سنڈیمن کے باقیات
تحریر: وطن زاد
دی بلوچستان پوسٹ
بلوچستان کی سرزمین گزشتہ کئی دہائیوں سے کشت و خون اور ریاستی جبر کا شکار رہی ہے۔ کبھی بلوچ نوجوانوں کو بلاجواز لاپتہ کرکے عقوبت خانوں میں ڈال دیا جاتا ہے، تو کبھی بلوچ دانشوروں کو بے دردی سے قتل کر دیا جاتا ہے۔
یکم جون بلوچ قوم کے لیے ایک انتہائی دردناک اور غم سے بھرپور دن ہے، کیونکہ اسی روز عاشقِ گلزمین، پروفیسر صباہ دشتیاری صاحب کو ریاستی ڈیتھ اسکواڈ نے بلوچستان کے دارالحکومت شال میں سفاکانہ طور پر شہید کر دیا۔
پروفیسر صباہ دشتیاری کا قتل ریاست کے جانب سے بلوچ قوم کے لیے ایک واضح پیغام تھا کہ بلوچ قومی شناخت ،تہذیب و ثقافت سے محبت رکھنے والوں کے لیے اس ملک کے آئین میں صرف اور صرف موت لکھی گئی ہے اور کچھ نہیں۔
یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں تھا، بلکہ بلوچ دانشوروں، ادیبوں اور شعراء کے خلاف ایک منظم آپریشن طویل عرصے سے جاری ہے۔ پہلے شاید ان قومی اثاثوں کے قتل کو نظرانداز کر دیا جاتا تھا، مگر اب پروفیسر غمخوار حیات کے قتل کے بعد وزیراعلیٰ کے بیان نے واضح کر دیا ہے کہ ریاست کے سیاہ و سفید پر لکھنے اور بولنے والے بلوچ دانشوروں کے ساتھ وہی سلوک کیا جائے گا جو پروفیسر صباہ دشتیاری سے لے کر غمخوار حیات تک کیا جاتا رہا ہے۔
اور یکم جون کو، سردارانِ سراوان کی جانب سے شال کی خون آلود سرزمین پر ایک جرگہ بُلایا گیا
یہ جرگہ عین اُس دن منعقد کرنا، جس دن بلوچ قومی اثاثہ پروفیسر صباہ دشتیاری کی شہادت ہوئی تھی، قوم کے سامنے ہزاروں سوال کھڑے کرتا ہے
کیا یہ محض ایک اتفاق ہے، یا پھر اُس فکر، قربانی اور مزاحمت کی یاد کو دھندلانے کی ایک کوشش؟
شال کی مٹی آج بھی اُن لوگوں کے خون کی گواہ ہے جنہوں نے بلوچ شناخت، شعور اور آزادیِ فکر کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔
یہ جرگہ بلوچستان میں جاری کُشت و خون، بلوچ عورتوں کی عصمت دری، ننگ و ناموس کے تحفظ، یا لاپتہ بلوچ نوجوانوں کے مسئلے پر نہیں بٹھایا گیا، بلکہ اس جرگے کا اصل موضوع یہ ہے کہ مستونگ ضلع کو قلات ڈویژن سے الگ کرکے کوئٹہ ڈویژن میں کیوں شامل کیا جا رہا ہے۔
ایسے وقت میں، جب بلوچ سرزمین خون، بے بسی اور گمشدگیوں کی داستان بن چکی ہے، قوم یہ سوال کرنے پر مجبور ہے کہ ترجیحات آخر کیا ہیں؟ کیا اقتدار اور انتظامی تقسیم کے معاملات، انسانی جانوں، عزتوں اور لاپتہ نسلوں سے بھی زیادہ اہم ہوچکے ہیں؟
ہمیں کوئی شوق نہیں کہ کسی کے کردار پر بات کریں یا کسی پر کیچڑ اُچھالیں، مگر تاریخ ایک بے رحم حقیقت ہے! وہ کسی بھی کردار، عمل یا نیت کو ہمیشہ کے لیے چھپا کر نہیں رکھتی۔
یہ جرگہ اُن سرداروں کی جانب سے بلایا گیا ہے جو ماضی میں ریاستی ایماء پر بلوچ و براہوئی تفریق کو ہوا دیتے رہے، تاکہ بلوچ قوم اپنے اجتماعی قومی مفادات سے دور ہو جائے اور آپسی رنجشوں، تقسیم اور اختلافات میں الجھی رہے۔
قوم آج یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہے کہ کیا وہی پرانی سیاست ایک نئے چہرے کے ساتھ دوبارہ دہرائی جا رہی ہے؟ کیا بلوچ سرزمین کے حقیقی زخموں سے توجہ ہٹا کر ایک بار پھر قوم کو داخلی تقسیم کی طرف دھکیلا جا رہا ہے؟
