خوش مزاج یار لالی
تحریر: چیسل بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
کچھ لوگ ہماری زندگی میں صرف دوست بن کر نہیں آتے، بلکہ ہماری یادوں، ہماری جوانی، ہمارے خوابوں اور ہماری زندگی کے ایک پورے عہد کا حصہ بن جاتے ہیں۔ وہ ہمارے ساتھ بچپن کی گلیوں میں چلتے ہیں، ہمارے ساتھ ہنستے ہیں، ہمارے ساتھ خواب دیکھتے ہیں اور پھر ایک دن اچانک ہم سے اس طرح جدا ہوجاتے ہیں کہ ان کی آواز، ان کا چہرہ اور ان کے ساتھ گزرا ہوا ہر لمحہ دل میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہوجاتا ہے۔
لال خان بھی میرے بچپن کا ایسا ہی ساتھی، جگری یار اور زندگی کے خوبصورت دنوں کا ہم سفر تھا۔
بچپن سے جوانی تک ہم نے بہت سے لمحے ایک ساتھ گزارے۔ وہ ہمارے دوستوں کے حلقے کا حصہ تھا، ہماری خوشیوں کا ساتھی تھا اور ان یادوں کا کردار تھا جنہیں وقت گزرنے کے باوجود بھلایا نہیں جاسکتا۔
وقت گزرتا گیا اور بچپن جوانی میں بدل گیا۔ زندگی نے ہم سب کو اپنے اپنے راستوں پر ڈال دیا۔ لال خان نے بھی اپنی محنت اور قابلیت سے ایک روشن راستے کا انتخاب کیا۔ اس نے بولان میڈیکل کالج میں ایم بی بی ایس کا ٹیسٹ پاس کیا۔
اس کامیابی میں صرف اس کی محنت نہیں تھی، اس کے والدین کی دعائیں بھی شامل تھیں۔
اس کے گھر میں کتنی خوشی ہوئی ہوگی۔
ماں نے کتنے خواب دیکھے ہوں گے کہ میرا بیٹا ایک دن ڈاکٹر بنے گا۔ باپ نے کتنے فخر سے سوچا ہوگا کہ میرا بیٹا سفید کوٹ پہن کر لوگوں کی خدمت کرے گا۔ بہنوں کے لیے تو وہ پہلے ہی لاڈلا بھائی تھا، اب اس کے مستقبل کے ساتھ ان کے خواب بھی وابستہ ہوگئے تھے۔
لال خان ڈاکٹر بننے جا رہا تھا۔
مگر بعض لوگوں کی زندگی صرف ان کے اپنے خوابوں کے لیے نہیں ہوتی۔
ایک وقت آیا جب لال خان نے محسوس کیا کہ وطن کو اس کی ضرورت ہے۔
اس نے اپنی پڑھائی ادھوری چھوڑی اور ایک ایسے سفر پر نکل پڑا جس کی منزل شاید اسے معلوم تھی، مگر واپسی کا یقین کسی کو نہیں تھا۔
وہ میدان میں گیا۔
تقریباً ایک سال تک دشمن کے خلاف لڑتا رہا۔
وہ جانتا تھا کہ اس راستے پر موت ہر لمحہ سامنے آسکتی ہے، مگر وطن کی محبت نے اس کے قدموں کو کبھی ڈگمگانے نہیں دیا۔
اور پھر وہ دن آگیا جس کا تصور بھی ہم نہیں کرنا چاہتے تھے۔
لال خان نے وطن کی خاطر جامِ شہادت نوش کرلیا۔
