امید – زامران بلوچ

30

امید

تحریر: زامران بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

ایک عظیم لیڈر کی سب سے بڑی ذمہ داری صرف قوم کی قیادت کرنا نہیں ہوتی، بلکہ ایک منتشر قوم کو ایک واضح مقصد، ایک سمت اور ایک امید دینا ہوتی ہے۔جب کوئی قوم غلامی کے خلاف جدوجہد کر رہی ہو تو اس کے افراد مختلف سوچوں، خوف، ترجیحات اور مفادات میں بٹے ہو سکتے ہیں۔ کوئی مایوس ہوتا ہے، کوئی خوف زدہ، کوئی بے یقینی کا شکار، اور کوئی یہ سمجھنے لگتا ہے کہ آزادی شاید کبھی حاصل نہ ہو سکے۔

ایسے وقت میں ایک عظیم لیڈر قوم کے سامنے صرف ایک نعرہ نہیں رکھتا، بلکہ ایک واضح منزل رکھتا ہے۔ وہ قوم کو بتاتا ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں، ہماری منزل کیا ہے، ہمیں کن مشکلات کا سامنا ہے اور آزادی کے لیے ہمیں کیا قربانی دینی ہوگی۔وہ منتشر لوگوں کو ایک مشترک شناخت اور مقصد کے گرد جمع کرتا ہے۔

اس کی قیادت میں لوگ محض پیروکار نہیں رہتے؛ وہ ایک مقصد کے ساتھی بن جاتے ہیں۔عظیم لیڈر قوم کے اندر یہ احساس پیدا کرتا ہے کہ:ہم مختلف ہو سکتے ہیں، مگر ہماری منزل ایک ہے۔ ہماری مشکلات مختلف ہو سکتی ہیں، مگر ہماری جدوجہد مشترک ہے اور راستہ کتنا ہی طویل کیوں نہ ہو، اگر ہم منظم، ثابت قدم اور متحد رہیں تو منزل حاصل کی جا سکتی ہے۔

ایسے لیڈر کی اصل طاقت اس کے پاس موجود اختیار میں نہیں ہوتی، بلکہ لوگوں کے دلوں میں پیدا ہونے والے یقین میں ہوتی ہے۔ وہ خوف زدہ لوگوں کو حوصلہ دیتا ہے، مایوس لوگوں کو امید دیتا ہے، منتشر لوگوں کو نظم دیتا ہے اور بے سمت جدوجہد کو ایک واضح مقصد میں تبدیل کر دیتا ہے۔

لیکن یہ سفر صرف لیڈر کا نہیں ہوتا۔ ایک قوم سے بھی توقع ہوتی ہے کہ وہ اپنے مقصد کو سمجھے، نظم و ضبط اختیار کرے، اختلافات کو مقصد سے بڑا نہ بننے دے اور مشکل وقت میں اپنی جدوجہد سے منہ نہ موڑے کیونکہ عظیم لیڈر قوم کو منزل دکھا سکتا ہے، راستہ واضح کر سکتا ہے اور لوگوں کو متحد کر سکتا ہے؛ لیکن منزل تک پہنچنے کے لیے قدم پوری قوم کو اٹھانے پڑتے ہیں۔

اسی لیے غلامی سے آزادی کی جدوجہد میں سب سے قیمتی چیز صرف طاقت نہیں ہوتی۔ وہ چیز امید ہوتی ہے۔ اور وہ لیڈر عظیم بن جاتا ہے جو ایک منتشر قوم کو یہ یقین دلا دے کہ: ہم بے سمت نہیں ہیں۔ہم بے بس نہیں ہیں۔ہم اکیلے نہیں ہیں۔ ہماری ایک منزل ہے اور ہمیں وہاں تک پہنچنا ہے۔

