علاقے میں ڈرون پروازیں، شہریوں کو آبائی علاقوں سے بے دخلی اور جبری گمشدگیاں قبول نہیں۔ آل پارٹیز نوشکی

0

نوشکی میں آل پارٹیز رہنماؤں نے سیکیورٹی پابندیوں، راستوں کی بندش، سخت چیکنگ اور شہریوں کو درپیش مشکلات پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ نوشکی کو عملاً محاصرے میں رکھ کر شہریوں کے بنیادی، آئینی اور انسانی حقوق سلب کیے جا رہے ہیں، جسے مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔

پریس کلب نوشکی میں پُرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آل پارٹیز رہنماؤں میر خورشید جمالدینی، حاجی منظور احمد مینگل، فاروق بلوچ، مفتی فداالرحمن ریکی، مولانا احمد شاہ کلانی، مولانا محمد قاسم مینگل، حافظ ابراہیم الحسنی، نوشکی بار کونسل کے ایڈووکیٹ میر عقیل خان بادینی، جی ٹی اے رہنما ببرک بلوچ اور دیگر نے کہا کہ ملکی آئین شہریوں کو بنیادی حقوق فراہم کرتا ہے، ان حقوق کا مطالبہ کرنا جرم نہیں بلکہ شہریوں کے آئینی حقوق سلب کرنا ناقابلِ قبول ہے۔

مقامی سیاسی و سماجی قیادت نے کہا کہ کرفیو اور سیکیورٹی چیک پوسٹوں پر نوشکی کے تقریباً 98 فیصد شہریوں کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے، مختلف راستوں پر رکاوٹیں کھڑی اور سڑکیں کھودی گئی ہیں، جبکہ این-40 سمیت اہم شاہراہوں پر آمدورفت کو مشکل بنا دیا گیا ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ کچکی سے کوتل اور زارو چاہ سے البت تک راستوں پر قائم رکاوٹیں فوری ختم کی جائیں، احمدوال، بٹو اور جورکین کے بازار کھولے جائیں، زمینداروں کو کھاد فراہم کی جائے، گیس کی فراہمی بحال اور غیر اعلانیہ بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم کی جائے۔

واضح رہے کہ نوشکی میں گزشتہ کئی ماہ سے پاکستانی فورسز نے کرفیو نافذ کرتے ہوئے شہری نقل و حرکت محدود کر رکھی ہے، جبکہ بازاروں کی بندش اور نوشکی کے مختلف علاقوں کو خالی کرنے کے احکامات سے شہری شدید پریشان ہیں۔

آل پارٹیز رہنماؤں نے پاکستانی فورسز حکام کی جانب سے مل احمدوال کے عوام کی علاقے سے ممکنہ بے دخلی کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہاں کے عوام کسی صورت نقل مکانی قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کو وجود میں آئے 74 سال ہوئے ہیں، جبکہ ہم اس سرزمین پر ہزاروں سال سے آباد ہیں، ہم اپنے گھروں اور آبائی علاقوں سے بے دخل نہیں ہوں گے، ہماری قبریں بن سکتی ہیں مگر اپنی سرزمین نہیں چھوڑیں گے۔

رہنماؤں نے کہا کہ این-40 پر غیر ضروری پابندیوں، ناکہ بندی اور سخت چیکنگ نے شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت محدود کر دی ہے۔ مریضوں، مسافروں، تاجروں اور عام شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ حکومت فوری طور پر لاک ڈاؤن اور شہریوں کی نقل و حرکت پر عائد پابندیاں ختم کرے۔

احمدوال میں مبینہ ڈرون پروازوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے رہنماؤں نے کہا کہ شہریوں کی چادر اور چار دیواری اور نجی زندگی کا احترام ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ نوشکی سے جبری گمشدگی کا نشانہ بننے والوں کے حوالے سے انہوں نے مطالبہ کیا کہ انہیں فوری رہا کیا جائے، اور اگر کسی پر کوئی الزام ہے تو اسے قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائے۔

رہنماؤں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز خود منصف نہ بنیں، کسی شہری پر جرم کا الزام ہے تو اسے عدالت میں پیش کیا جائے اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی شخص کو عدالتی عمل سے محروم رکھنا مسائل کا حل نہیں۔

