اشتباك
تحریر: سنگت ھانلی
دی بلوچستان پوسٹ
صقر !! ۔۔۔
یہ عذاب تمہیں کیوں گراں گزرتا ہے ؟
آخر تم ہی تو تھے،
جو افلاک سے اتر کر
میرے دامِ خاک میں آ ٹھہرے تھے،
اور میرے اندر
اُس مہر کی جستجو کرتے تھے
جس سے میرا وجود نا آشنا تھا۔۔۔
مگر میں
مہر کا مسکن تھی ہی کب؟
کیا عجب رسوائی ہے ؟
کتنا مضحکہ خیز ہے ؟
کہ جسے افلاک کی وسعتیں میسر تھیں،
وہ اُس کے دام میں گرفتار ہوا
جس کے پاس
پر بھی نہ تھے،
پرواز کا ہنر تو درکنار،
اڑنے کا استحقاق بھی نہ تھا۔۔۔
میں نے تمہیں آسمان میں دیکھا ہے،
بلند تھے تم،
ہاں بے حد بلند۔۔۔
افسوس !!
کہ بےنیاز و آزاد تھے تم۔۔
تمہیں قریب سے دیکھ پانا
کبھی میرے لیے
ایک ناممکن آرزو تھا۔۔۔
مگر اب۔۔
تم کیسے آگئے؟
ایک زہریلے ناگ کے پاس۔۔
تم؟
جسے افلاک سے گزرنے کی آزادی تھی؟
اُس سے شکست کھا گئے۔۔
جو ازل سے خاک کا اسیر تھا ؟
کتنی مضحکہ خیز بات ہے صقر !!
تم آسمانوں کی بلندیوں تک اڑتے رہے
اور پھر
میری ایک دروغ آمیز مسکراہٹ پر
اپنی پرواز ہار گئے ؟
تمہیں کیا خبر ۔۔۔
تم پرواز میں کتنے حسین ہو صقر۔۔
مگر اس سے کہیں زیادہ حسین
تب لگتے ہو ۔۔۔
جب تمہارے پر
تمہیں اڑانے کے قابل نہ رہیں۔۔۔
جب تم ۔۔ میرے مہر کے
محتاج ہوجاؤ۔۔
رات کے سیاہ پردوں میں
ایک منحوس محبت پرواز کرتی ہے،
ایک سیاہ پرندہ
ایک زہریلے ناگ کی آغوش میں
پھڑپھڑاتا ہے
یہ محبت ہے؟
نہیں،
یہ ایک پیچیدہ رقص ہے،
شہوت اور رسوائی کی عکس ہے،
دو دل ہیں ۔۔
جو ایک ہی لے پر دھڑکتے ہیں،
مگر دونوں کے اندر
سردی اتر چکی ہے۔۔۔
میں نے تمہیں
سب کچھ دینے کا وعدہ کیا تھا،
مگر آزادی؟
نہیں۔
تمہیں دنیا دے سکتا ہوں،
اپنی تمام چاہتیں،
اپنی تمام عمر،
مگر تمہاری رہائی نہیں۔
دیکھو، جانِ من،
تم چاہے
کتنا ہی بلند کیوں نہ اڑو،
آخرکار
تمہیں میرے پاس ہی لوٹنا ہے۔۔۔
آسمان تمہارا ہو سکتا ہے،
پرواز تمہاری ہو سکتی ہے،
افق تمہارا ہو سکتا ہے،
مگر واپسی ۔۔۔
واپسی ہمیشہ میری ہوگی.
