ایک روح کا سفر – نگین بلوچ

143

ایک روح کا سفر

تحریر: نگین بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

دو سال کی خاموشی تھی، دو سال کی بے خبری۔ پھر ایک رات اچانک سوشل میڈیا پر ایک تصویر میرے سامنے آئی۔ وہی مسکراتا چہرہ، وہی گہری آنکھیں، اور نیچے لکھے ہوئے وہ الفاظ: “شہید کبھی نہیں مرتے۔”

وہ، جس کے ساتھ میرا خون کا رشتہ تو نہیں تھا، مگر خون کے رشتوں سے بڑھ کر تھا۔ نہ جانے وہ کون سی خوش نصیب گھڑی تھی کہ وہ مجھے ایک بھائی اور ایک دوست کی صورت میں ملا۔ ایک عجیب سی ہم آہنگی نے ہمیں بھائی بہن بنا دیا۔ اس سے باتیں کرتے وقت مجھے کبھی یہ احساس ہی نہیں ہوا کہ وہ میرا صرف منہ بولا بھائی ہے۔

وہ ہمیشہ سے ہی کچھ الگ تھا، سب سے الگ۔ اس کی آنکھوں میں ایک گہری تڑپ تھی، ایک مقصد تھا۔ میں اس کی مکمل کہانی تو نہیں جانتی، مگر اتنا ضرور جانتی ہوں کہ اس نے ظلم کی چکّی میں پِس کر بھی ہمت نہ ہاری۔ اس نے کچھ عرصہ اذیت خانوں میں گزارا، مگر اپنی سرزمین سے محبت کے جرم سے کبھی آزاد نہ ہو سکا۔ کچھ وقت کے لیے وہ ملک سے بھی دور رہا، مگر اس کا دل ہمیشہ یہیں دھڑکتا رہا۔ اور پھر وہ واپس لوٹ آیا، اپنی مادرِ وطن کی خاطر، اپنے ہم وطنیوں کی خاطر، اپنی خاطر۔

مجھے اس کی وہ بات آج بھی یاد ہے جو وہ ہمیشہ ہنستے ہوئے مجھے کہتا تھا: “ایک دن ضرور آئے گا جب تم مجھے اپنا بھائی ہونے پر فخر کرو گی۔” اور میں اس کی باتوں پر ہنسا کرتی تھی اور یہی سوچتی تھی کہ آخر کس بات کا فخر؟ وہ تو پہلے ہی میرے لیے قابلِ فخر تھا، اس کی محبت، اس کی مہربانی، اس کی مستقل مزاجی۔ لیکن آج میں سمجھ گئی کہ وہ کس فخر کی بات کر رہا تھا۔ وہ اپنے آخری مقصد کی بات کر رہا تھا، اپنی آخری قربانی کی بات کر رہا تھا۔

اور اب جب میں نے اس کی شہادت کی خبر سنی، تو میرے اندر ایک عجیب سی کیفیت پیدا ہو گئی۔ ایک طرف گہرا، کرب ناک دکھ تھا، ایک ایسا خلا جو کبھی پُر نہیں ہوگا۔ اور دوسری طرف ایک پُروقار فخر، ایک یقین کہ بالآخر اس نے اپنی زندگی کا مقصد پا لیا۔ اس نے اپنی جان اس عظیم مقصد پر نچھاور کر دی جس پر اسے یقین تھا۔ اس نے اپنی محبت کو عمل میں بدل دیا۔

یہ حقیقت ہے کہ شہید کبھی نہیں مرتے۔ شیھو آج اگر جسمانی طور پر ہمارے درمیان نہیں، مگر وہ ہمارے دلوں میں زندہ ہے۔ اس کا جذبہ ہماری رگوں میں دوڑ رہا ہے۔ اس کی جدوجہد کی داستان ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔ وہ ہر اس نوجوان کی ہمت میں زندہ ہے جو ظلم کے خلاف کھڑا ہوتا ہے۔ وہ ہر اس آواز میں گونجتا ہے جو حق کے لیے اٹھتی ہے۔
شیھو، مجھے پتا ہے آج تمہارے ساتھ تمہارے خاندان کو بھی تم پر فخر ہوگا، وہ فخر جو آنسوؤں سے لت پت ہونے کے باوجود سر اٹھا کر یہ کہنے پر مجبور کرتا ہے کہ
ہاں، یہ ہمارا شیھو ہے۔
وہ شیھو جس نے اس جنگ میں حصہ لیا جس نے دشمنوں کے حوصلے خاک میں ملا دیے، جس نے ظلم کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا، وہ جنگ جس میں حق نے باطل کو شکستِ فاش دی، اور سچائی کی کرنوں نے جبر کی تاریکیوں کو چیر دیا۔
وہ کبھی رسمی طور پر میرا بھائی تو نہیں تھا، مگر آج وہ میرا ابدی بھائی بن چکا ہے۔ رشتے خون سے نہیں، عزت اور قربانی سے بنتے ہیں، اور اس نے وہ عزت، وہ قربانی دے کر خود کو ہمیشہ کے لیے میری روح کا حصہ بنا لیا ہے۔
شیھو، تم مر کر بھی امر ہو گئے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