بلوچ لبریشن آرمی کے مرکزی میڈیا چینل ہکّل نے پاکستانی فوج پر ہونے والے مختلف آئی ای ڈی حملوں کی ویڈیوز شائع کیئے ہیں۔
سیریز میں چمالنگ میں پاکستان فوج کے میجر توصیف بھٹی کو دھماکے میں نشانہ بنانے سمیت کوئٹہ، زامران، خاران، نوشکی، دکی، سوراب اور ساہ دیم میں پاکستانی فوج پر ہونے والے نو دھماکوں کے مناظر دکھائے گئے ہیں۔
ہکل میڈیا کی جانب سے شائع ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ گذشتہ مہینے چمالنگ میں پاکستان فوج کے اعلیٰ افسر، میجر توصیف بھٹی کی گاڑی دھماکے میں مکمل تباہ ہوتی ہے جبکہ مزید ایک گاڑی کو مسلح حملے میں نشانہ بنایا جاتا ہے۔ بی ایل اے ترجمان جیئند بلوچ کے مطابق یہ کاروائی ‘زراب’ کی خفیہ معلومات پر سرانجام دی گئی تھی۔
کوئٹہ کے علاقے پنجپائی میں پاکستانی فورسز کی دو گاڑیوں کو نشانہ بنانے کے مناظر بھی دکھائے گئے ہیں جس میں حکام نے چار سی ٹی ڈی اہلکاروں کی ہلاکت اور چھ کے زخمی ہونے کی تصدیق کی تھی۔
بارہ مئی کو زامران میں پاکستانی فوج کے پیدل اہلکاروں پر ہونے والے تباہ کن آئی ای ڈی حملے کی ویڈیو بھی شامل کی گئی ہے جس میں دیکھا جاسکتا ہے پاکستانی فوج کا ایک اہلکار براہ راست دھماکے کی زد میں آکر کئی فٹ اوپر قلابازی کھانے کے بعد گرتا ہے۔
مزید برآں ویڈیوز میں خاران میں بم ڈسپوزل اسکواڈ کے اہلکار کی ہلاکت، دُکی میں اہلکاروں پر دھماکے، کانک میں مرکزی شاہراہ پر پُل کے تباہ ہونے، نوشکی میں فورسز چوکی کو دھماکے میں تباہ کرنے اور سوراب مرکزی شاہراہ پر بکتر بند گاڑی کو تباہ ہوتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔
ویڈیو کے آخری حصے میں زامران کے علاقے ساہ دیم میں پاکستانی فوج پر ہونے والے دھماکے کے مناظر کو شامل کیا گیا ہے، جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ فورسز بم ڈسپوزل اسکواڈ اور مزید دو گاڑیاں گزرنے کے بعد تیسری گاڑی کو دھماکے میں نشانہ بنایا جاتا ہے۔


















































