سعودی عرب کا ڈرون حملوں کے بعد عراقی ملیشیا پر حملہ

73

سعودی وزارتِ دفاع نے بدھ کی صبح بتایا ہے کہ اس نے عراق میں موجود ایران کے حامی گروہوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔

عرب نیوز سوشل میڈیا پر جاری کیے گئے ایک بیان میں وزارتِ دفاع کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کشیدگی نہیں چاہتا، تاہم کسی بھی قسم کی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

بیان کے مطابق یہ کارروائی امریکی افواج کے ساتھ مل کر مشترکہ طور پر کی گئی ہے۔

اس سے قبل وزارت کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ منگل کی شام مشرقی صوبے میں تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کرنے والے متعدد ڈرونز کو فضاء ہی میں تباہ کر دیا گیا تھا۔

وزارتِ دفاع کے سرکاری ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کا کہنا تھا کہ یہ ’دہشت گردانہ‘ حملے ایک بار پھر عراقی سرزمین سے کیے گئے جن میں ایران کے حامی شدت پسند گروہ ملوث تھے۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مملکت کو اپنا اور اپنے اثاثوں کا دفاع کرنے کا پورا حق حاصل ہے اور وہ مناسب وقت اور جگہ پر اس کا جواب دینے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

یاد رہے کہ پیر کو بھی عراق کی جانب سے فائر کیے گئے ان ڈرونز کو ہوا ہی میں ناکارہ بنا دیا گیا تھا جن کے ذریعے سعودی عرب کے مشرقی صوبے اور ریاض میں قائم تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔

عراق میں امریکہ اور سعودی عرب کے مشترکہ حملوں کے بعد پاپولر موبلائزیشن فورسز کی آٹھ افراد کی ہلاکت کی تصدیق

امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹکام) کی جانب سے عراق میں ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کے خلاف مشترکہ کارروائی کا اعلان کیے جانے کے بعد ایرانی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اور سعودی عرب نے عراق کے صوبوں کربلا اور نینوا میں پاپولر موبلائزیشن فورسز کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔

بی بی سی فارسی کے مطابق پاپولر موبلائزیشن فورسز عراق کی شیعہ ملیشیاؤں اور نیم فوجی گروہوں کا ایک اتحاد ہے جسے ایران کی حمایت حاصل ہے اور جس کے پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے ساتھ قریبی تعلقات بتائے جاتے ہیں۔ ایران اسے خطے میں اپنے اتحادی نیٹ ورک، جسے عموماً ’محورِ مزاحمت‘ کہا جاتا ہے، کا اہم حصہ قرار دیتا ہے۔

عراقی حکومت نے بدھ کی صبح ہونے والے ان حملوں پر تاحال باضابطہ ردعمل نہیں دیا، تاہم ایک روز قبل بغداد نے کہا تھا کہ وہ سعودی عرب کے اس الزام کی تحقیقات کرے گا کہ عراق کی سر زمین سے سعودی تنصیبات پر ڈرون حملے کیے گئے تھے، اور ایسی کارروائیوں کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

دوسری جانب پاپولر موبلائزیشن فورسز نے امریکہ اور سعودی عرب کی کارروائی کے بعد ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ شمالی عراق میں اس کے ٹھکانوں پر ہونے والے حملوں میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک اور چار زخمی ہوئے ہیں۔

ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق پاپولر موبلائزیشن فورسز نے اپنے بیان میں کہا: ’ہم ان حملوں کو انتہائی خطرناک اشتعال انگیزی، عراق کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی اور ملک کے سرکاری سکیورٹی اداروں کو نشانہ بنانے کے مترادف سمجھتے ہیں۔‘