ماشکیل، ایف سی کے مرکزی کیمپ پر حملہ، 3 کواڈ کاپٹر اور 1 سرویلینس ڈرون تباہ، 25 سے زائد عسکری اہلکار ہلاک۔ بی ایل ایف

1

بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری بیان میں کہا ہے کہ سرمچاروں نے 29 اگست 2026 کو دن کے ٹھیک ساڑھے تین بجے ماشکیل شہر پر ایک منظم، مربوط اور ہمہ جہتی گوریلا کاروائی کا آغاز کیا۔ شہر پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے سرمچاروں کو چھ دستوں میں تقسیم کیا گیا تھا، جنہوں نے پوزیشنیں سنبھال کر بیک وقت اپنے اپنے طے شدہ اہداف پر حملہ کرکے پورے شہر کو اپنے گھیرے میں لے لیا۔

انہوں نے کہاکہ آپریشن کا آغاز کرتے ہوئے پہلے مرحلے میں سرمچاروں نے شہر کے تمام داخلی و خارجی راستوں پر ناکہ بندی کر کے اسنیپ چیکنگ کا عمل شروع کیا۔ اس دوران سرمچاروں کے ایک دستے نے کسٹم تھانے کو مکمل اپنے قبضے میں لے کر وہاں موجود تمام اہلکاروں کو حراست میں لے لیا۔ تھانے کو ریکارڈز سمیت نذرِ آتش کر دیا گیا اور کسٹم کی ایک گاڑی تنظیمی تحویل میں لے لی گئی۔ حراست میں لیے گئے اہلکاروں کو بعد ازاں باحفاظت رہا کر دیا گیا۔ ناکہ بندی کے دوران جب قابض فوج کی کُمک نے اسی مقام پر پیش قدمی کی کوشش کی تو پہلے سے مستعد سرمچاروں نے ان پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں قابض فوج کے 4 اہلکار موقع پر ہی ہلاک اور 2 زخمی ہو گئے، جس کے بعد دشمن پسپا ہونے پر مجبور ہو گیا۔

انہوں نے کہاکہ دوسرے مرحلے میں سرمچاروں نے پولیس تھانے پر حملہ کرکے کامیابی سے اس پر قبضہ کرلیا اور وہاں موجود تمام اہلکاروں کو گرفتار کیا۔ تھانے میں موجود تمام اسلحہ اور حربی سامان کو اپنے تحویل میں لینے کے بعد سرمچاروں نے تھانے کو سرکاری ریکارڈز سمیت جلادیا۔ تنظیم کی جنگی اصولوں اور بلوچیت کے تحت تمام گرفتار اہلکاروں کو باعزت محفوظ راستہ دیا گیا۔ اس کے بعد سرمچاروں نے تھانے میں خود پوزیشنیں سنبھال کر فرنٹیئر کور (ایف سی) کے مرکزی کیمپ پر حملہ شروع کر دیا۔ اس دوران فوج کے ایک کواڈ کاپٹر کو سرمچاروں نے فضا میں ہی نشانہ بنا کر مار گرایا۔ قابض فوج نے بوکھلاہٹ میں کئی مارٹر گولے فائر کیے جو اطراف کی شہری آبادی پر گر گئے۔

ترجمان نے کہاکہ تیسرے مرحلے میں سرمچاروں نے ماشکیل میں فرنٹیئر کو ر (ایف سی) کے مرکزی کیمپ کے مرکزی گیٹ کے قریب پوزیشنیں سنبھال کر حملہ کیا۔ کیمپ کے گیٹ کے قریب واقع دو سیکیورٹی چوکیوں کو سرمچاروں نے ایل ایم جی، راکٹ لانچرز اور گرنیڈ لانچرز سے تباہ کر دیا، جس سے ایف سی کے 5 اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔

