بی ایل اے نے مختلف محاذوں پر جانبحق 10 سرمچاروں کی تفصیلات جاری کردیں

265

بلوچ لبریشن آرمی نے مستونگ، قلات اور پنجگور کے مختلف محاذوں پر جانبحق ہونے والے اپنے 10 ساتھیوں کی تفصیلات تنظیم کے آفیشل چینل ’ہکل‘ پر شائع کردی ہیں۔

عرفان مینگل عرف خلیل

بی ایل اے کے مطابق غریب آباد نوشکی سے تعلق رکھنے والے عرفان مینگل عرف خلیل ولد رمضان مینگل نے رواں سال تنظیم میں شمولیت اختیار کی اور اپنی فوجی ذمہ داریوں کا آغاز مستونگ کے محاذ سے کیا۔

تنظیم کے مطابق عرفان مینگل نے ابتدائی فوجی تربیت کے لیے ٹریننگ کیمپ جوائن کیا، جہاں انہوں نے محنت و مشقت کے ساتھ مختلف تربیتی کورسز میں حصہ لیا، تربیتی کورسز مکمل کرنے کے بعد انہیں تنظیمی گشت کے سلسلوں میں شامل کیا گیا۔

بی ایل اے کا کہنا ہے کہ تربیت کے دوران وہ ان نوجوانوں میں شامل رہے جو دلچسپی اور محنت کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے خود کو عملی میدان کے لیے تیار کرتے ہیں۔

تنظیم کے مطابق عرفان مینگل نے بعدازاں مستونگ کے کھڈکوچہ کے مقام پر اپنے ساتھیوں کے ہمراہ مختلف جنگی کارروائیوں میں حصہ لیا، جہاں بی ایل اے کے بقول پاکستانی فورسز کو نقصانات کا سامنا کرنا پڑا وہ دیگر سرمچاروں کے ساتھ علاقے میں متحرک کردار ادا کرتے رہے، عرفان مینگل نے 6 ستمبر 2026 کو کھڈکوچہ، مستونگ میں فورسز کے ساتھ ایک براہِ راست جھڑپ کے دوران شہید ہوئے۔

رفیع اللہ گرگناڑی عرف تنویر

مستونگ کے کلی قاری سور سے تعلق رکھنے والے رفیع اللہ گرگناڑی عرف تنویر ولد سیف اللہ گرگناڑی نے اکتوبر 2024 میں شہری گوریلا کے طور پر بی ایل اے میں شمولیت اختیار کی، جبکہ اکتوبر 2025 میں انہیں پہاڑی محاذ پر منتقل کیا گیا۔

تنظیم کے مطابق رفیع اللہ گرگناڑی نے بلوچ قومی آزادی کے مقصد سے فکری و نظریاتی تعلق قائم کرنے کے بعد مسلح مزاحمت میں شمولیت کا فیصلہ کیا، تنظیمی احکامات کے تحت انہوں نے اپنی قومی اور گوریلا سرگرمیوں کا آغاز شہری محاذ سے کیا، جہاں وہ فورسز کی نگرانی، اہم معلومات کی فراہمی اور جنگی کارروائیوں کے لیے ریئل ٹائم انٹیلی جنس فراہم کرنے کی ذمہ داریاں انجام دیتے رہے۔

بی ایل اے کے مطابق رفیع اللہ گرگناڑی نے شہری محاذ پر ایک سال تک مسلسل کام کیا، جس کے بعد تنظیمی احکامات پر انہیں پہاڑی محاذ پر منتقل کیا گیا، تربیت مکمل کرنے کے بعد وہ جنگی لائنز کا حصہ بنے اور گزشتہ ایک سال کے دوران مستونگ میں مختلف فوجی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ تنظیمی سرگرمیوں کے دائرہ کار کو وسعت دینے میں بھی کردار ادا کرتے رہے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ رفیع اللہ گرگناڑی نے کھڈکوچہ کے مقام پر فورسز کے خلاف متعدد کارروائیوں میں اپنے ساتھی سرمچاروں کے ساتھ حصہ لیا، وہ قومی اور تنظیمی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے 6 ستمبر 2026 کو کھڈکوچہ، مستونگ میں شہید ہوئے۔

امیر عباس کرد عرف ساجد

مستونگ کے علاقے مروْ سے تعلق رکھنے والے امیر عباس کرد عرف ساجد ولد بہار کرد نے جون 2024 میں شہری گوریلا کے طور پر بی ایل اے میں شمولیت اختیار کی، جبکہ اپریل 2026 میں انہیں پہاڑی محاذ پر منتقل کیا گیا، انہوں نے قلات اور مستونگ کے محاذوں پر ذمہ داریاں ادا کیں۔