۔۔۔
صقر اور ناگ کو کینوس پہ اتار کر ان کا متوقعہ مکالمہ سوچ ہی رہی تھی کہ تم سوال کرتی ہو اور مجھے اپنے رنگین ہاتھوں کو کینوس سے ہٹا کر تمہیں مڑ کہ دیکھنا پڑھتا ہے۔
“ کافکا یا دوستوئیفسکی؟ “
مُجھ سے چننے کےلیے کہا جارہا ہے؟ اُسے جو عبثیت میں معنویت ڈھونڈتا ہے؟ یا اُسے وہ جو معنویت میں عبثیت۔۔۔؟
“کافکا یا دوستوئیفسکی؟”
پھر مجھے اپنی نظریں اٹھانی پڑتی ہیں، اپنی کڑوی سیاہ چاہ سے، ساتھ پڑھی اُس کتاب سے ،جس کے نئے کاغذ کی خوشبو میری رگوں میں نکوٹین کی طرح دوڑ رہی ہے، اور میں تمہیں دیکھتی رہ جاتی ہوں۔ یہ سوچ کر کہ تم آخر کس جواب کی توقع رکھی ہوئی ہو ؟
رنگوں سے دست کش ہو جاؤں، سامنے رکھی گرم سیاہ چائے کو بے لذت ٹھنڈا ہونے دوں، سگریٹ کے درمیانی کش پر ہی اس کی راکھ جھاڑ دوں، مدتوں بعد ذہن کی تہوں میں جنم لینے والے خیال کو بھی کاغذ تک پہنچنے سے باز رکھوں، اپنی تمام ضروریات، تمام التوائی امور، تمام منتشر افکار کو عارضی طور پر معطل کر دوں، محض اس ایک سوال کی تہہ تک اترنے کے لیے کہ کافکا اور دوستوئیفسکی میں سے کس ایک کو اپنے فکری آسمان پر جگہ دوں، اور کس ایک کے سامنے دوسرے سے دست بردار ہو جاؤں۔
مگر میں کیسے چنوں؟
مگر میں کیوں چنوں؟
جتنا میں اس انتخاب کے قریب جاتی ہوں، اتنا ہی محسوس ہوتا ہے کہ تم مجھ سے میری قید کی نوعیت کو منتخب کرنے کو کہہ رہی ہو۔۔۔ کیا میں وہ قیدی ہوں جسے کسی اور نے قید کیا ہے؟
یا وہ صقر جس کی زوال اُس کے اندر سے پھوٹی؟
مگر دونوں صورتوں میں میں قیدی ہی رہتی ہوں۔
یہ دوستوئیفسکی ہے۔
پھر جب وہ میرے پاس آ پہنچا تو اسے معلوم ہوا کہ جس راستے سے وہ آیا تھا، وہ اس کے پیچھے بند ہو چکا ہے۔ اب سامنے ایک ایسی دنیا تھی جس کا اپنا قانون تھا، مگر اس قانون سے بحث کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ محبت سے باہر نکلنے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔ دروازہ تھا، مگر واپسی نہیں تھی۔
یہ کافکا ہے۔
ایک نے اسے قید میں داخل ہوتے دیکھا، دوسرے نے قید کا دروازہ بند ہوتے دیکھا۔
تو پھر کافکا یا دوستوئیفسکی؟
نہیں۔
یہ دو راستے نہیں ہیں۔
یہ ایک ہی ٹریپ کے دو مرحلے ہیں۔
یہ ایک ہی دام کے دو حصے ہیں۔
میرے دونوں جواب مجھے قید کردینگے۔
سامنے کی نشست پہ نظر پڑی تو وہ خالی تھی، کیفے کی گھڑی چھے بجا چکی تھی، اور دروازوں کے بند ہونے کا وقت قریب تھا۔ کتاب، کاغذ سمیٹ کر میں سڑک کی طرف چل دی۔ باہر صرف ایک میں تھی۔
۔۔۔
شہر کی بلند فصیلوں کی اینٹوں پر گھاس اُگ آئی ہے، اُنہی کے درمیان کہیں کہیں زرد بلب جل رہے ہیں۔ قریب بہتے جھرنے کا شور، اُس میں گھلتی کیڑے مکوڑوں کی آوازیں، اور ہر قدم کے نیچے چرچراتے پتّے۔۔۔
