تمپ میں ڈرون حملے سے چار نوجوان جاں بحق، بی وائی سی کا آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ

31

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے تمپ کے علاقے بالیچاہ میں پاکستانی فوج کے ڈرون حملے میں چار بلوچ نوجوانوں کی ہلاکت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کی آزادانہ تحقیقات اور ذمہ داروں کے احتساب کا مطالبہ کیا ہے۔

بی وائی سی کے مطابق جانبحق ہونے والوں میں سمیر ولد عبدالخالق، یاسر ولد محمد کریم، زبیر ولد نواب اور دیدگ ولد محمد عمر شامل ہیں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ سمیر اور یاسر بالیچا، تمپ کے رہائشی تھے، جبکہ دیدگ کا تعلق تمپ کے رئیس آباد سے تھا۔

بی وائی سی کے مطابق چاروں نوجوان دوستوں اور رشتہ داروں کے ہمراہ پکنک کے لیے گئے تھے اور روانگی سے قبل پاکستانی فوج کو اپنے مقام اور نقل و حرکت سے آگاہ کیا تھا۔ تنظیم کا مؤقف ہے کہ اس اطلاع کے باوجود ان کے اجتماع کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں چاروں جان سے گئے۔

بی وائی سی نے کہا کہ شہریوں کی جانب سے اپنی نقل و حرکت سے متعلق فوج کو اطلاع دینا اگر ریاستی ہدایات کی تعمیل تھی تو ایسی اطلاع کے بعد اسی مقام پر حملہ کرنا انتہائی سنگین معاملہ ہے۔ تنظیم نے اس واقعے کو محض حادثہ یا جنگی نقصان قرار دینے کے بجائے ایک ایسے منظم طرزِ عمل کا حصہ قرار دیا جس میں بلوچ شہریوں کی جانیں خطرے میں ہیں۔

تنظیم نے مزید کہا کہ ہلاک ہونے والے نوجوان کسی مسلح کارروائی میں شامل نہیں تھے بلکہ اپنے معمول کے روزگار اور زندگی سے وابستہ افراد تھے۔

بی وائی سی نے کہا کہ بلوچستان میں شہریوں کے خلاف فضائی کارروائیوں اور دیگر واقعات کو الگ الگ واقعات کے طور پر دیکھنے کے بجائے ان کے مجموعی تناظر کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔

بی وائی سی نے عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں، اقوام متحدہ، صحافیوں اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ تمپ کے اس واقعے کی آزادانہ تحقیقات کرائی جائیں، شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں اور سمیر، یاسر، زبیر اور دیدگ کی ہلاکت کے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے۔

تنظیم نے عالمی برادری سے بلوچستان میں بلوچ شہریوں کی ہلاکتوں پر خاموشی ختم کرنے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لینے کا بھی مطالبہ کیا ہے