بلوچ یکجہتی کمیٹی نے ایک بیان میں کہاکہ پسنی کے علاقے شادی کور میں بلوچ آبادی کو ان کی اپنی زمین سے بے دخل کرنا بلوچ قوم کی بقا پر حملہ ہے۔ 11 اور 12 جولائی کو تقریباً پانچ ہزار افراد کو اپنے گھروں، زمینوں اور آبائی علاقوں سے نقل مکانی پر مجبور کیا گیا، جو بلوچستان میں پاکستانی جبر کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔
5 مئی کو پاکستانی فوج اور خفیہ ادارے ایم آئی کے اہلکاروں نے شادی کور کے لوگوں کو ایک مقام پر جمع کرکے بڑی تعداد میں مردوں کو حراست میں لیا اور انہیں تشدد اور تذلیل آمیز سلوک کا نشانہ بنایا۔ اس دوران تقریباً 40 افراد کو جبری طور پر لاپتہ کرکے شادی کور ڈیم میں قائم فوجی کیمپ منتقل کیا گیا۔ ان میں سے بعض افراد کو بعد ازاں رہا کردیا گیا، جبکہ متعدد افراد کو پسنی اور گوادر سمیت مختلف مقامات پر منتقل کیا گیا۔ جو تاحال لاپتہ ہیں۔
انہوں نے کہاکہ اسی دوران لوگوں کی نقل و حرکت پر پابندیوں اور خوراک سمیت دیگر بنیادی ضروریات تک رسائی پر پابندی نے شادی کور کی پوری آبادی کو اجتماعی اذیت میں مبتلا کیے رکھا۔ پسنی سے اپنے گھروں کے لیے راشن لے کر واپس آنے والے لوگوں کو گبڈی چیک پوسٹ پر روک کر واپس بھیج دیا گیا، جبکہ راستوں کی بندش کے باعث عام آبادی کو خوراک اور دیگر ضروری اشیا کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ پوری آبادی کو بنیادی ضروریات سے محروم رکھنا اور اسے اجتماعی سزا کا نشانہ بنانا ریاستی جبر کی انتہائی سنگین صورت ہے۔
ترجمان نے کہاکہ اسی جبر کے دوران سردل ولد شیر خان، جو تقریباً سات ماہ قبل ایم آئی کے اہلکاروں کے ہاتھوں جبری گمشدگی کا شکار ہوئے تھے، عیدالاضحیٰ کے دوسرے روز قتل کردیے گئے اور ان کی مسخ شدہ لاش پسنی کے علاقے چُر کراس پر پھینک دی گئی۔ ان کے ساتھ لاپتہ کیے گئے حاطر ولد لغاری کو بعد ازاں رہا کردیا گیا۔ ایک جانب لوگوں کو جبری طور پر لاپتہ کیا جارہا ہے اور دوسری جانب پوری آبادی کی نقل و حرکت اور روزمرہ زندگی کو محدود کیا جارہا ہے۔
ترجمان نے کہاکہ 9 اور 10 جولائی کو پاکستانی فوج نے مقامی لوگوں کو علاقہ خالی کرنے کے احکامات دیے۔ انہیں دھمکی دی گئی کہ اگر انہوں نے علاقہ خالی نہ کیا تو ان کے گھروں کو بھی جلا کر راکھ کردیا جائے گا۔ اس دھمکی کے بعد 11 اور 12 جولائی کو تقریباً پانچ ہزار افراد اپنے گھر، کھیت اور ذرائعِ روزگار چھوڑنے پر مجبور ہوگئے۔ آج متعدد خاندان پسنی، اورماڑہ، تربت اور دیگر علاقوں میں عارضی خیموں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔
انہوں نے کہاکہ شادی کور کا واقعہ بلوچ نسل کشی کی پالیسی کا حصہ ہے۔ گھروں کو مسمار کرنا، لوگوں کو ان کی زمینوں سے محروم کرنا، ان کے ذرائعِ روزگار چھیننا اور پھر خوف اور خاموشی مسلط کرنا جبر کی وہ صورتیں ہیں جن کے ذریعے ریاست پوری بلوچ قوم کو نیست و نابود کرنے کی کوشش کررہی ہے۔
مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی واضح کرتی ہے کہ بلوچوں کو ان کی اپنی ہی زمین پر بے گھر کرنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں، اقوامِ متحدہ کے متعلقہ اداروں اور عالمی برادری سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ بلوچستان میں جاری بے لگام ریاستی جبر، جبری گمشدگیوں، شہریوں کی حراست، نقل و حرکت پر عائد پابندیوں اور جبری بے دخلی کا فوری نوٹس لیں۔ شادی کور کے بے گھر خاندانوں کو اپنے گھروں اور زمینوں پر محفوظ اور باعزت واپسی کا حق دیا جائے اور جبری بے دخلی، خوف و ہراس اور ریاستی جبر پر مبنی اس پورے عمل کو فوری طور پر روکا جائے۔
















































