ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس: دعوے، اعداد و شمار اور زمینی حقائق ۔ ٹی بی پی اداریہ
اکتیس جولائی کی دوپہر کو پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کی پریس کانفرنس میں بلوچستان کی موجودہ صورتحال، لاپتا افراد اور دیگر مسائل پر تفصیلی گفتگو کی۔ فوجی ترجمان نے بلوچستان کے حوالے سے اس تاثر کو مسترد کیا کہ بلوچستان میں مسلسل تباہ حال یا مکمل طور پر بدامنی کی لپیٹ میں ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ بعض حلقے جان بوجھ کر بلوچستان کے حالات کو خراب ظاہر کرتے ہیں۔ پریس کانفرنس میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں 40,348 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے گئے، جن میں سب سے زیادہ اکتیس ہزار آپریشن بلوچستان میں ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔ تاہم یہی اعداد و شمار ایک مختلف سوال بھی پیدا کرتے ہیں کہ اگر بلوچستان میں صورتحال اتنی معمول کے مطابق ہے، جیسا کہ سرکاری بیانیہ پیش کرتا ہے، تو پھر بلوچستان میں اتنے بڑے پیمانے پر مسلسل فوجی آپریشنز کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے؟ کیا اتنی بڑی تعداد میں آپریشن خود اس بات کی علامت نہیں کہ بلوچستان بدستور ایک پیچیدہ سیکیورٹی بحران سے گزر رہا ہے؟ یہی وہ مقام ہے جہاں سرکاری مؤقف اور زمینی مشاہدات کے درمیان ایک فاصلہ نظر آتا ہے۔ اگر گزشتہ کئی برسوں سے بڑے پیمانے پر آپریشن جاری ہیں، تو پھر بلوچستان اب بھی سلسلہ مخدوش صورتحال سے دوچار ہے تو بلوچستان کا مسئلہ محض مسلح کارروائیوں تک محدود نہیں رہا۔ یہاں ریاستی رٹ، سیاسی نمائندگی، انسانی حقوق اور عوامی اعتماد جیسے عوامل بھی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
اگر بلوچستان کے حالات کا باریک بینی اور غیر جانبداری سے تجزیہ کیا جائے تو زمینی حقائق سرکاری بیانیے سے خاصے مختلف دکھائی دیتے ہیں۔ بلوچستان میں آئے روز فورسز پر حملوں کی اطلاعات سامنے آتی رہتی ہیں۔ اسی طرح بلوچستان کی اہم شاہرہیں مکمل طور پر غیر محفوظ ہیں، سکیورٹی خدشات کے ٹرانسپورٹر حضرات اپنی گاڑیاں کھڑی کرکے احتجاج بھی کررہے ہیں اور محفوظ سفری ماحول کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اگر گزشتہ کئی برسوں کے دوران کیے گئے انٹیلی جنس بنیادوں پر فوجی آپریشنوں کی مجموعی تعداد کا جائزہ لیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ ریاست کو بلوچستان میں مسلسل مسائل کا سامنا ہے۔ اسی تناظر میں یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ صورتحال معمول کے مطابق قرار دینا زمینی حقائق کی مکمل عکاسی نہیں کرتا۔
آئی ایس پی آر نے بلوچستان کی خراب صورتِ حال کی تمام تر ذمہ داری بین الاقوامی سازش پر عائد کر دی۔ تاہم بلوچستان کے مخدوش صورتحال کو محض غیر ملکی مداخلت یا بیرونی سازشوں کا نتیجہ قرار دینا زمینی حقائق کی مکمل عکاسی نہیں کرتا۔ بلوچستان کے مسئلے کی جڑیں کئی دہائیوں پر محیط سیاسی، سماجی اور قومی مسائل وابستہ ہیں۔ بلوچستان میں سیاسی محرومیاں، لاپتہ افراد کا مسئلہ، اور مختلف ادوار میں اختیار کی جانے والی سخت سکیورٹی پالیسیوں اور انسانی حقوق کے مسائل بلوچستان میں پائی جانے والی بے چینی کی اہم وجوہات میں شامل ہیں۔ اسی لیے بلوچستان کے مسئلے کا حقیقت پسندانہ تجزیہ یہ تقاضا کرتا ہے کہ اسے صرف بیرونی مداخلت کے زاویے انصاف کے تقاضوں پہ پورا نہیں اترتا، بلکہ ان داخلی عوامل کا بھی سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے جو برسوں سے یہاں کے عوام کی شکایات کے اسباب بنے ہیں۔ صرف سکیورٹی اقدامات یا تمام تر ذمہ داری بیرونی عوامل پر عائد کرنے سے مسئلے کے مختلف پہلوؤں کو مکمل طور پر سمجھنا ممکن نہیں ہوگا۔