آل پارٹیز رہنماؤں نے کہا کہ ریاستی اداروں کی ذمہ داری عوام کے لیے آسانیاں پیدا کرنا ہے، مشکلات میں اضافہ کرنا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صورتحال اس قدر سنگین ہو چکی ہے کہ مریضوں کو رات کے وقت نوشکی کے ہسپتال منتقل کرنا مشکل ہے اور ایمرجنسی کی صورت میں انہیں شہر سے باہر لے جانا بھی دشوار بنا دیا گیا ہے۔

رہنماؤں نے دعویٰ کیا کہ میت لے جانے والی گاڑیوں کو بھی مبینہ طور پر سیکیورٹی چیکنگ کے نام پر کئی گھنٹوں تک روکا جاتا ہے، جبکہ لاک ڈاؤن کے باعث متعدد سرکاری اسکولوں کی تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں۔ اساتذہ و طلبہ بروقت اسکول نہیں پہنچ پا رہے اور تعلیم کا نظام شدید متاثر ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نوشکی میں چوری اور ڈکیتی کی وارداتیں حد سے تجاوز کر چکی ہیں، شہری خود کو غیر محفوظ سمجھ رہے ہیں اور جرائم پیشہ عناصر کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات نظر نہیں آ رہے۔

رہنماؤں نے ضلعی انتظامیہ کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ ڈپٹی کمشنر نوشکی کی تعیناتی کا حکم جاری ہونے کے باوجود چند روز بعد متعلقہ افسر اپنے تعیناتی کے احکامات منسوخ کرا لیتا ہے، جس کے باعث ضلع میں ڈپٹی کمشنر سمیت ضلعی انتظامیہ کی بعض اہم پوسٹیں خالی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ انتظامی افسران کی مستقل تعیناتی یقینی بنائی جائے تاکہ عوامی مسائل کے حل کے لیے مؤثر انتظامی نظام موجود ہو۔

آل پارٹیز رہنماؤں نے کہا کہ نوشکی کے عوام کو اپنی ہی سرزمین پر محصور، بے اختیار اور بنیادی سہولیات سے محروم رکھنا ناقابلِ برداشت ہے۔ انہوں نے ریاستی اداروں سے مطالبہ کیا کہ عوام کو مایوس کرنے کے بجائے فوری عملی اقدامات کیے جائیں۔

آل پارٹیز رہنماؤں نے حکومت اور ریاستی اداروں کو دوٹوک اور واضح الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا کہ نوشکی میں عائد پابندیاں فوری ختم، تمام راستے کھولے، شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت بحال، مل احمدوال کے عوام کی ممکنہ بے دخلی کا فیصلہ واپس، جبکہ گیس، بجلی، تعلیم، صحت اور کاروبار سمیت بنیادی سہولیات فوری بحال کی جائیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ اگر ان مطالبات پر فوری اور عملی طور پر عملدرآمد نہ کیا گیا تو آل پارٹیز، سول سوسائٹی، تاجر برادری اور عوام کو ساتھ لے کر احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا اور صوبائی و وفاقی سطح پر بھرپور احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ آج ہم ریاستی اداروں سے اپنے جائز آئینی، شہری اور انسانی حقوق کا مطالبہ کر رہے ہیں، کل حالات ہمیں اس سے بھی زیادہ سخت احتجاج پر مجبور نہ کریں۔ عوام کے صبر کا مزید امتحان نہ لیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ریاستی ادارے عوام کے محافظ ہیں، عوام کے لیے مشکلات پیدا کرنے والے نہیں۔ نوشکی کے عوام کو دیوار سے لگانے کے بجائے ان کے مسائل حل کیے جائیں، ورنہ احتجاجی ردِعمل کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔

آل پارٹیز رہنماؤں نے دوٹوک اعلان کیا کہ نوشکی کے عوام اپنے بنیادی حقوق سے دستبردار نہیں ہوں گے، اپنی آبائی سرزمین سے کسی بھی صورت بے دخلی قبول نہیں کریں گے اور مطالبات کی منظوری تک آئینی و جمہوری جدوجہد جاری رکھیں گے۔