یہاں وہ سردار بھی موجود ہیں جو کبھی پارلیمنٹ کی خون آلود کرسیوں کے تحفظ کے لیے معصوم بلوچ نوجوانوں کو اپنی بیٹھکوں سے ریاستی ایجنسیوں کے ہاتھوں لاپتہ کرواتے رہے، انہی کے قبیلے کے چار چار نوجوانوں کی مسخ شدہ لاشیں عید کے دن اُن کے گھروں پر بھیجی گئیں، مگر اس کے باوجود وہ خود کور کمانڈر اور دیگر فوجی دلاروں کو شہدائے سرزمینِ مستونگ (دشت) میں بلوچی پگڑیاں پہناتے رہے
وہ تقریب آج بھی مستونگ کی تاریخ میں ایک سیاہ دن کے طور پر یاد کی جاتی ہے
“دیر آمد، درست آمد” چند دن قبل شٹل ٹرین پر فدائی حملہ کرنے والے سنگت بلال کے گھر پر چھاپہ مارا گیا، جہاں اُن کی والدہ، بھائیوں اور دیگر رشتہ داروں کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا، ایک ایسا عمل جو اسلامی اور آئینی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔
علاوہ ازیں، عیدالفطر سے ایک رات قبل اسی قبیلے کے ایک نوجوان کو اُس کے گھر میں گھس کر، اُس کی بوڑھی ماں کے سامنے گولیوں سے چھلنی کر دیا گیا، غالباً یہ واقعہ بھی مستونگ میں پیش آیا، مگر مجال ہے کہ اس قبیلے کے نواب نے اس ظلم کے خلاف ایک مزاحمتی بیان تک دیا ہو۔
آج یہی نواب باقاعدہ طور پر اس بے بنیاد جرگے میں اپنے قبیلے کی نمائندگی کرتے نظر آتے ہیں۔
جب بلوچستان کے شہر دالبندین میں زبیر بلوچ کو بے دردی سے قتل کیا گیا، اُس وقت یہ قبائلی سردار کہاں تھے؟ مستونگ کا وہ باشعور اور باوقار طالبعلم، جو ہمیشہ پُرامن سیاست کا داعی رہا، اُس کے بہیمانہ قتل اور گھر پر بمباری کے خلاف آخر یہ خاموشی کیوں اختیار کی گئی؟
یا پھر اُس وقت ان کے آقاؤں نے اُن کی لگامیں کھینچ رکھی تھیں؟
ایسے واقعات سے بلوچستان، بالخصوص مستونگ کی تاریخ بھری پڑی ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ آج یہی تمام صاحبِ دستار شخصیات خود کو مستونگ سے وابستہ ظاہر کرتے ہیں، مگر آج تک ان میں سے کسی ایک میں بھی اتنی اخلاقی جُرأت دیکھنے کو نہیں ملی کہ وہ قومی مفادات، بلوچ نوجوانوں کی جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل اور سرزمینِ بلوچستان پر جاری ظلم و ستم کے خلاف کوئی حقیقی اور مؤثر جرگہ منعقد کرتے۔
یہ لوگ ہر اُس موقع پر خاموش دکھائی دیتے ہیں جہاں قوم کو اُن کی آواز، کردار اور مزاحمت کی ضرورت ہوتی ہے، نہ انہوں نے مظلوم خاندانوں کے زخموں پر مرہم رکھنے کی کوشش کی، نہ ہی ریاستی جبر کے سدِباب کے لیے کوئی سنجیدہ اور عملی کردار ادا کیا،
بدقسمتی سے، عوام کے نمائندہ کہلانے والے یہی افراد آج بھی اقتدار، مفادات اور رسمی نمائندگی تک محدود ہیں، جبکہ بلوچستان کا نوجوان آج بھی اپنے بنیادی حقوق، انصاف اور شناخت کی جنگ لڑ رہا ہے۔
پورا سال سوشل میڈیا پر ایک دوسرے پر کیچڑ اُچھالنے اور الزامات کی سیاست میں مصروف رہنے والے یہ سیاسی یتیم آج ایک ہی صف میں بغل گیر بیٹھے نظر آتے ہیں، بلوچ قوم بھی حیران ہے کہ آخر وہ کونسی طاقت ہے جس نے ان تمام عجیب و غریب کرداروں کو ایک ہی چھت تلے جمع کرنے میں کامیابی حاصل کی۔
یہ وہی لوگ ہیں جنہیں کبھی بلوچ قوم کی مظلومیت، مفلسی، جبری گمشدگیاں اور نوجوانوں کی لاشیں اقتدار کے نشے میں دکھائی نہیں دیتیں، مگر آج ایک سیاسی کرسی اور ذاتی مفادات کے لیے نہایت پُرجوش اور متحد دکھائی دے رہے ہیں۔
