اسرائیل کی فوج نے کہا ہے کہ پیر کو ایران کی جانب سے مزید میزائل داغے جانے کی نشاندہی ہوئی ہے اور دفاعی نظام ان کو روکنے پر کام کر رہا ہے۔
اس سے قبل صبح کے وقت اسرائیل نے ایران کے مغربی اور وسطی علاقوں میں فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔
جس کے بعد ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن نے بتایا کہ تہران، تبریز اور اصفہان میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جبکہ بعدازاں تصدیق کی گئی کہ اسرائیل کی جانب سے میزائل حملے ہوئے ہیں۔
عرب نیوز کے مطابق اسرائیل کی جانب سے یہ کارروائی ایک ایسے وقت میں کی گئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتین یاہو کو مزید حملوں سے گریز کا مشورہ دیا تھا۔
چند گھنٹے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ان نئے حملوں سے اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری امن مذاکرات متاثر نہیں ہوں گے اور آخری فیصلہ اسرائیلی وزیراعظم کا نہیں ہو گا۔
صدر ٹرمپ لبنان پر اسرائیل کے حملے روکنا چاہتے ہیں تاکہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے گنجائش نکلے اور اسی معاملے سے متعلق یہ رپورٹ بھی سامنے آئی تھی کہ صدر ٹرمپ نے بنیامین نیتن یاہو کی ٹیلی فون پر سرزنش کی تھی۔
تاہم اسرائیل نے اتوار کو بیروت کے کچھ علاقوں میں فضائی حملے کیے، اس کے جواب میں ایران نے اسرائیل کی جانب میزائل داغے، جس سے امن مذاکرات خطرے میں پڑنے کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں تاہم اس کے باوجود صدر ٹرمپ نے اصرار کیا ہے کہ جنگ کے خاتمے کا معاہدہ اب بھی ممکن ہے۔
اسرائیلی کے جوابی حملے سے قبل ایران کی پاسداران انقلاب فورس نے اس حملے کو ’انتباہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’وہ اسرائیل کی جانب سے اسی روز بیروت پر کیے گئے حملوں کا جواب تھا۔‘
ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے مزید کارروائیاں کیں تو اس کے نتائج انتہائی سنگین ہو سکتے ہیں۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس کے دفاعی نظام نے زیادہ تر میزائلوں کو راستے میں ہی تباہ کر دیا تھا، تاہم فوجی قیادت نے حملے کو سنگین قرار دیا ہے۔
آٹھ اپریل کو ہونے والے جنگ بندی کے بعد سے اسرائیل اور ایران نے ایک دوسرے کے خلاف زیادہ تر کارروائیاں روک دی تھیں، تاہم اس جنگ بندی کو امن معاہدے میں تبدیل کرنے لیے ہونے والی کوششیں بار بار تعطل کا شکار ہوتی رہیں اور اس حملے کے بعد دیرپا امن کی امیدیں مزید کم ہو گئی ہیں جبکہ مشرق وسطیٰ کی جانب 100 ویں روز میں داخل ہو گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران کے حملے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو ٹیلی فون کال کی اور ان کو ایران کے خلاف جوابی کارروائی سے گریز کرنے کا مشورہ دیا تھا۔
صدر ٹرمپ نے ایکسیوس سے وابستہ صحافی باراک ریوڈ کو ٹیلی فون پر انٹرویو دیتے ہوئے بھی کہا تھا کہ ’میں ابھی بنیامین نیتن یاہو کو فون کرنے والا ہوں اور انہیں کہوں گا کہ وہ جوابی حملہ نہ کریں۔‘
تاہم اس کے باوجود تہران پر جوابی حملے کیے گئے۔
امریکی صدر کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ خطے میں مزید کشیدگی اور ممکنہ طور پر وسیع ہونے والی جنگ کو روکنے کی کوشش کر رہے تھے جبکہ اسرائیل کے اندر بعض فوجی حلقے ایران کے خلاف فوری ردعمل کے حامی تھے۔
ان کے مطابق ’اسرائیل نے اپنا حملہ کیا اور ایران نے بھی کر لیا اب ہمیں مزید کسی حملے کی ضرورت نہیں۔‘
علاوہ ازیں اسرائیل کی جانب سے حملے کو ایران کی ’سنگین غلطی‘ قرار دیا گیا ہے اور اس کی فوج کا کہنا ہے کہ ایران نے مجموعی طور پر 11 میزائل داغے جن کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
دوسری جانب تہران کا اصرار ہے کہ جنگ کے خاتمے کے حوالے سے ہونے والے کسی بھی معاہدے میں لبنان میں لڑائی کا خاتمہ بھی شامل کیا جائے، جہاں اسرائیل ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں کر رہا ہے۔



















