بی ایل اے کے مطابق امیر عباس کرد نے پاکستانی فورسز کے زیرِ حراست چار ماہ تک بدترین تشدد اور اذیت برداشت کی، رہائی کے بعد انہوں نے قومی آزادی کو بلوچ قومی اجتماعی زندگی کا آخری مقصد سمجھتے ہوئے 2024 میں تنظیم میں شمولیت کا فیصلہ کیا۔

تنظیم کے مطابق شمولیت کے بعد امیر عباس کرد نے شہری محاذ پر اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں، جہاں انہوں نے شہری گوریلا کے طور پر اہم کام انجام دیے اور متعدد مرتبہ تنظیم کو ضروری معلومات فراہم کیں، جو تنظیمی آپریشنل سرگرمیوں میں استعمال ہوئیں۔

بی ایل اے کا کہنا ہے کہ امیر عباس کرد نے شہری محاذ پر تقریباً دو سال تک کام کرنے کے بعد رواں سال جنگی محاذ میں شمولیت اختیار کی، تربیت مکمل کرنے کے بعد انہیں جنگی لائنز میں فعال کیا گیا، جہاں وہ گزشتہ چند ماہ سے جنگی ذمہ داریاں ادا کر رہے تھے، انہوں نے پہلے قلات اور بعدازاں مستونگ کے محاذ پر کارروائیوں میں حصہ لیا۔

تنظیم کے مطابق امیر عباس کرد نے 19 ستمبر 2026 کو شیرناپ، مستونگ میں جنگی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے دوران شہید ہوئے۔

عبدالحلیم محمد شہی عرف دانش

قلات کے علاقے کوہک سے تعلق رکھنے والے عبدالحلیم محمد شہی عرف دانش ولد کرم خان محمد شہی نے رواں سال بی ایل اے میں شمولیت اختیار کی اور مستونگ کے محاذ پر ذمہ داریاں ادا کیں۔

تنظیم کے مطابق عبدالحلیم محمد شہی نے قومی آزادی کے مقصد کے تحت بی ایل اے کے پلیٹ فارم سے اپنی سرگرمیوں کا آغاز کیا، شمولیت کے بعد انہیں کیمپ منتقل کیا گیا، جہاں انہوں نے جنگی ہنر، صلاحیتوں اور فکری و انقلابی تربیت کے لیے مختلف تربیتی مراحل میں حصہ لیا۔

بی ایل اے کے مطابق عبدالحلیم محمد شہی نے 19 ستمبر 2026 کو شیرناپ، مستونگ میں فورسز کے خلاف جنگی ذمہ داریوں کے دوران شہید ہوئے۔

حکمت اللہ لہڑی عرف فہد

کوئٹہ کے کلی باریزئی سے تعلق رکھنے والے حکمت اللہ لہڑی عرف فہد ولد عبدالباقی لہڑی نے رواں سال بی ایل اے میں شمولیت اختیار کی، شمولیت کے بعد انہیں جسمانی، ذہنی، اخلاقی اور انقلابی تربیت کے لیے تربیتی کیمپ منتقل کیا گیا۔

بی ایل اے کا کہنا ہے کہ حکمت اللہ لہڑی نے تربیتی کیمپ میں جنگی نظم و ضبط، ڈسپلن، احساسِ ذمہ داری اور جسمانی تربیت سمیت مختلف بنیادی تربیتی کورسز مکمل کیے، جس کے بعد انہیں جنگی لائنز پر منتقل کیا گیا وہ مستونگ کے محاذ پر ایک فعال اور متحرک جنگجو کے طور پر ذمہ داریاں ادا کرتے رہے۔

تنظیم کے مطابق حکمت اللہ لہڑی نے مستونگ میں فورسز کی پیش قدمیوں کو نشانہ بنانے، ان کے قافلوں پر حملوں، سپلائی چین کو متاثر کرنے، تنظیمی سرگرمیوں کے دائرہ کار کو وسعت دینے اور مختلف آپریشنل کارروائیوں میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ حصہ لیا۔

بی ایل اے کا کہنا ہے کہ حکمت اللہ لہڑی نے 19 ستمبر 2026 کو شیرناپ، مستونگ میں جنگی کارروائی کے دوران شہید ہوئے۔

