بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے زیرِ اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ آج بروز جمعرات 6354ویں روز میں داخل ہوگیا۔
اس موقع پر ایڈووکیٹ شعیب سمالانی اور کامریڈ عطاءاللہ نے احتجاجی کیمپ کا دورہ کرکے اظہارِ یکجہتی کیا۔ انہوں نے جبری گمشدگیوں کے خاتمے، لاپتہ افراد کی بازیابی اور انسانی حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔
کیمپ میں گفتگو کرتے ہوئے وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے کہا کہ وی بی ایم پی کی جانب سے طویل عرصے سے جاری پُرامن، آئینی اور جمہوری جدوجہد کا مقصد جبری گمشدگیوں، ماورائے آئین اقدامات کے خاتمے اور جبری لاپتہ افراد کی بازیابی کو یقینی بنانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ملک میں آئین و قانون کی بالادستی قائم ہو۔ کسی بھی شخص کو حراست میں لیے جانے کی صورت میں ملکی ادارے آئین اور قانون کا احترام کرتے ہوئے اسے مقررہ قانونی مدت کے اندر مجسٹریٹ کے سامنے پیش کریں اور اس کے بارے میں اس کے خاندان کو بروقت معلومات فراہم کی جائیں۔
نصراللہ بلوچ نے کہا کہ جبری گمشدگی جیسے ماورائے آئین اقدامات کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں، تمام لاپتہ افراد کی بازیابی یقینی بنائی جائے، جبکہ جن افراد پر کوئی الزام ہے انہیں منظرِ عام پر لاکر عدالت کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ انہیں قانونی چارہ جوئی اور اپنے دفاع کا حق حاصل ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ وی بی ایم پی جبری گمشدگیوں کے خاتمے، آئین و قانون کی بالادستی اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی پُرامن اور جمہوری جدوجہد جاری رکھے گی۔

















