بلوچستان میں اگر کوئی مسئلہ سب سے زیادہ حساس ہے تو وہ لاپتا افراد کا معاملہ ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں سے یہ مسئلہ ملکی سیاست، انسانی حقوق کے مباحث اور بین الاقوامی اداروں کی توجہ کا مرکز رہا ہے۔ ریاستی ادارے مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ بعض لوگ بیرون ملک یا دیگر علاقوں میں چلے گئے، جبکہ گذشتہ دنوں پریس کانفرنس میں حسب روایت ڈی جی آئی ایس پی آر نے اسی بیانیہ کو دہراتے ہوئے کہا لاپتہ افراد مسلح تنظیموں میں شامل ہیں۔ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے معاملے پر بین الاقوامی انسانی حقوق کے ادارے بھی وقتاً فوقتاً تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کا جبری گمشدگیوں سے متعلق ورکنگ گروپ پاکستان کے حوالے سے متعدد کیسز پر کام کر چکا ہے۔ اس ادارے نے مختلف مواقع پر پاکستان سے مطالبہ کیا کہ لاپتا افراد کے معاملات کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور متاثرہ خاندانوں کو معلومات فراہم کی جائیں۔ اسی طرح انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں جیسے ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ بھی اپنی رپورٹس میں بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے الزامات کا ذکر کرتی رہی ہیں۔ لاپتا افراد کا مسئلہ نہایت حساس اور انسانی حقوق کا معاملہ ہزاروں خاندانوں کے درد، انتظار اور اذیت سے جڑا ہوا ایک انسانی المیہ ہے۔ اس طرزِ بیان متاثرہ خاندانوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہو سکتا ہے۔ اگر واقعی ریاست اپنے مؤقف کو مضبوط اور قابلِ قبول بنانا چاہتی ہے تو اس کا راستہ عمومی دعووں سے نہیں بلکہ شفاف تحقیقات، قابلِ تصدیق شواہد، غیر جانبدار عدالتی نگرانی اور قانون کے یکساں اطلاق سے ہو کر گزرتا ہے۔ بصورتِ دیگر ایسے بیانات نہ صرف بلوچستان میں پہلے سے موجود بداعتمادی کو مزید گہرا کریں گے بلکہ ان خاندانوں کے احساسات کو بھی شدید مجروح کریں گے جو برسوں سے اپنے پیاروں کی واپسی کی امید پر زندگی گزار رہے ہیں۔
آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس میں بلوچستان کے مسائل کی ایک وجہ بعض سرداروں اور قبائلی اشرافیہ کے کردار کو بھی قرار دیا گیا۔ ریاستی مؤقف میں ماضی سے یہ کہا جاتا رہا ہے کہ بلوچستان کے مسائل میں بعض مقامی طاقتور طبقات اور بیرونی عناصر شامل ہے۔ تاہم اس مؤقف پر بلوچستان کے بعض قوم پرست حلقے شدید اختلاف کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ دور میں بلوچستان کے متعدد بااثر سردار اور قبائلی شخصیات ریاستی اداروں کے قریب سمجھے جاتے ہیں اور انہیں سیاسی عمل میں اہم مقام حاصل ہے۔ قوم پرست ناقدین کا الزام ہے کہ ماضی میں بھی ریاستی پالیسیوں کے تحت ایسے سیاسی اور قبائلی چہروں کو اہمیت دی گئی جو مرکز کے لیے قابلِ قبول تھے، جبکہ وہ سیاسی آوازیں جو زیادہ خود مختاری، وسائل پر اختیار یا سخت سیاسی مؤقف رکھتی تھیں، انہیں محدود کیا گیا۔ قوم پرست جماعتوں اور بعض سیاسی کارکنوں کا الزام ہے کہ ماضی میں سیاسی انجینئرنگ کے ذریعے ایسے عناصر کو زیادہ اہمیت دی گئی جو ریاستی پالیسیوں کے قریب تھے، جبکہ اختلافی آوازوں کو محدود کیا گیا۔
بلوچستان میں ہر گزرتے دن کے ساتھ حالات مزید پیچیدہ اور گھمبیر ہوتے جا رہے ہیں۔ امن و امان، سیاسی عدم استحکام، معاشی محرومی، جبری گمشدگیوں نے عوامی بے چینی اور ریاست پر اعتماد کے کمی کو جنم دے رہے ہیں۔ جبکہ ریاست کی سخت گیر اور عسکری نوعیت کی پالیسیوں نے بلوچستان میں احساسِ محرومی اور ریاست سے دوری کو مزید گہرا کیا ہے۔ اگر موجودہ طرزِ فکر اور پالیسیاں یہی رہیں، اور زمینی حقائق کے برعکس بیانیہ تراشنے کا سلسلہ اسی طرح جاری رہا، تو بلوچستان کے حالات مزید پیچیدہ ہوں گے۔ جس کا فائدہ براہ راست بلوچ مسلح تنظیموں کو پہنچے گا۔ دوسری جانب، بلوچستان کے حقیقی سیاسی، سماجی اور قومی مسئلے کو نظر انداز کرتے ہوئے تمام تر ذمہ داری بیرونی عوامل یا غیر ملکی سازشوں پر ڈال دینا نہ صرف حقیقت سے فرار ہے بلکہ ایک ایسی پالیسی ہے جس کی وجہ سے گزشتہ کئی سے بلوچستان کے حالات دگرگوں چلے آ رہے ہیں۔ جب تک ریاست اپنی غلطیوں کا ادراک کرتے ہوئے عوامی شکایات، سیاسی حقوق اور انصاف کے تقاضوں کو سنجیدگی سے تسلیم نہیں کرتی، بلوچستان میں امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔













































