بلوچ یکجہتی کمیٹی نے کہا ہے کہ پسنی کے علاقے شادی کور سے تعلق رکھنے والے سردل شیرخان کو پاکستانی فوج کے خفیہ ادارے ملٹری انٹیلی جنس (MI) نے 22 نومبر 2025 کو جبری طور پر لاپتہ کیا تھا۔
بیان کے مطابق سردل شیرخان تقریباً چھ ماہ تک لاپتہ رہے، اس دوران ان کے اہلِ خانہ کو ان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں اور وہ ان کی واپسی کے منتظر رہے۔
30 مئی 2026 کو اہلِ خانہ کو اطلاع ملی کہ سردل شیرخان کی لاش ایک دور افتادہ علاقے سے برآمد ہوئی ہے۔ اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ کئی ماہ تک اپنے پیارے کی واپسی کی امید رکھنے کے بعد انہیں ان کی لاش ملی، جبکہ ان کی گمشدگی اور موت کے حالات تاحال واضح نہیں ہوسکے ہیں۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی نے سردیل شیرخان کی ہلاکت کو ماورائے عدالت قتل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل، ٹارگٹ کلنگ اور جعلی مقابلوں کا سلسلہ جاری ہے۔
تنظیم نے مطالبہ کیا ہے کہ سردیل شیرخان کی گمشدگی، حراست اور موت کے واقعات کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داروں کا تعین کرکے انہیں قانون کے مطابق جواب دہ بنایا جائے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی نے عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں اور آزاد مبصرین سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت ہلاکتوں کے واقعات کا نوٹس لیں، متاثرہ خاندانوں کی آواز سنی جائے اور انہیں انصاف، سچائی اور جواب دہی فراہم کی جائے۔


















