محمد نسیم لہڑی عرف گروک

مستونگ کے کلی فاروق آباد سے تعلق رکھنے والے محمد نسیم لہڑی عرف گروک ولد غلام فاروق لہڑی، جو بی ایس سی تک تعلیم یافتہ تھے، نے رواں سال بی ایل اے میں شمولیت اختیار کی اور مستونگ کے محاذ پر ذمہ داریاں ادا کیں۔

تنظیم کے مطابق محمد نسیم لہڑی نے قومی خودمختاری کی اہمیت اور قبضے کی تاریخی حقیقت کو سمجھنے کے بعد قومی مزاحمت اور مسلح جدوجہد میں شمولیت کا فیصلہ کیا، انہوں نے بی ایل اے کے پلیٹ فارم سے اپنی جنگی خدمات کا آغاز مستونگ سے کیا، جہاں ابتدائی طور پر جسمانی، اخلاقی اور انقلابی تربیت حاصل کی، جس کے بعد انہیں جنگی لائنز میں فعال کیا گیا۔

بی ایل اے کا کہنا ہے کہ محمد نسیم لہڑی نے جنگی محاذ پر فورسز کے خلاف مختلف فوجی کارروائیوں میں حصہ لیا، ایک تعلیم یافتہ نوجوان کی حیثیت سے انہوں نے اپنی علمی اور تعلیمی صلاحیتوں کو تنظیمی انتظامی سرگرمیوں میں بھی استعمال کیا اور انہیں جنگی و انتظامی ذمہ داریاں سونپی جاتی رہیں۔

تنظیم کے مطابق محمد نسیم لہڑی نے اپنی ذمہ داریاں وقت پر اور بہتر انداز میں ادا کیں اور مستونگ کے محاذ پر فعال رہے۔ بی ایل اے کے مطابق وہ 19 ستمبر 2026 کو شیرناپ، مستونگ میں جنگی ذمہ داریوں کے دوران شہید ہوئے۔

صفی اللہ عرف امیر

پنجگور کے خدابادان سے تعلق رکھنے والے صفی اللہ عرف امیر ولد عبدالوہاب نے 19 دسمبر 2019 کو شہری گوریلا کے طور پر بی ایل اے میں شمولیت اختیار کی، جبکہ 12 دسمبر 2025 کو انہیں پہاڑی محاذ پر منتقل کیا گیا، وہ ایف ایس سی تک تعلیم یافتہ تھے اور پنجگور کے محاذ پر ذمہ داریاں ادا کرتے رہے۔

تنظیم کے مطابق صفی اللہ نے قومی غلامی اور قبضے کے ادراک کے بعد 2019 میں پنجگور کے محاذ سے شہری گوریلا کے طور پر اپنی سرگرمیوں کا آغاز کیا اور تقریباً چھ سال تک شہری محاذ پر تنظیمی ذمہ داریاں ادا کیں اور آپریشنل ضروریات کے لیے اہم معلومات فراہم کرتے رہے۔

تنظیم کے مطابق صفی اللہ نے شہری محاذ پر انتظامی ذمہ داریاں بھی سنبھالیں اور متعدد کارروائیوں کی کامیابی میں اہم معلومات فراہم کیں، چھ سال تک شہری گوریلا کے طور پر کام کرنے کے بعد انہیں تنظیمی احکامات پر پہاڑی محاذ منتقل کیا گیا، جہاں انہوں نے اپنے تجربے اور صلاحیتوں کی بنیاد پر جنگی لائنز میں ذمہ داریاں ادا کیں۔

بی ایل اے کا کہنا ہے کہ صفی اللہ نے گزشتہ ایک سال کے دوران گوارگو کے محاذ پر جنگی، معاشی اور تنظیمی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔ وہ 17 ستمبر 2026 کو گوارگو، پنجگور میں فورسز کے ساتھ جھڑپ کے دوران شہید ہوئے۔

شفیق بلوچ عرف زگرین

پنجگور کے رائی نگور سے تعلق رکھنے والے شفیق بلوچ عرف زگرین ولد داد محمد بلوچ نے ستمبر 2025 میں بی ایل اے میں شمولیت اختیار کی، انہوں نے گوارگو، پھل آباد، پروم، پنجگور اور کوچگ کے محاذوں پر ذمہ داریاں ادا کیں، جبکہ گوارگو اور کوچگ میں گشتی کمان کی ذمہ داری بھی سنبھالی، شمولیت کے بعد انہوں نے تنظیمی تربیتی کورسز میں حصہ لیا اور مختصر مدت میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا، جسے بعدازاں جنگی لائنز میں بھی استعمال کیا۔