اس جرگے کو مستونگ کی تاریخی حیثیت مسخ ہونے کے خلاف نہیں، بلکہ ان قومی ٹھیکیداروں کے ذاتی مفادات اور منافقت کو بے نقاب کرنے کے لیے منعقد ہونا چاہیے تھا، یہ چند انگریزوں کے باقی ماندہ بھگی کش کردار شاید اب بھی یہ سمجھتے ہیں کہ بلوچ قوم ماضی کی طرح ایسے نمائشی پروپیگنڈوں سے متاثر ہو جائے گی، مگر حقیقت یہ ہے کہ بلوچ قوم اب شعوری طور پر ان تمام ڈرامائی سیاسی ہتھکنڈوں سے بہت آگے نکل چکی ہے۔
اس سرکاری جرگے میں شریک افراد کی تعداد ہی اس بات کا واضح اور منہ بولتا ثبوت ہے کہ سنڈیمن کے قائم کردہ فرسودہ سرداری نظام کو بلوچ قوم بڑی حد تک مسترد کر چکی ہے۔
دعویٰ تو مستونگ کی تاریخی حیثیت کی بحالی کا کیا گیا، مگر افسوس کہ جرگہ خود مستونگ کے بجائے کوئٹہ میں منعقد کیا گیا، یہ تضاد ہی اس تمام عمل کی سنجیدگی اور نیت پر کئی سوالات کھڑی کرتا ہے
اب بلوچ قوم کے مستقبل اور فیصلے خود بلوچ قوم کی آنے والی مزاحمت کار نسلیں طے کریں گی، جیسے فدائی چیف بلال نے کہا تھا: “ہماری سرزمین سے ایک پتھر بھی ہماری مرضی کے بغیر کوئی نہیں لے جا سکتا”
یہ جنگ اُن کے نزدیک صرف ایک موجودہ جدوجہد نہیں، بلکہ ایک قومی ورثہ ہے، جسے آنے والی نسلیں بھی اپنے تسلسل کے طور پر دیکھتی ہیں، ہر بلوچ نوجوان خود کو اس مزاحمتی فکر اور کارواں کا حصہ سمجھتی ہے، اور یہی احساس آج بلوچ سیاست و سماج میں ایک نمایاں حقیقت بن چکا ہے۔
ریاست کی یہ خام خیالی ہے کہ بجٹ پیش ہونے سے پہلے چند ترقیاتی ٹھیکوں، مراعات یا سیاسی لالچ کے ذریعے سرکاری جرگے بلا کر عوام کا اعتماد حاصل کیا جا سکتا ہے، اب حالات بدل چکے ہیں بلوچ قوم محض نمائشی جرگوں، سرکاری تصویروں اور وقتی وعدوں سے متاثر ہونے والی نہیں رہی۔
یہ قوم اپنے راستے، اپنے مؤقف اور اپنی سیاسی و شعوری سمت کا
انتخاب کر چکی ہے، آج بلوچستان میں اگر کسی بچے کی پیدائش ہوتی ہے تو اُس کے والدین اُس کا نام کسی فدائی یا مزاحمت کار کے نام پر رکھتے ہیں، تاکہ وہ بچہ جوان ہو کر اپنی سرزمین، اپنے لوگوں اور اپنی تاریخ کے بارے میں سوال کرے؟ یہ جاننے کی کوشش کرے کہ آخر وہ کون سے حالات تھے جنہوں نے ایک پوری نسل کو مزاحمت کی راہ پر کھڑا کر دیا۔
یہ صرف نام نہیں رہے، بلکہ بلوچ سماج میں ایک علامت، ایک احساس اور ایک اجتماعی یاد داشت بن چکے ہیں، جنہیں محض جرگوں، نعروں یا وقتی سیاسی مفادات سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔
وہ ضرور ایک دن یہ سوال کرے گا کہ میرا نام یاسر، سلال، بلال یا ودود کیوں رکھا گیا؟ میرے والدین نے یہ نام کس سوچ، کس احساس اور کس تاریخ کے پس منظر میں میرے لیے منتخب کیا تھا؟
وہ تحقیق کرے گا، اپنے نام کے پیچھے جڑی قربانیوں، جدوجہد اور داستانوں کو جاننے کی کوشش کرے گا۔ اور ہم پُرامید ہے کہ وہ بلوچ فرزند شعور کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی اپنی قومی جدوجہدِ آزادی سے کبھی بے رخی اختیار نہیں کرے گا۔
وہ اپنے نام کی حرمت نبھائے گا، اپنے شہزادوں کی قربانیوں کی لاج رکھے گا، اپنی مقدس دھرتی کے فلک بوس پہاڑوں کو اپنا مورچہ سمجھے گا، اور اپنی سرزمین کے دفاع و حفاظت کا عہد لے کر آگے بڑھے گا۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