پھر میرے گلے سے ایک آواز ابھرتی ہے۔۔۔ بلند آواز میں عہدِ حاضر کے دیوتائے حسن و مہر کے قلم سے لکھا ایک شعر ۔۔
“ایروس” ہبکّہ گُنگ چُپ مون ئٹ مریدی عشقنا
مہر آتے ہانُل نا خنا “افرودیتی” باہ خٹ سلو
اب ایک ایسا شاعر جو ہر لفظ ناپ تول کر لکھتا ہو، جس کے ہر مصرعے کے پیچھے دانائی، ہر رباعی میں اسباق ، ہر شعر میں برسوں کے افکار، ہر ساز میں ہزاروں سُر اور ہر سُر میں نہایت باریکی سے پروئے الفاظ ہوتے ہوں۔
وہ ایروس کو ہکا بکا کہہ رہا ہے۔ وہ کہہ رہا ہے کہ مریدی عشق کے آگے ایروس گنگ رہ جاتا ہے۔ ایروس؟ وہی جسے یونانی اساطیر میں عشق کا دیوتا مانا گیا؟ جس کے دم سے محبت جنم لیتی ہے، اسی کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ مریدی عشق کو دیکھ لے تو دم بخود رہ جائے۔ آدمی ہکا بکا اور گنگ تب ہوتا ہے جب سامنے آنے والا اس سے برتر ہو۔ یعنی مریدی مہر ایروس کے مہر سے بڑھ کر ہے۔
ہاں، بلاشبہ مریدی محبت ایروس کی محبتوں سے بہتر ہے۔
ایروس کون ہے؟
پلیٹو کی symposium ایک ایسی کتاب ہے جس میں محبت کے مفہوم پر مختلف فلسفیوں کی گفتگو ایک ہی مجلس میں جمع ہوتی ہے۔ ہر شخص محبت کو اپنے زاویۂ نظر سے دیکھتا ہے، اس کی تعریف کرتا ہے، اس کی حقیقت تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے۔
ایروس، یونانی اساطیر میں محبت کا دیوتا۔ وہ دیوتا جس سے محبت نے جنم لیا۔ اگاتھون اُس مجلس میں کہتا ہے کہ ایروس تو تمام دیوتاؤں میں سب سے حسین، سب سے جوان اور سب سے نازک ہے۔ مگر سقراط اُس کی بات کاٹ دیتا ہے۔ وہ ایروس کو خود حسن نہیں مانتا۔ وہ دیوتیما کی دی ہوئی تعلیمات کو سُنا کر کہتا ہے کہ ایروس افلاس و غربت کی اولاد ہے۔۔
تو پھر محبت کہاں سے پیدا ہوئی؟
کیا محبت کبھی fulfilment سے آئی ہی نہیں؟
کیا محبت کی پہلی سانس ہی کسی کمی سے نکلی تھی؟
کیا جسے ہم محبت کہتے ہیں، وہ دراصل کسی ایسی شے کی طلب ہے جو ہمارے پاس نہیں؟
دیوتیما کے نزدیک ایروس دیوتا نہیں، بلکہ دیوتاؤں اور انسانوں کے درمیان ایک درمیانی ہستی ہے۔ وہ نہ مکمل حسین ہے، نہ بدصورت۔ نہ دانا ہے، نہ جاہل۔ وہ جس چیز کا مالک نہیں، اسی کی طلب میں رہتا ہے۔ جس حسن سے محروم ہے، اسی کی جستجو کرتا ہے۔ کیونکہ جو شخص کسی شے کو مکمل طور پر پا چکا ہو، اسے پھر اس کی طلب کہاں رہتی ہے؟ جستجو ہمیشہ کمی سے جنم لیتی ہے۔ انسان اسی چیز کے حصول کے لیے کوشاں ہوتا ہے جو اس کے پاس نہیں، اور محبت بھی تو طلب کا دوسرا نام ہے۔ کوئی صحت مند آدمی صحت کی خواہش نہیں کرتا۔ تو ایروس حسن کا طالب ہے، اس لیے خود حسین ہو ہی نہیں سکتا۔
انسان کبھی دہرے وجود تھے جو چیر دیے گئے، اور مہر اُس گمشدہ نصف کی تلاش ہے۔ پھر مہر کی سیڑھی آتی ہے۔۔۔ ایک حسین جسم سے سب جسموں تک، پھر روح، پھر قوانین اور علوم، اور آخر میں حسنِ مطلق تک۔مہر الٰہی جنون کی ایک قسم ہے، اور روح دو گھوڑوں والے رتھ اور پروں کی تمثیل۔
