پاکستانی فورسز کا بلوچستان میں آپریشن کے دوران 17 مسلح افراد کو مارنے کا دعویٰ

29

پاکستانی فورسز نے مختلف علاقوں میں آپریشن کے دوران 17 افراد کو مارنے کا دعویٰ کیا ہے۔

پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ “آئی ایس پی آر” کے دعوے کے مطابق پاکستانی فورسز نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے اور مبینہ طور پر مسلح تنظیموں سے تعلق رکھنے والے 17 افراد کو ہلاک کردیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ میں مسلح افراد کی موجودگی کی اطلاعات پر کارروائیاں کی گئیں۔

پاکستانی فورسز کے دعوے کے مطابق مارے جانے والے مسلح افراد کے قبضے سے اسلحہ، بارودی مواد اور تیار شدہ دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈیز) بھی برآمد کیے گئے ہیں، فورسز کے مطابق مارے گئے افراد پاکستانی فورسز پر حملوں اور دیگر مسلح کارروائیوں میں ملوث تھے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق متاثرہ علاقوں میں کلیئرنس اور سینیٹائزیشن کا عمل تاحال جاری ہے۔

یاد رہے کہ بلوچستان کے علاقوں قلات، مستونگ اور دیگر علاقوں میں گزشتہ کئی روز سے فوجی آپریشن کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں، جبکہ اس دوران پاکستانی فورسز اور مسلح افراد کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

پاکستانی فورسز نے زہری میں آپریشن کے دوران بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنما سردار نصیر موسیانی کے گھر پر چھاپہ مارا اس دوران سردار نصیر موسیانی اور ان کے ایک بیٹے کو اپنے ہمراہ لے گئیں، جبکہ ایک اور بیٹا تشدد اور فائرنگ سے زخمی ہوگیا۔

پاکستانی فورسز کے دعووں میں مارے جانے والے مسلح افراد کی ہلاکتوں کی تصدیق تاحال مسلح تنظیموں کی جانب سے نہیں کی گئی ہے.

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی پاکستانی فورسز نے متعدد مواقعوں پر آپریشن کے دوران مسلح تنظیموں کے ارکان کو مارنے کا دعویٰ کیا ہے، تاہم بعد ازاں ان مارے جانے والوں کی شناخت پہلے سے پاکستانی فورسز کے زیر حراست لاپتہ افراد کے طور پر ہوئی ہے۔

پاکستانی فورسز نے حالیہ آپریشن میں مارے جانے والوں کی شناخت کے حوالے سے تاحال تفصیلات فراہم نہیں کئے ہیں۔