30 اگست: جبری گمشدگیوں کے عالمی دن کے موقع پر بلوچستان سے جبری طور پر لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ نے اپنے پیاروں کی بازیابی، ان کے بارے میں معلومات فراہم کرنے اور انہیں قانون کے مطابق عدالتوں کے سامنے پیش کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ برسوں سے جاری انتظار نے انہیں شدید ذہنی اذیت، بے یقینی اور مشکلات سے دوچار کر رکھا ہے، تاہم اپنے پیاروں کی واپسی کی امید اب بھی برقرار ہے۔
سعید احمد کی والدہ نے اپنے بیٹے کی جبری گمشدگی کو 13 سال مکمل ہونے پر کہا کہ ایک ماں کا انتظار آج بھی ختم نہیں ہوا۔ ان کے مطابق وہ گزشتہ 13 سال سے اس امید میں ہیں کہ شاید کسی دن ان کے بیٹے کے بارے میں کوئی خبر ملے یا وہ واپس گھر آ جائے، لیکن آج تک خاندان کو یہ نہیں بتایا گیا کہ وہ کہاں ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ لاپتہ افراد کو کہاں رکھا گیا ہے اور ان کے خاندانوں کو ان کے بارے میں معلومات کیوں فراہم نہیں کی جاتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی ماں سے اس کا بیٹا چھین لینا صرف ایک فرد کو لاپتہ کرنا نہیں بلکہ پورے خاندان کو برسوں کے انتظار اور اذیت میں مبتلا کرنا ہے۔
مہرگل مری کی بہن نے بھی اپنے بھائی کی 11 سالہ جبری گمشدگی کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ مہرگل مری گریڈ 18 کے سرکاری افسر اور ڈیوٹی ڈائریکٹر تھے۔ ان کے مطابق 2015 میں رات تقریباً تین بجے سرکاری اداروں کے اہلکاروں نے ان کے گھر پر چھاپہ مارا اور مہرگل مری کو اہلِ خانہ کے سامنے اپنے ساتھ لے گئے، جس کے بعد سے خاندان کو ان کے بارے میں کوئی معلومات نہیں دی گئیں۔
مہرگل مری کی بہن کا کہنا تھا کہ بھائی کی بازیابی کے لیے انہوں نے برسوں جدوجہد کی اور مختلف مشکلات کا سامنا کیا، تاہم امید نہیں چھوڑی۔ ان کے مطابق بھائی کی گمشدگی نے پورے خاندان کو شدید متاثر کیا، جبکہ ان کی والدہ مسلسل پریشانی اور ذہنی اذیت کے باعث شدید متاثر ہوئیں اور بالآخر اسی غم میں انتقال کر گئیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ مہرگل مری کی گمشدگی کے بعد خاندان کو ہراساں کیا جاتا رہا، گھر پر چھاپے مارے گئے اور انہیں خود بھی گرفتار کیا گیا۔
انہوں نے لاپتہ افراد کے لیے آواز اٹھانے والے دیگر افراد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ اور ان کے لیے آواز بلند کرنے والے کارکن بھی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ لاپتہ افراد کے مسئلے پر آواز اٹھانے والوں کو خاموش کرنے کے بجائے ان کے تحفظ اور آزادی کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔
داد شاہ بلوچ کی والدہ نے بھی اپنے بیٹے کی جبری گمشدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے بیٹے کو لاپتہ ہوئے پانچ ماہ گزر چکے ہیں اور یہ دوسری مرتبہ ہے کہ انہیں اس اذیت سے گزرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے 30 اگست کے موقع پر اپیل کی کہ داد شاہ بلوچ سمیت تمام لاپتہ افراد کے لیے آواز بلند کی جائے۔
متاثرہ خاندانوں نے کہا کہ اگر کسی شخص پر کوئی الزام یا جرم ہے تو اسے قانون کے مطابق عدالت کے سامنے پیش کیا جائے، جبکہ بے گناہ افراد کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ تمام جبری طور پر لاپتہ افراد کے بارے میں ان کے خاندانوں کو سچ اور مکمل معلومات فراہم کی جائیں اور ان کی بازیابی کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔
متاثرہ خواتین نے بلوچ معاشرے اور بالخصوص بلوچستان کے عوام سے اپیل کی کہ وہ 30 اگست کو جبری گمشدگیوں سے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کریں اور اپنے پیاروں کی بازیابی کے مطالبے میں ان کا ساتھ دیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جبری گمشدگی کسی ایک فرد یا خاندان کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک سنگین انسانی مسئلہ ہے۔
متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ برسوں گزرنے کے باوجود ان کا انتظار ختم نہیں ہوا اور مہرگل مری، سعید احمد، داد شاہ بلوچ سمیت دیگر لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ آج بھی اپنے پیاروں کی واپسی کے منتظر ہیں۔


















































