جبری گمشدگیوں کے عالمی دن پر کوئٹہ میں احتجاج، لاپتہ افراد کی بازیابی کا مطالبہ

21

جبری گمشدگیوں کے متاثرین کے عالمی دن کی مناسبت سے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے زیرِ اہتمام آج کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس میں جبری لاپتہ افراد کے لواحقین سمیت مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

مظاہرے سے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصراللہ بلوچ، جبری لاپتہ جہانزیب محمد حسنی، سدیس لانگو، بیبرگ قمبرانی، محمود علی لانگو، نعمت اللہ بلوچ، محمد ریاض ساتکزئی، علی اصغر اور مٹھا خان مری کے لواحقین، جبکہ کمیونسٹ پارٹی کے رہنما کریم پرہاد نے خطاب کیا۔

مقررین نے کہا کہ احتجاج کا مقصد جبری گمشدگیوں کے متاثرین اور ان کے خاندانوں کو درپیش کرب و اذیت کو حکمرانوں اور انصاف کی فراہمی کے لیے قائم اداروں کے سامنے اجاگر کرنا ہے، تاکہ انہیں اس انسانی المیے کی سنگینی کا احساس ہو اور وہ جبری گمشدگیوں کے خاتمے کے لیے مؤثر کردار ادا کریں۔

وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے کہا کہ وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز گزشتہ 17 سال سے جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کے خاتمے اور جبری لاپتہ افراد کی بازیابی کے مطالبات کے لیے پُرامن اور جمہوری دائرے میں رہتے ہوئے جدوجہد کر رہی ہے۔ اس دوران تنظیم مختلف حکومتوں اور انصاف کی فراہمی کے لیے قائم اداروں کے سامنے اپنا مؤقف پیش کرتی رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تنظیم کو متعدد مرتبہ جبری گمشدگیوں کے خاتمے اور لاپتہ افراد کی بازیابی کی یقین دہانیاں کرائی گئیں، تاہم ان وعدوں پر آج تک مؤثر عمل درآمد نہیں ہوسکا۔

نصراللہ بلوچ نے کہا کہ اس کے برعکس ملکی سلامتی کے نام پر جبری گمشدگیوں کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر جبری گمشدگیوں کے نئے کیسز سامنے آرہے ہیں، جبکہ بعض جبری لاپتہ افراد کے ماورائے عدالت قتل کی اطلاعات بھی موصول ہوتی ہیں۔ صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ خواتین اور بچوں کو بھی مبینہ طور پر سیاسی اور اجتماعی سزا کے طور پر جبری طور پر لاپتہ کیے جانے کے واقعات سامنے آرہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے 2025 میں جبری گمشدگیوں سے متعلق قانون سازی کے بعد اعلان کیا تھا کہ 2 فروری سے جبری گمشدگیوں کا خاتمہ کیا جائے گا اور کسی بھی شخص کو حراست میں لیے جانے کی صورت میں اسے 24 گھنٹوں کے اندر مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جائے گا، جبکہ زیرِ حراست افراد کو قانونی طریقہ کار کے مطابق حراستی مراکز میں رکھا جائے گا۔ تاہم زمینی حقائق حکومتی دعوے کے برعکس ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آج بھی لوگوں کو مبینہ طور پر جبری طور پر لاپتہ کیا جا رہا ہے۔ ان میں سے کچھ افراد کے حراستی مراکز میں موجود ہونے کی اطلاعات ہیں، لیکن اکثریت کو نہ کسی مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا ہے، نہ ہی انہیں حراستی مراکز میں رکھا گیا ہے اور نہ ہی ان کے خاندانوں کو ان کے بارے میں معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔ یہ صورتحال قانون کی حکمرانی، بنیادی انسانی حقوق اور انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔

مظاہرے کے شرکاء نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، تمام جبری لاپتہ افراد، بالخصوص جبری لاپتہ بلوچ خواتین، کی بازیابی یقینی بنائی جائے، جبری لاپتہ افراد کے ماورائے عدالت قتل کا سلسلہ روکا جائے اور تمام لاپتہ افراد کو منظرِ عام پر لاکر عدالتوں کے سامنے پیش کیا جائے۔

شرکاء نے مزید مطالبہ کیا کہ تمام زیرِ حراست افراد کو قانونی چارہ جوئی کا حق فراہم کیا جائے، ان کے خاندانوں کو ان کے بارے میں معلومات فراہم کی جائیں اور جبری گمشدگیوں کے مسئلے کے مستقل اور مؤثر حل کے لیے ملکی قوانین پر حقیقی معنوں میں عمل درآمد یقینی بناتے ہوئے فوری عملی اقدامات اٹھائے جائیں۔