بلوچ لبریشن آرمی نے جانبحق تین سرمچاروں کے تفصیلات شائع کردئے

0

بی ایل اے نے خضدار میں پاکستانی فورسز سے جھڑپوں میں جانبحق اپنے تین ساتھیوں کے تفصیلات میڈیا میں جاری کردئے ہیں۔

بلوچ لبریشن آرمی نے بلوچستان کے ضلع خضدار میں پاکستانی فورسز سے جھڑپوں میں جانبحق ہونے والے اپنے تین سرمچاروں کے تصاویر اور تفصیلات تنظیم کے آفیشل چینل “ہکل” پر جاری کردیا ہے۔

تنظیم کے مطابق جانبحق ہونے والے سرمچاروں میں شامل خضدار مولہ کے رہائشی بیس سالہ فہیم مگسی عرف نظر جان ولد نثار احمد مگسی نے گزشتہ سال بلوچ لبریشن آرمی میں شمولیت کا اخلاقی، شعوری اور ادراکی فیصلہ کرتے ہوئے ناگاہو کے محاذ پر تنظیمی کیمپ جوائن کیا اور قومی خدمات کا آغاز کیا۔

تنظیم کے مطابق انہوں نے جلد ہی جنگ کے تیز رفتار اور جدید تقاضوں سے خود کو ہم آہنگ کیا اور جنگی محاذ پر بھرپور انداز میں متحرک ہو گئے، بنیادی فوجی کورسز کی تکمیل کے بعد انہوں نے فرنٹ لائن محاذ جوائن کیا اور آپریشن ہیروف دوئم میں اپنی جنگی خدمات انجام دینے سمیت متعدد اہم اور شدید جنگی حملوں میں حصہ لیا۔

“ان میں جنگی حکمت عملی اور طریقہ کار کو سمجھنے کی غیر معمولی صلاحیت موجود تھی، اور وہ جنگ کے دوران ابھرتے ہوئے حالات کا جلد ادراک کرنے اور انہیں اپنے حق میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے”

تنظیم کے مطابق گذشتہ سال 7 جولائی 2025 کو تنظیم کا حصہ بننے والے فہیم سمجھدار اور تعلیم یافتہ نوجوان تھے، جن میں قومی شعور اور پنجابی قبضے کے خلاف مزاحمت کا فیصلہ اچانک یا حادثاتی طور پر پیدا نہیں ہوا تھا، بلکہ یہ اس جدلیاتی شعور کا نتیجہ تھا جو بلوچستان کے تاریخی اور زمینی حالات کے تناظر میں تشکیل پایا تھا۔

“وہ سوال اٹھانے، تنقیدی انداز میں سوچنے اور علمی نتائج تک پہنچنے کی شعوری صلاحیت رکھتے تھے اور اسی شعور کو انہوں نے اپنی عملی زندگی کا فلسفہ بنا لیا تھا، تنظیمی سرگرمیوں میں وہ ہمیشہ گہری دلچسپی کے ساتھ حصہ لیتے تھے اور ہر ذمہ داری کو انتہائی لگن اور انہماک سے انجام دیتے تھے”

تنظیم کے مطابق دشمن کو متعلقہ علاقوں میں پیچھے دھکیلنے اور تنظیمی طاقت و برتری کو برقرار رکھنے میں انہوں نے اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ بھرپور کردار ادا کیا، انہی صلاحیتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے تنظیم نے انہیں گشتی کمان کی ذمہ داری سونپی، جسے انہوں نے آخر تک بہترین نظم و ضبط اور پروفیشنلزم کے ساتھ نبھایا۔

بی ایل اے نے کہا ہے ایف ایس سی کے طالب علم شہید فہیم مگسی نے جس نظریے کی بنیاد پر مزاحمت کا راستہ اختیار کیا، اس پر وہ آخری دم تک ثابت قدم رہے۔ دھرتی پر فدا ہو کر انہوں نے ہمیشہ کے لیے اپنی قوم کا پرچم بلند رکھا ان کی قربانیاں بلوچ تاریخ کا ایک ناقابل فراموش باب رہیں گی، اور ایک دن آزاد بلوچستان کی صورت میں ان کی جدوجہد کا ثمر آنے والی نسلوں تک پہنچے گا۔

تنظیم کی جانب سے ہکل پر جاری کردہ تفصیلات میں شامل

مولہ خضدار کے رہائشی 26 سالہ دینی تعلیم کے طالب علم جمعہ خان عرف بورجان ولد زرک خان جتک کے حوالے کہا ہے انہوں نے 20 جولائی 2025 میں تنظیم کا حصہ بنیں۔

تنظیم کے مطابق جمعہ خان عرف بورجان نے قومی آزادی کو انسانی وقار کی بنیاد سمجھتے ہوئے، اور بلوچستان پر پاکستان جیسے ایک دہشت گرد اور غیر تہذیب یافتہ قابض کے قبضے کو انسانی تذلیل کے مترادف محسوس کرتے ہوئے، گزشتہ سال بلوچ لبریشن آرمی کے پلیٹ فارم سے آزاد بلوچستان کے قیام کے لیے مسلح جدوجہد کا آغاز کیا۔

“تنظیمی کمانڈ کے احکامات پر انہوں نے ناگاہو ریجن میں اپنا مورچہ سنبھالا اور بنیادی فوجی کورسز کی تکمیل کے بعد تنظیمی نظم و ضبط کے تحت اپنی ذمہ داریاں نبھانا شروع کیں وہ اپنے مقصد اور اہداف کے حوالے سے انتہائی واضح فکر رکھنے والے جہدکار تھے، اور دشمن کے خلاف بہادری سے لڑنے اور کسی بھی معرکے میں اسے پیچھے دھکیلنے کی بھرپور صلاحیت رکھنے والے سنگت تھے”

