پاکستانی فورسز نے گھر پر چھاپے کے دوران فائرنگ کرکے ایک شخص کو قتل کردیا، بعد ازاں اس کے بیٹے کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا۔
تربت کے علاقے سنگانی سر کے رہائشی بابر ولد اکبر کو منگل کی شام آبسر کے فٹبال گراؤنڈ سے پاکستانی فورسز نے حراست میں لیکر لاپتہ کردیا ہےاہلِ خانہ کی بازیابی کا مطالبہ
مقامی میڈیا کے مطابق فیملی ذرائع نے واقعہ کی تفصیلات بتاتے کہا ہے کہ گزشتہ شب پاکستانی فورسز نے بابر ولد اکبر کو گرفتار کرنے کے لیے ان کے گھر پر چھاپہ مارا، تاہم اس وقت بابر کنٹانی کے علاقے میں مزدوری کے سلسلے میں موجود تھا۔
اہلِ خانہ کا مؤقف ہے کہ گھر پر چھاپے کے دوران بابر کے والد اکبر حیدر نے بعض افراد کو گھر کی دیوار پھلانگتے دیکھا، جنہیں انہوں نے مبینہ طور پر چور سمجھ لیا۔
فیملی ذرائع کا کہنا ہے کہ اکبر حیدر نے اپنے لائسنس یافتہ پستول سے ہوائی فائرنگ کی، جس کے بعد پاکستانی فورسز کی جانب سے فائرنگ کی گئی، ایک گولی اکبر حیدر کے پیٹ کے قریب لگی۔
زخمی ہونے کے بعد اکبر حیدر سے کافی خون بہہ گیا، تاہم پاکستانی فورسز نے اس دوران انہیں اسپتال منتقل کرنے اور طبی امداد فراہم کرنے سے روک دیا۔
اہل خانہ کے مطابق گھنٹوں تک گھر کی تلاشی اور دیگر کارروائی مکمل کرنے کے بعد پاکستانی فورسز وہاں سے چلی گئیں، تاہم تب تک زخمی اکبر حیدر کافی خون بہہ جانے کے باعث انتقال کرچکے تھے۔
ذرائع کے مطابق والد کے واقعے اور وفات کے بعد بابر ولد اکبر گھر واپس آیا، اس کا مؤقف تھا کہ وہ بے قصور ہے اور اس نے کوئی غیر قانونی کام نہیں کیا۔
اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ منگل کی شام تقریباً آٹھ بجے بابر آبسر کے فٹبال گراؤنڈ میں موجود تھا، جہاں سے اسے پاکستانی فورسز نے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔
اہلِ خانہ نے بابر کی گرفتاری پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث نہیں اور فورسز کو اس حوالے سے غلط فہمی ہوئی ہے، اہلِ خانہ نے مطالبہ کیا ہے کہ بابر کے بارے میں معلومات فراہم کی جائیں اور اگر اس کے خلاف کوئی الزام موجود ہے تو اسے قانون کے مطابق سامنے لایا جائے۔

















