آج جب میں یہ الفاظ لکھ رہا ہوں تو میرے سامنے صرف ایک شہید کا تصور نہیں، بلکہ میرا بچپن کھڑا ہے۔ وہ دوست کھڑا ہے جس کے ساتھ زندگی کے کئی خوبصورت لمحے گزارے تھے۔
اور شاید لال خان کی زندگی کی سب سے دردناک بات یہ ہے کہ اس کی جدائی ہمیں ایک پرانی رات کی طرف واپس لے جاتی ہے۔
وہ رات آج بھی یاد ہے
ایک دفعہ ہم سب دوست گوادر سیر کے لیے گئے تھے۔
رات کا وقت تھا۔
ہم سب سمندر کنارے بیٹھے تھے۔ سمندر کی لہریں اپنے مخصوص شور کے ساتھ ساحل سے ٹکرا رہی تھیں۔ رات کی خاموشی، سمندر کی آواز اور دوستوں کی محفل—ہم سب اپنی اپنی دنیا میں خوش تھے، ہنس رہے تھے، باتیں کر رہے تھے اور اس سفر کو یادگار بنا رہے تھے۔
مگر اچانک ہماری نظر لال خان پر پڑی۔
وہ ہم سب سے الگ ایک طرف بیٹھا تھا۔
سمندر کی لہروں کو دیکھ رہا تھا۔
اور رو رہا تھا۔
ہم حیران ہوئے کہ آخر ایسا کیا ہوا کہ ہمارا ہنستا مسکراتا دوست اچانک تنہائی میں کھڑا آنسو بہا رہا ہے؟
پھر ہمیں یاد آیا کہ کچھ ہی عرصہ پہلے ہمارا بچپن کا ساتھی، ہمارا جگری یار فدائین سربلند اسی گوادر میں وطن کی آزادی و خدمختاری کی خاطر فدائین کرکے ہم سے ہمیشہ کیلئے بچھڑ گیا تھا۔
شاید گوادر کی وہ لہریں لال خان کو سربلند کی یاد دلا رہی تھیں۔
شاید سمندر کا شور اسے اپنے دوست کی آخری آواز محسوس ہو رہا تھا۔
شاید اسے وہ بچپن کے دن یاد آرہے تھے جب سربلند اور لال خان ہمارے ساتھ ایک ہی گھر میں پڑھائی کر رہے تھے۔
وہ دوست جو کل تک ہمارے درمیان تھا، آج اسی مٹی کے نیچے سو رہا تھا جس کی حفاظت کے لیے اس نے اپنی جان دے دی تھی۔
ہم سب دوست لال خان کے پاس گئے۔
اسے تسلی دی۔
اسے اپنے گلے سے لگایا۔
ہم نے کہا:
“لال! وہ شہید ہے۔ ہمیں اس کے نقشِ قدم پر چلنا ہے۔ اس کی قربانی ہمارے لیے فخر ہے ۔”
اس رات گوادر کے اسی ساحل پر، سمندر کی گواہی میں، ہم دوستوں نے ایک عہد کیا۔
ہم آخری سانس تک وطن کے دفاع کے لیے لڑیں گے۔
وہ صرف ایک وعدہ نہیں تھا۔
وہ ہماری جوانی کا عہد تھا۔
وہ سربلند کی قربانی کے جواب میں ہمارا عہد تھا۔
ہم نے سوچا بھی نہیں تھا کہ اسی عہد کو ایک دن لال خان اپنی جان دے کر پورا کرے گا۔
وقت گزرتا رہا۔
اور آج وہی لال خان، جو اس رات سربلند کی جدائی میں رو رہا تھا، خود ہم سے جدا ہوچکا ہے۔
آج سربلند نہیں ہے۔
آج لال خان بھی نہیں ہے۔
مگر اس بار ہمارے آنسو کسی ایک دوست کے لیے نہیں، اپنے کئی بچھڑے ہوئے ساتھیوں کے لیے ہیں۔
کیا عجیب سفر ہے زندگی کا!
