گذشتہ روز اوستہ محمد سے برآمد ہونے والی تین لاشوں کی شناخت ہوگئی ہے۔
بلوچستان کے علاقے اوستہ محمد سے 24 اگست کو برآمد ہونے والی تین لاشوں کی شناخت بلوچستان کے مختلف علاقوں سے پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگی کا شکار ہونے والے لاپتہ افراد کے طور پر ہوئی ہے۔
مقتولین میں بلوچستان کے علاقے بولان، مچھ سے مئی 2026 میں جبری گمشدگی کا شکار ہونے والے لیویز اہلکار حافظ محمد وقاص، ان کے بھائی مٹھا خان ولد نواب خان، جبکہ دشت سبزنڈ کے رہائشی نوجوان مقبول احمد ولد جان محمد شامل ہیں۔
تینوں نوجوان مدرسے کے طالب علم تھے، جبکہ ان میں حافظِ قرآن بھی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق جبری گمشدگی کا نشانہ بننے والے ان نوجوانوں کی لاشیں 24 اگست کو اوستہ محمد سے برآمد کی گئی ہیں، جنہیں تشدد کے بعد قتل کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ حالیہ دنوں بلوچستان کے مختلف علاقوں، جن میں پنجگور، مستونگ اور خاران شامل ہیں سے پندرہ سے زائد لاشیں برآمد ہوئی ہیں، جنہیں قتل کرنے کے بعد لاشیں پھینک دی گئی تھی۔
پنجگور سے برآمد ہونے والی دس لاشوں میں سے متعدد کی شناخت پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگی کا نشانہ بننے والے افراد کے طور پر ہوئی تھی، جبکہ متعدد لاشوں کی شناخت تاحال نہیں ہوسکی ہے۔
بلوچستان میں کئی سالوں سے جبری گمشدگی کا شکار افراد کی لاشیں برآمدگی کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے، بلوچستان کی سیاسی جماعتوں اور عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں کا الزام ہے کہ پاکستانی فورسز بلوچ لاپتہ افراد کو دورانِ حراست قتل کرکے ان کی لاشیں پھینک دیتی ہیں۔
سیاسی و انسانی حقوق کی تنظیموں نے متعدد بار ریاستی اداروں سے لاپتہ افراد کے قتل کا سلسلہ بند کرنے، جبری گمشدگی کا شکار افراد کو منظرِعام پر لانے اور انہیں منصفانہ ٹرائل کا حق دینے کا مطالبہ کیا ہے، تاہم پاکستانی حکومت اور سیکیورٹی ادارے جبری گمشدگیوں میں ملوث ہونے سے انکاری ہیں، جس کے باعث اس معاملے پر تاحال کوئی پیش رفت سامنے نہیں آسکی ہے۔


















