انہوں نے کہاکہ ادھر کمشنر ہاؤس کے قریب ایف سی کی ایک بکتر بند گاڑی سمیت تین گاڑیوں نے سرمچاروں کو گھیرنے کی کوشش کی، جسے ہمارے مستعد دستوں نے بروقت جوابی کارروائی سے ناکام بنا کر پسپا کر دیا۔ اس معرکے میں ایف سی کے مزید 3 اہلکار ہلاک اور 4 زخمی ہوئے۔

انہوں نے کہاکہ چوتھے مرحلے میں سرمچاروں کے ایک اور دستے نے ایف سی کیمپ پر دوسری سمت سے راکٹوں، گرنیڈ لانچرز اور خودکار ہتھیاروں سے حملہ کیا۔ اس حملے میں دشمن کی دو مزید چوکیاں تباہ ہو گئیں اور سرمچار براہِ راست کیمپ کے اندر بیرکوں اور کوارٹرز پر حملہ آور ہوئے، جس سے ایف سی کے 6 اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔ اس کارروائی کے دوران سرمچاروں نے فضا میں نگرانی کرنے والے فوج کے ایک کواڈ کاپٹر اور ایک جدید سرویلینس ڈرون کو بھی نشانہ بنا کر مکمل طور پر تباہ کر دیا۔

انہوں نے کہاکہ سرمچاروں کے ایک اور دستے نے ماشکیل میں قائم قابض فوج کے دوسرے کیمپ کو گھیر کر راکٹوں اور بھاری ہتھیاروں سے اس کے دو مورچے تباہ کر دیے، جس کے نتیجے میں مزید 4 اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے، جبکہ قابض فوج کا ایک اور کواڈ کاپٹر بھی مار گرایا گیا۔ سرمچاروں کے اس پے در پے حملوں نے دشمن کو ان کے بیرکوں میں محصور کر کے رکھ دیا۔

ترجمان نے کہاکہ پانچویں مرحلے میں شاہراہ پر پہلے سے موجود سرمچاروں کے چھٹے دستے نے کمک کی غرض سے بزکوہی کیمپ سے ماشکیل کی طرف روانہ قابض فوج کے قافلہ پر لدگشت کے مقام پر گھات لگا کر حملہ کیا۔ اس حملے میں فوج کے 3 اہلکار ہلاک اور 3 زخمی ہو گئے، جبکہ باقی گاڑیاں خوف کے مارے واپس بزکوہی کی طرف بھاگ گئیں۔

انہوں نے کہاکہ بلوچستان لبریشن فرنٹ بلوچ قومی تحریکِ آزادی کو محض زمین یا وسائل کا معاملہ نہیں سمجھتی، بلکہ یہ بلوچستان کی سر زمین پر بلوچ قومی آزادی کے حصول، قومی شناخت اور انسانی وقار کے تحفظ جیسے اعلیٰ قومی مقاصد کا مسئلہ ہے۔ ماشکیل جیسے اہم اور تاریخی شہر میں ہونے والے اس ہمہ جہتی و کثیر المراحلی گوریلا آپریشن کا مقصد صرف عسکری برتری ثابت کرنا نہیں تھا، بلکہ پاکستانی ریاست کی نوآبادیاتی عمل داری اور قابض فوج کے عسکری غرور کو سرِعام خاک میں ملانا تھا۔

آخر میں کہاکہ بلوچستان کے شہروں میں بی ایل ایف کی یہ کامیاب اور منظم کارروائیاں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ بلوچ سر زمین پر قابض ریاست کی عملداری تیزی سے ختم ہو رہی ہے۔ بی ایل ایف یہ عزم دہراتی ہے کہ وطن کی مکمل آزادی تک قابض ریاست اور اس کے تمام آلہ کاروں پر زمین اسی طرح تنگ کی جائے گی۔ اس تاریخی معرکے کو کامیابی سے مکمل کرنے کے بعد، ہمارے تمام سرمچار اور دستے طے شدہ حکمتِ عملی کے تحت بحفاظت اپنے محفوظ ٹھکانوں تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