بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ جاری ہے، جہاں کوئٹہ اور آواران سے تین افراد کے جبری طور پر لاپتہ کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ آواران سے لاپتہ کیے گئے شاکر بلوچ اور ان کی اہلیہ گل بانک بازیاب ہو گئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق کوئٹہ سے 16 سالہ طالب علم آغا گل ولد سعید احمد کیازئی کو 21 اگست 2026 کو شام چار بجے گھر سے اٹھا کر لاپتہ کیا گیا۔ اہلِ خانہ کے مطابق آغا گل کے جبری گمشدگی میں ایف سی اور سی ٹی ڈی کے اہلکار ملوث ہیں۔
دوسرے واقعے میں کیچی بیگ، کوئٹہ کے رہائشی 27 سالہ حفیظ اللہ بلوچ ولد خیراللہ کو 8 جولائی 2026 کو شام ساڑھے چھ بجے شاہوانی اسٹیڈیم، کوئٹہ سے لاپتہ کیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق ان کی جبری گمشدگی میں آئی ایس آئی اور سی ٹی ڈی کے اہلکار ملوث ہیں۔
دریں اثنا آواران کے علاقے کولواہ سے 40 سالہ کسان رفیق بلوچ ولد بہاء الدین اور 34 سالہ مزدور شاکر بلوچ ولد عبداللہ کو 22 اگست 2026 کی رات ساڑھے بارہ ایف سی اور فوج کے اہلکاروں نے لاپتہ کیا۔
تاہم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے مطابق شاکر بلوچ اور ان کی اہلیہ گل بانک، جو بھی لاپتہ تھیں، 24 اگست کو آواران سے بازیاب ہو گئے ہیں۔
وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز نے شاکر بلوچ اور ان کی اہلیہ گل بانک کی بازیابی کو ایک مثبت عمل قرار دیتے ہوئے اس کا خیرمقدم کیا ہے۔ تنظیم نے کہا ہے کہ تاہم ان کے ساتھ جبری طور پر لاپتہ کیے گئے رفیق بلوچ تاحال لاپتہ ہیں اور امید ہے کہ انہیں بھی جلد بازیاب کرکے ان کے اہلِ خانہ کے حوالے کیا جائے گا۔

















