جس دوست کو ہم نے سربلند کے غم میں گلے لگایا تھا، آج ہمیں اسی لال خان کی یاد میں ایک دوسرے کو گلے لگانا پڑ رہا ہے۔
جس لال خان کو ہم نے کہا تھا کہ “ہمیں شہید کے نقشِ قدم پر چلنا ہے”، آج وہ خود انہی نقشِ قدم پر چلتے ہوئے شہادت کی منزل تک پہنچ گیا۔
اور شاید یہی اس کی زندگی کا سب سے بڑا جواب تھا۔
لال خان کا ادھورا خواب
لال خان ڈاکٹر بننا چاہتا تھا۔
اس کے ہاتھ میں کتاب ہونی تھی، مگر اس کے ہاتھ میں ہتھیار آگیا۔
اس نے سفید کوٹ پہننا تھا، مگر اس نے وطن کی خاطر کفن پہن لیا۔
اس نے بیماروں کا علاج کرنا تھا، مگر اس نے اپنے لہو سے وطن کے زخموں کو سیراب کیا۔
اس کا ایم بی بی ایس کا سفر مکمل نہ ہوسکا، لیکن اس نے زندگی کی وہ ڈگری حاصل کرلی جس کے سامنے دنیا کی ہر ڈگری معمولی لگتی ہے:
وفا کی ڈگری۔
قربانی کی ڈگری۔
شہادت کی ڈگری۔
اس کے والدین کے خواب یقیناً ٹوٹے ہوں گے۔
ایک ماں جس نے اپنے بیٹے کو ڈاکٹر کے روپ میں دیکھنے کا خواب دیکھا تھا، آج اسی بیٹے کو شہید کہہ کر یاد کرتی ہے۔
ایک باپ جس نے اپنے بیٹے کے ہاتھ میں کتاب دیکھی تھی، آج اس کے لہو سے لکھی ہوئی داستانِ قربانی دیکھ رہا ہے۔
اور بہنیں…
ان کے لیے لال خان ہمیشہ وہی لاڈلا بھائی رہے گا جو کبھی ان کے ساتھ ہنستا تھا، ان کی بات سنتا تھا، ان کے دکھ میں ان کے ساتھ کھڑا ہوتا تھا۔
اب کسی خوشی کے موقع پر جب سب بھائی بہن اکٹھے ہوں گے تو ایک جگہ ہمیشہ خالی ہوگی۔
وہ جگہ جسے کوئی دوسرا کبھی پُر نہیں کرسکتا۔
لال خان! تم صرف ایک دوست نہیں تھے
میرے لیے تمہاری جدائی صرف ایک شہید کی خبر نہیں۔
تم میرے بچپن کا ایک حصہ تھے۔
تم وہ ساتھی تھے جس کے ساتھ زندگی کے کئی خوبصورت دن گزرے۔
تمہاری یاد آتی ہے تو صرف تمہارا آخری وقت یاد نہیں آتا، بلکہ وہ بچپن یاد آتا ہے جس میں ہم بے فکری سے ہنسا کرتے تھے۔
تمہاری یاد آتی ہے تو گوادر کا وہ ساحل یاد آتا ہے جہاں تم سربلند کی یاد میں رو رہے تھے۔
اور آج دل یہ سوچ کر مزید بھر آتا ہے کہ جس شخص کو ہم نے اس رات دلاسا دیا تھا، آج ہمیں خود اس کی یاد میں دلاسا چاہیے۔
سربلند کے بعد لال خان بھی چلا گیا۔
اور تم نے جاتے جاتے اس عہد کو سچ کر دکھایا جو ہم نے گوادر کے ساحل پر کیا تھا۔
تم نے آخری سانس تک وطن کا ساتھ دیا۔
آج تم مجھ سے جدا ہوگئے ہو۔
لیکن میں یہ سوچ کر خود کو تسلی دیتا ہوں کہ یہ جدائی ہمیشہ کی نہیں۔
آنے والے وقت میں شاید میں بھی اپنے ان شہید دوستوں کے پاس ہوں گا—سربلند کے پاس، لال خان کے پاس اور ان تمام ساتھیوں کے پاس جنہوں نے وطن کی خاطر اپنی جانیں قربان کیں۔
تب شاید کوئی جدائی نہیں ہوگی۔
نہ کوئی سمندر ہمارے درمیان ہوگا، نہ کوئی فاصلے ہوں گے، نہ کوئی آنسو۔
تب ہم پھر ایک ساتھ ہوں گے۔
وہی دوست، وہی یار، وہی محبت۔
فرق صرف اتنا ہوگا کہ اس دنیا میں ہم وطن کے دفاع کا عہد کرتے تھے، اور وہاں ہماری قربانیاں ہماری گواہی ہوں گی اور ہم سرخرو ہونگے ۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































