کوئٹہ: جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاج جاری

0

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے زیرِ اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ آج 6358ویں روز بھی جاری رہا۔

اس موقع پر جبری لاپتہ محمد رفیق اور محمد الیاس کے لواحقین نے وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ سے رابطہ کرکے اپنے پیاروں کی بازیابی اور معلومات کی فراہمی کے لیے اپیل کی۔

محمد رفیق کے لواحقین نے بتایا کہ 22 اگست کو آواران کے علاقے کولواہ سے پاکستانی فورسز نے محمد رفیق ولد بہادین کو شاکر اور شاکر کی اہلیہ گل بانک کے ہمراہ حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔ بعد ازاں شاکر اور گل بانک کو رہا کردیا گیا، تاہم محمد رفیق تاحال لاپتہ ہیں۔

لواحقین کے مطابق انہوں نے محمد رفیق کی باحفاظت بازیابی اور ان کے بارے میں معلومات کے لیے اعلیٰ حکام سے متعدد بار رابطہ کیا، تاہم تاحال انہیں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئی، جس کے باعث خاندان شدید ذہنی اذیت اور پریشانی کا شکار ہے۔

اسی طرح محمد الیاس کے والد محمد صادق نے بتایا کہ ان کے بیٹے محمد الیاس کو رواں سال یکم جولائی کو کوئٹہ کے علاقے کلی مسلم آباد، سریاب سے سیکیورٹی اداروں کے اہلکاروں نے حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔

انہوں نے بتایا کہ محمد الیاس کا کیس کمیشن برائے انکوائری برائے جبری گمشدگیوں میں زیرِ سماعت ہے، تاہم تاحال ان کے بیٹے کو بازیاب نہیں کیا گیا اور نہ ہی اس کے بارے میں کوئی معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔

وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ محمد رفیق اور محمد الیاس سمیت تمام جبری لاپتہ افراد کو فوری طور پر بازیاب کیا جائے۔ اگر کسی شخص پر کوئی الزام ہے تو اسے منظرِ عام پر لاکر عدالت میں پیش کیا جائے اور اسے قانونی چارہ جوئی کا حق دیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ جبری گمشدگیوں کا خاتمہ اور لاپتہ افراد کی بازیابی ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے، اور لواحقین کو اپنے پیاروں کے بارے میں معلومات فراہم کی جائیں۔