9 کاروائیوں میں 6 اہلکار ہلاک، صوبیدار سمیت 7 اہکار زخمی، ناکہ بندی، معدنیات لے جانے والی گاڑیوں پر حملہ، فوجی راشن ضبط، اورعسکری تنصیب نذرآتش۔ میجر گہرام بلوچ

284

بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بی ایل ایف کے سرمچاروں نے 20 ستمبر 2026 کو تمپ کے علاقے پُل آباد میں قابض پاکستانی فوجی قافلے کی حفاظت پر مامور اہلکاروں پر منظم حملہ کرکے بھاری اور خود کار ہتھیاروں سے نشانہ بنایا۔ اس دوران سرمچاروں نے پل آباد میں قائم قابض پاکستانی فورسز کی چیک پوسٹ پر بھی متعدد راکٹ گولے داغے، جو اپنے اہداف پر لگے۔ اس حملے کے نتیجے میں قابض پاکستانی فوج کو جانی و مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔

انہوں نے کہا کہ 19 ستمبر 2026 کو بی ایل ایف کے سرمچاروں نے ضلع دالبندیں کے علاقے آشلولو پدگ کے مقام پر واقع پاکستانی فوج کی کمیونیکشن ٹاور کے تمام آلات کو نذرآتش کردیا۔ مذکورہ ٹاور کمیونیکیشن سمیت علاقے میں عام عوام اور بلوچ جہدکاروں کی نگرانی اور عسکری مقاصد کے لیے استعمال ہورہا تھا۔ 

ترجمان نے کہا کہ ایک اور کارروائی میں بی ایل ایف کے سرمچاروں نے 18 ستمبر 2026 کو  خاران بازار سے آئی ایس آئی کے کارندے خیرالّلہ کو گرفتار کرکے تفتیش کے لئے منتقل کر رہے تھے کہ مجرم نے فرار ہونے کی کوشش کی جسے سرمچاروں نے فائرنگ کرکے ہلاک کردیا۔ مذکورہ قومی مجرم آئی ایس آئی سے وابستگی اور بلوچ قومی تحریک آزادی کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی وجہ سے بی ایل ایف کو مطلوب تھا۔

انہوں نے کہا کہ ایک اور کارروائی میں بی ایل ایف کے سرمچاروں نے 17 ستمبر 2026 کو مستونگ کے علاقے مرو میں ناکہ بندی کرکے رفت و آمد کرنے والے گاڑیوں کی تلاشی لی۔ اسی دوران شام چار بجے کے قریب قابض فوج کی صوبیدار دیگر سپاہیوں کے ہمراہ ایک سیول گاڑی میں وہاں سے سفر کر رہے تھے۔ قریب آنے پر جب سرمچاروں نے انھیں رکنے کا اشارہ کیا تو فوجی اہلکاروں نے بندوقیں نکالنے کی کوشش کی جس پر سرمچاروں نے فوری درعمل دیتے ہوئے گاڑی پر حملہ کردیا۔ جس کے نتیجے میں گاڑی میں سوار فوجی صوبیدار سمیت چار فوجی اہلکار شدید زخمی ہوئے اور زخمی حالت میں وہاں سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئے۔ سرمچاروں کی جانب سے ناکہ بندی صبح سے شام تک جاری رہی۔

ترجمان نے کہا کہ اسی دن ایک اور حملے میں سرمچاروں نے وڈھ کے علاقے کُراڑو کے مقام پر معدنیات لے جانے والی بڑی گاڑیوں کو حملے میں نشانہ بنایا۔ اس کارروائی کے نتیجے میں معدنیات لے جانے والی گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچا اور قافلہ وہیں رکُنے پر مجبور ہوئی۔ اس حملے میں ارادتاً کسی کو کوئی جانی نقصان نہیں پہنچایا گیا تاہم ہم واضع کرتے ہیں کہ بلوچ وسائل کی لوٹ مار میں ملوث عناصر اور ان کے سہولتکاروں کے خلاف بھر پور کاروائی کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے 17 ستمبر 2026 کو دشت کے علاقے بلنگور میں فرنٹیر کور کی کیمپ کے لیے راشن سپلائی کرنے والی گاڑی کو راشن سمیت ضبط کر لیا۔ ڈرائیور کو انسانی ہمدردی کے بنیاد پر تنبیہ کر کے رہا کر دیا گیا۔ سرمچاروں کی پے در پے کارروائیوں کے نتیجے میں قابض فوج اپنے کیمپوں اور بیروکوں تک محصور ہو چکی ہے۔ راشن اور سفر کے لیے سویلین گاڑیوں کا سہارا لینے پر مجبور ہونا اس امر کا ثبوت ہے۔

ترجمان نے کہا کہ 15 ستمبر 2026 کو بی ایل ایف کے سرمچاروں نے مشکے کے علاقے سُنیڑی میں قائم فوجی چیک پوسٹ کی سیکورٹی پر تعینات اہلکار کو اسنائپر حملے کا نشانہ بناتے ہوئے موقع پر ہلاک کردیا۔ 

انہوں نے کہا کہ 15 ستمبر 2026 کو دو پہر کے وقت ہمارے سرمچار کوئٹہ شہر میں تنظیمی گشت پر تھے کہ اسی دوران سریاب چلتن گلی میں اُن کا سامنا سی ٹی ڈی کے اہکاروں سے ہوا۔ بی ایل ایف کے مستعد سرمچاروں نے بروقت کاروائی کرتے ہوئے سی ٹی ڈی کے کارندوں پر مہلک حملہ کرکے انھیں نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں سی ٹی ڈی کے تین کارندے موقعے پر ہلاک جبکہ دو شدید زخمی ہوئے جبکہ سرمچار بحفاظت نکل گئے۔

ترجمان نے کہا کہ ایک اور کارروائی میں بی ایل ایف کے سرمچاروں نے 13 ستمبر 2026 کو تمپ کے علاقے ملانٹ میں قابض پاکستانی فوج کے بم ڈسپوزل اہلکاروں کو اس وقت بم دھماکے میں نشانہ بنایا جب وہ نصب شدہ بم کو ڈفیوز کرنے کی کوشش میں مصروف تھے۔ بم حملے کے نتیجے میں قابض فوج کا ایک اہلکار موقع پر ہی ہلاک جبکہ دوسرا شدید زخمی ہوا۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ مذکورہ بالا تمام کاروائیوں میں قابض فوج اور سی ٹی ڈی کو پہنچنے والے تمام جانی و مالی نقصانات، آئی ایس آئی ایجنٹ خیر اللہ کو ہلاک کرنے، مستونگ میں ناکہ بندی کرنے،  عسکری ٹاور کو تباہ کرنے، فوجی راشن کو گاڑی سمیت ضبط کرنے اور معدنیات لے جانے والے گاڈیوں پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔ قابض پاکستان کی آخری سپاہی کی انخلا اور مقبوضہ بلوچستان کی مکمل آزادی تک دشمن کے خلاف ہماری کاروائیاں مزید شدت کے ساتھ جاری رہینگے۔