یمن میں سوموار کے روز لڑائی میں مزید شدت آ گئی ہے جہاں سعودی عرب کی حمایت یافتہ حکومتی فورسز نے صوبہ تعز میں پیش رفت کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے اس کی فورسز نے المخا شہر اور آبنائے باب المندب کے قریب بعض مقامات کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔
دوسری جانب حوثیوں نے بھی سعودی عرب کے اندر نئے حملوں کا اعلان کیا ہے، جبکہ اسی دوران ریاض کی قیادت میں قائم اتحاد نے حوثیوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں میں اضافہ کر دیا ہے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی جانب سے ’یمن ڈان‘ (یمن کی سحر) نامی ایک بڑے فوجی آپریشن کے آغاز کا اعلان کیا ہے۔
یمنی حکومتی خبر رساں اداروں نے ایک فوجی ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ سعودی قیادت میں قائم اتحاد کی فضائی مدد سے حکومتی حامی فورسز نے شدید لڑائی کے بعد تعز کے مغرب میں واقع ساحلی شہر المخا کا کنٹرول سنبھال لیا۔
یمن کے وزیرِ اطلاعات معمر الاریانی کا کہنا ہے کہ حکومتی فورسز نے باب المندب کے قریب واقع ہوائی اڈے کا بھی کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔
تاہم حوثیوں نے ان دعوؤں کی تردید کی ہے۔ انصار اللہ کے سیاسی بیورو کے رکن حزام الاسد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومتی فورسز کی پیش رفت، خاص طور پر تعز میں، سے متعلق اطلاعات ’غلط‘ ہیں۔
گروہ سے وابستہ ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا کہ ان کی فورسز نے تعز صوبے کے المعافر اور المواسط اضلاع سے حکومت نواز جنگجوؤں کو پسپا کر دیا ہے۔
اس کے علاوہ سعودی قیادت والے اتحاد نے حوثیوں کے خلاف اپنی فضائی اور بحری کارروائیوں میں بھی توسیع کی ہے۔
اتحاد کا کہنا ہے کہ اس نے بحیرۂ احمر کے ساحلی شہر الحدیدہ میں حوثیوں کے فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔
اتحاد نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ اس کی بحری افواج نے اسلحے کے گوداموں اور بارودی مواد سے بھرے گئے کشتیوں اور بحری سرنگوں کے ذخیرہ مراکز کو تباہ کیا۔
دوسری جانب حوثیوں کے زیرِ انتظام خبر رساں ادارے سبا کا کہنا ہے کہ سوموار کو دارالحکومت صنعا پر ہونے والے حملوں میں دو خواتین ہلاک جبکہ بچوں سمیت سات افراد زخمی ہوئے۔
حوثیوں کا سعودی عرب پر تازہ حملوں کا دعویٰ
حوثیوں کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس نے سعودی عرب کے اندر تین فوجی کارروائیاں کی ہیں، جن میں ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے، رابغ میں آرامکو کی ایک آئل ریفائنری، ابھا بین الاقوامی ہوائی اڈے اور خمیس مشیط کے فوجی اڈے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
سعودی عرب کی جانب سے ان حملوں کی فوری طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ یہ دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا جب خبر رساں ادارے اے ایف پی اور کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب رہائشیوں کے مطابق ریاض کے شمالی علاقے میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
حوثی گروہ نے شہری ایئر لائنز کو سعودی فضائی حدود استعمال کرنے سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مکہ اور مدینہ کی فضائی حدود کے علاوہ سعودی عرب کی فضائی حدود اس کی فورسز کے نشانے پر ہیں۔



















































