بلوچستان میں لائبریریوں کی فعالیت اور سہولیات کی فراہمی کے لیے “ بلوچستان لائبریری کیمپئین “کا آغاز کرتے ہیں۔بساک

62

بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے ترجمان نے کہاکہ بلوچستان میں تعلیم کی زبوں حالی سے ہر ذی شعور شخص واقف ہے، جو سالوں سے بلوچ عوام کی قسمت کا حصہ بن چکی ہے۔ اس جدید دور میں بھی بلوچستان میں شرحِ خواندگی چالیس فیصد سے آگے نہیں بڑھ رہی۔ بہت سے علاقوں میں بڑی تعداد میں بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ اس کی وجہ ایک طرف جہاں اسکولوں کی تالابندی ہے، وہیں دوسری جانب ان میں بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی بھی ہے۔ اس کے باوجود محنتی بلوچ نوجوان اپنی تعلیم جاری رکھنے کے لیے دیگر ذرائع استعمال کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ ان ذرائع میں سے ایک اہم سہولت لائبریریاں ہیں، جہاں جا کر طلبہ اپنی تعلیمی ضروریات پوری کرتے ہیں۔ لیکن اسکولوں اور کالجوں کے بعد اب لائبریریاں بھی یا تو بند ہیں یا مکمل طور پر غیر فعال ہو چکی ہیں۔ حکومتی عدم توجہی اور ضلعی انتظامیہ کی بدانتظامی اور بے ضابطگی نے ان لائبریریوں کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں لائبریریاں پہلے ہی نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ایک طرف جہاں متعدد علاقوں میں لائبریریوں کا نام و نشان تک نہیں اور ان کی عمارتیں بھی وجود نہیں رکھتیں، وہیں دوسری طرف پچھلے کچھ سالوں سے قائم پبلک لائبریریوں میں چوری اور توڑ پھوڑ کے واقعات کے بعد انہیں بند کر دیا گیا ہے۔ ان کی واضح مثال مستونگ اور قلات میں لائبریریوں میں چوری اور توڑ پھوڑ کے رونما ہونے والے واقعات ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ سب ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت کیا جا رہا ہے تاکہ بلوچ طلبہ تعلیمی سہولیات سے محروم رہیں۔ یہ حکومتی بدنیتی کا ثبوت ہے کہ آج تک ایک بھی ملزم کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی۔ واضح رہے کہ ہم نے بارہا حکومت کو اس جانب متوجہ کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان لائبریریوں کو بحال کرنا تو دور کی بات، جو لائبریریاں پہلے سے موجود ہیں انہیں بھی بند کیا جا رہا ہے۔ ان میں سے ایک نصیر آباد پبلک لائبریری بھی پچھلے کئی مہینوں سے بند پڑی ہے، جہاں نہ بیٹھنے کا کوئی انتظام ہے اور نہ ہی بجلی اور پنکھوں کی سہولت موجود ہے۔ نصیر آباد جیسے گرم ترین علاقے میں ان سہولیات کا نہ ہونا لائبریری کو عملًا بند کرنے کے مترادف ہے۔ اسی طرح پورے ضلع خاران میں صرف ایک لائبریری ہے، جو کہ محض ایک کمرے پر مشتمل ہے اور تمام تر بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔ وہاں نہ بیٹھنے کا مناسب انتظام ہے اور نہ ہی بجلی یا دیگر سہولیات میسر ہیں۔ اسی ایک کمرے کے ایک چھوٹے سے کونے میں طالبات بھی پڑھتی ہیں۔ ان کے لیے ایک الگ لائبریری کی عمارت منظور تو ہوئی ہے، لیکن آج تک اس کی بنیاد نہیں رکھی جا سکی۔ مزید برآں، کراچی کے بلوچ علاقوں خاص لیاری، لیمارکیٹ اور ملیر میں لائبریریز یا تو بند کئے گئے ہیں یا پھر کمیونٹی حال اور بوکسنگ کلبز میں تبدیل کروائے گئے ہیں، جوکہ انتہائی قابِل افسوس ہے۔

مزید کہاکہ ہم بند اور غیر فعال لائبریریوں کی بحالی سمیت پہلے سے موجود لائبریریوں میں سہولیات کے فقدان پر اپنی سخت تشویش کا اظہار کرتے ہیں اور اسے تعلیم دشمنی سمجھتے ہیں۔ ہم میڈیا کے توسط سے بلوچستان میں نئی لائبریریوں کے قیام، بند اور غیر فعال لائبریریوں کی بحالی اور سہولیات کی فراہمی کے لیے ”بلوچستان لائبریری مہم“ کے نام سے ایک لائبریری کیمپئن کا آغاز کررہے ہیں۔ اس مہم کے ذریعے ہم حکومتِ وقت سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ لائبریریوں کی فعال سازی اور درپیش مسائل کے حل کے لیے فوری اور جدّی فیصلہ سازی کرے۔