بی ایل اے کا کہنا ہے کہ شفیق بلوچ نے پنجگور کے مختلف علاقوں میں فورسز کے خلاف فوجی کارروائیوں میں حصہ لیا اور تنظیمی ذمہ داریاں ادا کیں۔ ان کی انتظامی، انقلابی اور جنگی صلاحیتوں کی بنیاد پر انہیں گشتی کمان کی ذمہ داریاں سونپی گئیں۔

تنظیم کے مطابق شفیق بلوچ نے علاقے میں فورسز کی نقل و حرکت محدود کرنے اور تنظیمی سرگرمیوں کو وسعت دینے کے لیے کام کیا، وہ 17 ستمبر 2026 کو گوارگو، پنجگور میں فورسز کے ساتھ ایک جھڑپ کے دوران اپنے ساتھیوں کی قیادت کرتے ہوئے شہید ہوئے۔

ساکم بلوچ عرف میران

گچک کے علاقے پلکی سے تعلق رکھنے والے ساکم بلوچ عرف میران ولد نور بخش نے اگست 2025 میں بی ایل اے میں شمولیت اختیار کی، انہوں نے کیلکور، گوارگو، گچک اور اورناچ کے محاذوں پر ذمہ داریاں ادا کیں۔

تنظیم کے مطابق ساکم بلوچ جنگی میدان میں حکمتِ عملی، صبر و تحمل اور گوریلا کارروائیوں میں مہارت رکھتے تھے، شمولیت کے بعد انہوں نے تنظیمی نظم و ضبط کے تحت فوجی تربیتی کورسز مکمل کیے، جس کے بعد انہیں مختلف محاذوں پر جنگی سرگرمیوں میں شامل کیا گیا۔

بی ایل اے کا کہنا ہے کہ ساکم بلوچ نے آپریشن ہیروف کے دوران اورناچ کے مقام پر ہونے والی کارروائیوں میں حصہ لیا، جہاں تنظیم کے مطابق فورسز کے اہلکاروں کو قیدی بنایا گیا تھا۔

تنظیم کے مطابق انہوں نے کیلکور سے اورناچ، پھر تنظیمی احکامات کے تحت اورناچ سے گچک اور گوارگو تک مختلف محاذوں پر اپنی جنگی صلاحیتوں کا استعمال کیا۔

تنظیم کے مطابق ساکم بلوچ تنظیمی ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے ادا کرتے تھے اور انہیں سونپے گئے کام مکمل کرتے رہے، وہ اپنے دیگر تین ساتھیوں کے ہمراہ 17 ستمبر 2026 کو گوارگو، پنجگور میں فورسز کے ساتھ ایک جھڑپ کے دوران شہید ہوئے۔

حبیب بلوچ عرف خالد

پنجگور کے علاقے کاٹاگری سے تعلق رکھنے والے حبیب بلوچ عرف خالد ولد محمد سلیم نے دسمبر 2025 میں بی ایل اے میں شمولیت اختیار کی، جبکہ اپریل 2026 میں پہاڑی محاذ پر منتقل ہوئے، انہوں نے گوارگو اور کیلکور کے محاذوں پر ذمہ داریاں ادا کیں۔

تنظیم کے مطابق حبیب بلوچ نے پاکستانی قبضے کو رد کرتے ہوئے بی ایل اے کے پلیٹ فارم سے مسلح مزاحمت میں شمولیت اختیار کی تنظیمی نظم و ضبط کے تحت انہوں نے ٹریننگ کیمپ میں جنگی اور انقلابی تربیت حاصل کی، جس کے بعد جنگی لائنز میں شامل ہوئے۔

بی ایل اے کا کہنا ہے کہ حبیب بلوچ اپنے ساتھیوں کے درمیان محنتی اور فعال سرمچار کے طور پر جانے جاتے تھے، انہوں نے کیلکور اور گوارگو کے علاقوں میں فورسز کے خلاف مختلف کارروائیوں میں حصہ لیا اور بعدازاں اپنی صلاحیتوں کی بنیاد پر گشتی ٹیم میں شامل کیے گئے۔

تنظیم کے مطابق حبیب بلوچ نے علاقے میں تنظیمی سرگرمیوں کو وسعت دینے اور فورسز کے خلاف کارروائیوں میں اہم کردار ادا کیا۔ بی ایل اے کا کہنا ہے کہ 17 ستمبر 2026 کو گوارگو، پنجگور میں فورسز کے خلاف ایک بڑے حملے اور بعدازاں جھڑپ کے دوران حبیب بلوچ اپنے ساتھیوں سمیت شہید ہوئے۔