پنجگور اور واشک میں دو بلوچ نوجوان قتل، بی وائی سی کا انصاف اور تحقیقات کا مطالبہ

1

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے بلوچستان کے اضلاع پنجگور اور واشک میں دو بلوچ نوجوانوں کے قتل کے واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

بی وائی سی کے مطابق، پنجگور کے علاقے تَسپ کے رہائشی 28 سالہ نوشاد احمد ولد جمیل احمد کو یکم جون 2026 کو ریاستی سرپرستی میں کام کرنے والے مسلح گروہ نے فائرنگ کرکے قتل کر دیا۔ واقعہ چیدگی روڈ، تَسپ میں عصر اور مغرب کے درمیان پیش آیا، جہاں سفید رنگ کی ایک ایکسیو گاڑی میں سوار مسلح افراد نے نوشاد احمد کو نشانہ بنایا۔ فائرنگ کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ نوشاد احمد اپنے اہل خانہ کے ساتھ تَسپ میں مقیم تھے اور ان کی ہلاکت نے خاندان، رشتہ داروں اور دوست احباب کو شدید صدمے اور غم میں مبتلا کر دیا ہے۔ عوامی سڑک پر دن دہاڑے ہونے والے اس حملے نے مقامی آبادی میں خوف اور عدم تحفظ کے احساس کو مزید بڑھا دیا ہے۔

دوسری جانب، واشک کے علاقے بسیمہ میں 18 سالہ ارشاد عالم ولد عالم خان کی لاش برآمد ہونے کے بعد ان کے اہل خانہ کے خدشات حقیقت میں بدل گئے۔ ارشاد عالم ضلع خضدار کے علاقے گریشہ نال کے گاؤں بدرنگ کے رہائشی اور ایک نوجوان کاروباری شخصیت تھے۔

بی وائی سی کے مطابق، ارشاد عالم کو 30 اپریل 2026 کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ کئی ہفتوں تک ان کے اہل خانہ ان کی بازیابی کے لیے کوششیں کرتے رہے، تاہم 8 جون 2026 کو ان کی لاش واشک کے علاقے بسیمہ سے ملی۔ تنظیم نے کہا کہ ایک نوجوان زندگی، جو خوابوں اور امیدوں سے بھرپور تھی، اچانک ختم کر دی گئی جس سے ایک اور بلوچ خاندان ناقابلِ تلافی صدمے سے دوچار ہوا ہے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے اپنے بیان میں کہا کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں اور نوجوانوں کے قتل کے واقعات انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ تنظیم کے مطابق ایسے واقعات متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل اذیت اور غم کا سبب بن رہے ہیں جبکہ متاثرین کے اہل خانہ انصاف اور جوابدہی کے حصول کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں۔

بی وائی سی نے نوشاد احمد اور ارشاد عالم کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ان واقعات کی آزادانہ تحقیقات کی جائیں، ذمہ دار افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کیا جائے۔

تنظیم نے اقوام متحدہ، بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال، جبری گمشدگیوں اور ماورائے قانون قتل کے واقعات کا سنجیدگی سے نوٹس لیں اور متاثرہ خاندانوں کی داد رسی کے لیے عملی اقدامات کرے