بی ایل اے کے مطابق شہید بورجان صرف قومی فکر سے ہی آشنا نہیں تھے بلکہ انہیں دینِ اسلام کا بھی گہرا علم حاصل تھا اور وہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اس بات پر قائل تھے کہ پنجابی جیسے ایک قبضہ گیر کے خلاف مسلح مزاحمت اور جنگ ہی وہ واحد راستہ ہے جس کے ذریعے ایک ایسی ریاست کا قیام ممکن ہو سکتا ہے جو عملی طور پر لوگوں کے حقوق اور آزادی کا تحفظ کر سکے۔

تنظیم نے کہا شہید بورجان اس حقیقت سے بھی واقف تھے کہ پاکستان اسلام کے نام پر عالم انسانیت کے لیے ایک خطرہ ہے، جو قبضے، لوٹ مار اور غیر انسانی و غیر اسلامی روایات کے ذریعے خود کو برقرار رکھنا چاہتا ہے اور جس کا خاتمہ اس خطے اور انسانیت کے تحفظ کے لیے ضروری ہے، انہوں نے عملی میدان میں اتر کر اور اپنی بہترین خدمات کے ذریعے قوم کو یہ پیغام دیا کہ بلوچستان کی آزادی کی جدوجہد ہر طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے فرد کی ذمہ داری ہے۔

بی ایل اے کے مطابق انہوں نے جس راہ کا شعوری انتخاب کیا، اس پر وہ آخر تک استقامت کے ساتھ قائم رہے، انہوں نے زیدی کے مقام پر علاقے پر قبضہ حاصل کرنے اور دشمن کو بھاری نقصان پہنچانے میں اپنا بھرپور انفرادی کردار ادا کیا اور جھڑپوں کے دوران دیگر ساتھیوں کی حفاظت اور سلامتی کو یقینی بناتے ہوئے خود شہادت حاصل کی ان کی قربانیاں بلوچ قومی تاریخ کے صفحات پر ہمیشہ زندہ رہیں گی۔

مزید برآں تنظیم نے اپنے جانبحق تیسرے سرمچار کے حولے بتایا ہے کہ 35 سالہ شہید صالح محمد عرف گہرام خان ولد عبداللہ جتک نے پاکستانی جارحیت اور غیر اخلاقی قبضے کا ادراک کرتے ہوئے گزشتہ سال بلوچ لبریشن آرمی کی انقلابی اور قومی صفوں میں شامل ہو کر دشمن کے خلاف تنظیم کے پلیٹ فارم سے مسلح جدوجہد کا عملی آغاز کیا۔

تنظیم کے مطابق دشمن کے سفاک عزائم کے خاتمے کے لیے انہوں نے ناگاہو کے محاذ پر مورچہ سنبھالا اور بنیادی فوجی تربیت حاصل کی، تربیتی کورسز کی تکمیل کے بعد انہوں نے عملی طور پر فوجی گشتوں میں شمولیت اختیار کی اور کئی معرکوں میں دشمن کے درندہ صفت فوجیوں کو خون میں نہلا دیا، وہ دشمن کے خلاف منظم جنگی حکمت عملی اور طریقہ کار پر یقین رکھتے تھے اور تنظیم کی انہی پالیسیوں پر عمل درآمد میں پیش پیش رہے۔

بی ایل اے کے مطابق صالح محمد ان تاریخی حقائق سے بخوبی باخبر تھے کہ یہ جنگ بلوچ قوم نے پنجابی پر نہیں، بلکہ پنجابی نے بلوچ قوم پر زبردستی مسلط کی ہے، اپنے قبضے کے ذریعے وہ بلوچ قومی تاریخ، شناخت، روایات اور تہذیب کو مٹانا چاہتا ہے اور بلوچ قوم سے اس کی سرزمین اور حقِ زندگی چھین لینا چاہتا ہے۔

“اسی لیے ان کے نزدیک یہ جنگ صرف دفاع یا ریاست کی بحالی کی جنگ نہیں تھی بلکہ بلوچ شناخت کی بقا اور تحفظ کی بھی جنگ تھی، وہ جنگ کے میدان میں مستقل مزاج، ثابت قدم اور حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے والے سنگتوں میں شمار ہوتے تھے”

تنظیم نے کہا ہے ان میں یہ صلاحیت موجود تھی کہ وہ کسی بھی بڑی سے بڑی ذمہ داری کو خوش اسلوبی سے نبھاتے اور کامیابی سے مکمل کرتے، اپنے عمل اور کردار کی بدولت وہ ہمیشہ دشمن کے سامنے ایک مضبوط رکاوٹ کی مانند موجود رہے۔

بلوچ لبریشن آرمی نے جانبحق رکن کے حوالے مزید کہا ہے کہ انہوں نے اپنے عمل کے ذریعے دشمن پر واضح کر دیا کہ بلوچ آج اس حد تک طاقت ور اور باصلاحیت ہو چکا ہے کہ وہ اپنی قوت کے بل پر دشمن کو بلوچستان سے باہر نکالنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اسی سوچ کے تحت انہوں نے تنظیم کے ایک اہم آپریشن میں زیدی کے مقام پر دشمن پر ایک بڑے حملے میں حصہ لیا اور آپریشن کو کامیابی سے ہمکنار کرتے ہوئے دشمن کی پیش قدمی کو روکا، اسے شدید نقصان پہنچایا اور اسی معرکے میں شہادت حاصل کرکے بلوچ تاریخ میں اپنا نام ہمیشہ کے لیے نقش کردیا۔