تو پھر کیا ناگ محض ظالم ہے؟
نہیں۔
اس کی سنگ دلی اپنی جگہ، اس کا جبر اپنی جگہ، لیکن ناگ مفلس ہے، اور اس کی سفاکی بس اتنی ہی ہے جتنی افلاس کی ہوتی ہے۔ اس نے زمین کے سوا کچھ دیکھا نہیں، آزاد مہر سے اس کی کبھی ملاقات نہیں ہوئی۔ جس کے پاس ایک ہی سکہ ہو، اس کے لیے ہر سوال یا یہ بن جاتا ہے یا وہ۔ اسی لیے وہ مہر یا آزادی پوچھتا ہے، اور اسی لیے مجھ سے کافکا یا دوستوئیفسکی پوچھا گیا۔ دو راستے وہی دکھاتا ہے جس کے پاس تیسرا راستہ افورڈ کرنے کو کچھ نہ ہو۔ ناگ کو صقر چاہیے، کیونکہ صقر کے پاس وہ سب کچھ ہے جو اس کے پاس نہیں۔ پرواز، وسعت، آزادی، آسمان۔۔ وہ مفلسی سے صقر کو چاہتا ہے۔۔
جس دن ناگ فراوانی کو پہچان لے گا، اسے معلوم ہوگا کہ اس کے پاس تھامنے کے سوا بخشنے کو بھی کچھ ہے، اور اس دن اس کی محبت کی گرفت کھل جائے گی۔
لیکن اب مریدی مہر ان سب سے الگ ہے۔۔۔
اسے تھامنے کی حاجت نہیں، پانے کی ہوس نہیں، وہ دینے کی تڑپ ہے۔
yearning to give
ایروس کہتا ہے تم میری ہو، ناگ کہتا ہے واپسی میری ہوگی، مگر یہ مہر کہتی ہے کہ تم آزاد ہو۔ وہ نہ مٹھی کھولنے کی شرط رکھتی ہے، نہ مٹھی بند کرنے کی۔ یہ قید سے چھڑانے کی مہر ہے، اسی لیے ایروس اس کے سامنے گنگ رہ جاتا ہے اور اساطیر کے سب دیوتا سر جھکا لیتے ہیں۔ ان کی محبتیں کمی سے جنمی تھیں اور اپنی کمی کو بھرنے کے لیے دوسرے کو مانگتی تھیں، جبکہ یہ محبت اپنے سارے وجود کو لٹا کر بھی کچھ واپس نہیں مانگتی۔
ہیفیستوس کی بھٹی کی آگ اس آگ کے آگے ماند ہے، جب وہ آخری گولی کے فلسفے پر عمل سے پہلے اپنی آنکھیں وطن کے آسمان پر ٹھہراتا ہے، تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ یہی آسمان ہے جس کے لیے صقر نے پرواز سیکھی تھی اور جسے ناگ کبھی دیکھ نہ سکا۔ جب فدائی جانے سے پہلے آخری بار ہاتھ ہلاتا ہے، تو وہ ایک کھلی ہتھیلی ہوتا ہے، وہی ہتھیلی جسے ناگ نے کبھی کھولنا نہ سیکھا۔ جب سپاہی گھر سے نکلتے ہوئے سوئی ہوئی ماں کو آخری بار دیکھتا ہے، تو وہ اسے جگاتا نہیں، کیونکہ جاگتی آنکھوں کے سامنے جانا تکلیف کا باعث ہے۔
یہاں واپسی کا مطالبہ کرنے والا کوئی نہیں۔ جانے والا لوٹے یا نہ لوٹے، اس کی آزادی میں کوئی شرط نہیں بندھی۔ یہی فنا ہے۔۔
اگلے دن پھر وہی کیفے، وہی میز، وہی کڑوی سیاہ چاہ، اور اس بار میز پر دو کتابیں ساتھ ساتھ رکھی تھیں، کافکا کی میٹامورفوسس اور دوستوئیفسکی کی دی ایڈیٹ۔
آزاد مہر ۔۔۔
پُلس نی کس آن جہان ءِ اونا مفیس چاکر
گچین ءِ نیکن جہان ءِ ہلے مرک مرید ہس
سمال ~
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔



















































