک روشن مستقبل کھو دیا ہے۔

میں مزید اس مہروان، مخلص اور خوبصورت انسان کے بارے میں کیا لکھوں؟ جتنا بھی لکھوں، کم ہے۔ کچھ انسان الفاظ میں بیان نہیں کیے جا سکتے، صرف محسوس کیے جا سکتے ہیں، اور مٹھا بھی انہی لوگوں میں سے ایک تھا۔ اب ہمارے پاس اس کی خوبصورت یادیں، مسکراہٹیں اور ساتھ گزارے ہوئے لمحے ہی باقی ہیں۔ مٹھا، تم ہم سے بچھڑ ضرور گئے ہو، مگر ہمارے دلوں سے کبھی نہیں جاؤ گے۔ تم ہمیشہ اپنی محبت، خلوص اور خوبصورت کردار کے ذریعے ہمارے دلوں میں زندہ رہو گے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