جنرل اسلم بلوچ نے قوم کی امید کو زندہ رکھنے کے لیے اپنے لختِ جگر ریحان کے عملی قدم کی حوصلہ افزائی کی اور اپنے ساتھیوں کے اعتماد کو ہمیشہ اولین ترجیح دی۔ یہی وہ کردار اور عمل ہے جس نے انہیں آج اس مقام اور مرتبے پر فائز کیا ہے کہ اسلم بلوچ بننے کے لیے انسان کو بہت کچھ برداشت، سہنا اور عمل کرنا پڑتا ہے۔

جنرل اسلم بلوچ نے طاقت کو ہمیشہ قوم کے تابع رکھا، اور شاید یہی طرزِ عمل انہیں عظمت کی طرف لے گیا۔ ان کی قیادت کی اصل طاقت اختیار میں نہیں بلکہ اپنے لوگوں پر اعتماد، انہیں ساتھ لے کر چلنے اور ان کی صلاحیتوں پر یقین رکھنے میں ہے۔ جب مجھے اس عظیم شخص کے ساتھ چند لمحے گزارنے کا موقع ملا تو یوں محسوس ہوا جیسے ہماری برسوں سے شناسائی ہو۔ ان کی گفتگو، انداز اور رویے میں ایک ایسی اپنائیت تھی جو فاصلے مٹا دیتی ہے۔

میرے نزدیک ایک حقیقی لیڈر کی یہی پہچان ہوتی ہے کہ وہ اپنے ساتھیوں پر بھروسہ کرتا ہے، انہیں محض تابع نہیں سمجھتا بلکہ ان کی رہنمائی کرتا ہے، ان کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اور انہیں اپنے مقصد کا برابر کا شریک بناتا ہے۔ قیادت صرف آگے چلنے کا نام نہیں؛ قیادت اپنے لوگوں کو ساتھ لے کر چلنے، ان پر اعتماد کرنے اور ان کے اندر امید کو زندہ رکھنے کا نام ہے۔

جب کوئی تنظیم قوم کا اعتماد حاصل کرتی ہے اور یہ اعتماد اسے طاقت کے دائرے میں لے آتا ہے، تو اس طاقت کو برقرار رکھنا محض اختیار رکھنے سے ممکن نہیں ہوتا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ قیادت لمحہ بہ لمحہ بدلتے ہوئے حالات سے باخبر رہے، قوم کی آواز سنے، اس کے سوالات اور تنقید کو برداشت کرے اور قومی مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے ایسے فیصلے کرے جو قوم کے اعتماد کو مضبوط کریں۔

طاقت دراصل ایک امانت ہے، اور اس امانت کی بقا کا انحصار اس بات پر ہے کہ اسے کس مقصد کے لیے اور کس حکمتِ عملی کے تحت استعمال کیا جاتا ہے۔ جو قیادت قوم کے اعتماد کو اپنی اصل طاقت سمجھتی ہے، وہ اپنے فیصلوں میں عوامی احساسات، زمینی حقائق اور مستقبل کے تقاضوں کو نظرانداز نہیں کرتی۔

قوم کے نوجوانو!

آج ہمیں اپنے عظیم شہداء کے پاک لہو کی لاج رکھتے ہوئے، ان کی قربانیوں کے مقصد اور حاصلِ جدوجہد کو سامنے رکھنا ہوگا۔ ایک آزاد اور باوقار وطن کے خواب کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے ہمیں اپنے کردار، اتحاد اور عمل کو مضبوط کرنا ہوگا۔

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ شہداء کی قربانیاں محض تاریخ کا حصہ نہیں بلکہ ہمارے لیے ایک ذمہ داری بھی ہیں۔ اس ذمہ داری کا تقاضا ہے کہ ہم مایوسی کے بجائے امید، انتشار کے بجائے اتحاد اور بے سمتی کے بجائے واضح مقصد کا راستہ اختیار کرتے ہوئے جنرل اسلم بلوچ کے عظیم کاروان بی ایل اے اور کماش بشیر زیب کا ہاتھ مضبوط کریں ۔ تاکہ ہم اس غلامی کی سیاہ اور بھیانک رات سے نکل کر آزادی، امن اور روشن مستقبل کی صبح میں داخل ہو سکیں۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