بلوچستان کے مختلف علاقوں سے پانچ افراد کے جبری طور پر لاپتہ کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ چار افراد بازیاب ہو کر اپنے گھروں کو پہنچ گئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق مستونگ سے 16 سالہ طالب علم ابرار بلوچ ولد قادر بلوچ کو 17 اگست 2026 کو رات ایک بجے سی ٹی ڈی اور آئی ایس آئی کے اہلکاروں نے حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کردیا۔
پسنی کے علاقے شادیکو سے 30 اگست کو دو افراد، 38 سالہ کسان رشید بلوچ ولد قادر بخش اور 36 سالہ کسان لال بلوچ ولد موسٰی کو ایف سی اہلکاروں نے دوپہر ایک سے دو بجے کے درمیان ان کے گھروں سے حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کردیا۔
قلات کے علاقے منگچر سے دکاندار الطاف بلوچ ولد خان محمد کو 3 ستمبر 2026 کو صبح 11 بجے ان کی دکان سے ایف سی اہلکاروں نے حراست میں لے کر لاپتہ کردیا۔
اسی طرح کوئٹہ کے کلی قمبرانی سے 27 سالہ ٹیکسی ڈرائیور بابا جان ولد محمد جان کو 10 فروری 2026 کو دوپہر ایک بجے سی ٹی ڈی اور ایم آئی کے اہلکاروں نے حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کیا۔
دوسری جانب چار افراد کے بازیاب ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ کیچ کے علاقے دشت سے جمیل ولد اقبال کو 8 ستمبر کو لاپتہ کیے جانے کے بعد 13 ستمبر کو تربت سے بازیاب کر لیا گیا۔
کوئٹہ کے منوجان روڈ سے حافظ جمیل احمد ولد چھٹا خان کو 9 ستمبر کو حراست میں لیے جانے کے بعد 12 ستمبر کو کوئٹہ سے بازیاب کیا گیا۔
کیچ کے علاقے آپس تربت سے 8 ستمبر کو لاپتہ ہونے والے دو ڈاکٹرز جمشیر بلوچ ولد گنگوزار بلوچ اور ماہر مزار ولد مزار بلوچ، کو بھی 13 ستمبر کو تربت سے بازیاب کر لیا گیا۔
واضح رہے کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے بیشتر کیسز ریاستی دباؤ، ڈر اور خوف کے باعث بروقت رپورٹ نہیں ہو پاتے، جس کے باعث لاپتہ افراد کی اصل تعداد اور جبری گمشدگیوں کے واقعات کی مکمل تفصیلات سامنے آنے میں تاخیر ہوتی ہے۔


















































