کوئٹہ: 13 سال سے جبری لاپتہ داد محمد مری اور صالح محمد مری کی بازیابی کا مطالبہ

8

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے زیرِ اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ 6337ویں روز بھی جاری رہا۔

اس موقع پر داد محمد مری اور صالح محمد مری کے لواحقین نے کیمپ میں شرکت کرکے احتجاج ریکارڈ کرایا۔

موریا مری نے کہا کہ صالح محمد مری اور داد محمد مری کو 23 مارچ 2013 کو فورسز نے کوئٹہ کے پرانے بس اڈے سے حراست میں لینے کے بعد جبری طور پر لاپتہ کردیا۔

انہوں نے کہا کہ دونوں افراد کا کیس تین سال تک کمیشن میں چلتا رہا۔ ان کی بازیابی کے لیے اعلیٰ حکام سے رابطوں کے علاوہ مسلسل پُرامن احتجاج بھی ریکارڈ کراتے رہے ہیں، تاہم نہ تو ان کے پیارے بازیاب ہوئے اور نہ ہی ان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم کی جارہی ہیں، جس کے باعث خاندان شدید کرب اور اذیت میں مبتلا ہے۔

انہوں نے حکومت اور متعلقہ حکام سے اپنے پیاروں کی فوری بازیابی کی اپیل کی۔

وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے کہا کہ جبری گمشدگیاں ماورائے آئین اقدام اور شہریوں کے بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ جبری گمشدگیوں کا فوری خاتمہ کیا جائے، کسی بھی شہری کو حراست میں لینے کی صورت میں اسے 24 گھنٹے کے اندر مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جائے، جبکہ داد محمد مری اور صالح محمد مری سمیت تمام لاپتہ افراد کو بازیاب کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ جن افراد پر الزامات ہیں، انہیں منظرِ عام پر لاکر عدالت میں پیش کیا جائے اور انہیں قانونی چارہ جوئی کا حق دیا جائے۔