بلوچستان آپریشن: پاکستانی فوج کا 71 سے زائد مسلح افراد کو مارنے کا دعویٰ، تمپ واقعے پر متضاد مؤقف

84

پاکستان فوج نے اتوار کو ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فورسز نے رواں ہفتے بلوچستان میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیوں کے دوران 70 سے زائد عسکریت پسندوں کو مار دیا۔

فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے دعوے کے مطابق، فورسز نے بلوچستان کے ضلع نوشکی میں 11، جبکہ مند میں مزید چھ عسکریت پسندوں کو مارا۔

مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ اہلکاروں نے ’آپریشن شعبان‘ کے تحت بلوچستان کے اضلاع کوئٹہ اور زیارت میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیاں کیں، جن میں 21 ستمبر سے اب تک 33 عسکریت پسند مارے جا چکے ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ گزشتہ 96 گھنٹوں کے دوران ’آپریشن شعبان‘ اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں 71 سے زائد دہشت گرد مارے جا چکے ہیں۔

واضح رہے کہ ضلع کیچ کے علاقے تمپ میں گزشتہ دنوں پاکستانی فورسز نے ایک ڈرون حملے میں چار افراد کو مارا تھا، جو پہاڑی علاقے میں پکنک منا رہے تھے۔ لواحقین اور مقامی سیاسی جماعتوں کے مطابق، وہ نہتے شہری تھے، لیکن فورسز نے انہیں مار کر مسلح افراد ظاہر کیا۔ اس کارروائی کے بعد مقامی افراد کی جانب سے پاکستانی فورسز کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

جبکہ مرکزی جمعیت اہلِ حدیث بلوچستان کے سرپرستِ اعلیٰ مولانا عبدالغنی زامرانی نے کہا کہ تمپ میں پکنک پر جانے والے مرکزی جمعیت اہلِ حدیث تمپ کے رہنما اور ویوسی کلگ تگران کے وائس چیئرمین زبیر نواب تگرانی سمیت دیگر ساتھیوں کو ڈرون حملے کے ذریعے نشانہ بنایا گیا ہے۔ پاکستانی فورسز کی جانب سے اپنے کیے پر پچھتانے کے بجائے پردہ ڈالنے کے لیے نہتے لوگوں کو دہشت گرد بنا کر پیش کرنا ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل زیرِ حراست جبری لاپتہ بلوچوں کو بھی قتل کرکے انہیں مسلح افراد ظاہر کیا گیا ہے۔