بلوچستان میں ہر سیکورٹی ناکامی کے بعد بی وائی سی کے خلاف بیانیہ بنایا جاتا ہے۔ ماہ رنگ بلوچ

0

بی وائی سی نے ہمیشہ بلوچستان میں جاری ریاستی غیر انسانی سلوک اور جبری گمشدگیوں کے سیاسی طریقہ سے آواز بلند کی ہے۔

ریاستی قید میں موجود بلوچ یکجہتی کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا ڈاکٹر بعض ریاستی نمائندے اور بلوچستان اسمبلی کے چند اراکین کی جانب سے میرے، میرے ساتھیوں اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے خلاف لگائے گئے حالیہ الزامات نہ صرف بے بنیاد ہیں بلکہ بلوچستان میں پرامن سیاسی جدوجہد کو بدنام کرنے کی ایک واضح اور منظم کوشش کا حصہ ہیں۔

ماہ رنگ بلوچ نے کہا یہ الزامات ایسی فضا پیدا کرنے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں جہاں سیاسی اختلاف کو جرم اور انسانی حقوق کے مطالبے کو ریاست دشمنی قرار دیا جائے۔

انہوں نے کہا بلوچ یکجہتی کمیٹی ایک عوامی، غیر مسلح اور پرامن پلیٹ فارم ہے جو قیام سے اب تک بلوچ عوام کے بنیادی حقوق، انصاف اور انسانی وقار کے لیے جدوجہد کرتی رہی ہے۔ 

ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے کہا ہے ہمارے مطالبات واضح ہیں جبری گمشدگیاں ختم ہوں، ماورائے قانون گرفتاریوں کا خاتمہ ہو، اظہارِ رائے کی آزادی یقینی ہو، بلوچستان کے وسائل پر بلوچ عوام کے حق کو تسلیم کیا جائے اور بلوچستان کے عوام کو ان کے آئینی اور تاریخی حقوق دیے جائیں۔

بدقسمتی سے ریاستی  عناصر ان مطالبات کا جواب دینے کے بجائے جھوٹے الزامات، کردار کشی اور پروپیگنڈے کے ذریعے عوامی تحریک کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یہ الزامات نہ صرف میرے اور میرے ساتھیوں کی ساکھ کو متاثر کرنے کے لیے ہیں بلکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے پرامن جدوجہد کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں۔

انکا کہنا تھا گزشتہ ایک سال سے بلوچ یکجہتی کمیٹی مرکزی رہنماؤں ڈاکٹر صبیحہ بلوچ، سمی بلوچ، لالا وہاب اور دیگر ورکران نے انتہائی مشکل حالات میں بھی تنظیم زمہداریوں کو پورا کیا بی وائی سی بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کے پامالیوں کے زمہ دارانہ رپورٹنگ کررہی ہے۔

ماہ رنگ بلوچ کے مطابق بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچ عوام کے نمائندہ تنظیم ہے عوامی تحریک کو بزور طاقت کچلنے سے بلوچستان کے عوام کو یہ پیغام دیا گیا ہے اس ریاست میں پر امن جدوجہد کیلئے کوئی جگہ نہیں جنگی منافع خوروں کیلئے بلوچ قوم کے زندگیوں کی کوئی قیمت نہیں۔

انکا کہنا تھا یہ امر انتہائی تشویشناک ہے کہ بلوچ سیاسی کارکنوں اور انسانی حقوق کے لیے آواز بلند کرنے والوں کو مسلسل ہراساں کیا جا رہا ہے، جبکہ ان کے خلاف لگائے گئے الزامات کے لیے کوئی قابلِ اعتماد شواہد موجود نہیں ہیں۔

بی وائی سی رہنماء نے کہا بلوچستان میں مسلح تنظیموں کے کاروائی کے بعد ریاستی ادارے اپنے نہ اہلی کو چھپانے کے ناکام کوشش میں بی وائی سی کے خلاف ایک نیا جھوٹا پروپیگنڈہ تیار کرتے ہے اور پھر بلوچ عوام کے وسائل کا استعمال کر کے اس پروپیگنڈے کو پرنٹ اور سوشل میڈیا میں شائع کیا جاتی ہے۔

ماہ رنگ نے کہا ہم سوال کرتے ہے کہ کیا اس پروپیگنڈے سے آپ بلوچ قوم کے دلوں میں محفوظ ریاستی جبر کے داستانوں کو مٹا سکتے ہے ؟ کیا آپ جبراً پریس کانفرنس کروا کر بلوچ ماں کے دل سے اس کے بیٹے کے وجود کو ختم کر سکتے ہے ؟ بلوچستان میں   ریاستی جبر  بلوچ قومی شناخت کے جدوجہد میں کے سب سے بڑا catalyst ثابت ہوا ہے یہ تحریک جسے آپ بزور طاقت اور اپنے hard State کے زریعے کچھلنا چاہتے ہے، یہ بلوچ قوم کے خلوص قربانی اور اپنے وطن سے بے پناہ محبت کے احساس اور ہمارے شہیدوں کے قربانی کی وجہ سے یہاں تک پہنچا ہے۔

آنہوں نے کہا ہم اپنے شہیدوں کے قربانی اور اپنے باوقار قوم کے طویل مسافت کو کبھی ضائع نہیں ہونے دینگے، یہ اس سفر کے شروعات ہے جس کا خواب ہمارے شہیدوں نے دیکھا تھا، کہ کبھی بلوچ علاقے، قبیلے، زبان کے تفریق سے بالاتر ہوکر اپنے وسیع تر قومی مفادات کیلئے متحد ہونگے اور جو عوامی سیلاب آپ نی راجی مچی اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں دیکھا تھا وہی بلوچ قوم کے اجتماعی قومی شعور ہے

انکا مزید کہنا تھا بلوچ عوام آج بھی بلوچ یکجہتی کمیٹی کے سیاسی موقف کے بھر پور ہمایت کرتی ہے جس کی وجہ سے ریاست کی جانب سے ہر وقت ایک نیا پروپیگنڈہ اور نیا بیانیہ بنانے کے کوشش کی جاتی ہے مگر ان تمام حربوں کے باوجود بلوچ عوام کے پرامن جدوجہد کو دبایا نہیں جا سکتا اور نہ ہی بلوچ دانشور اور سیاسی کارکن اپنی بنیادی حقوق کے جدوجہد سے پیچھے ہٹیں گے۔

ماہ رنگ بلوچ نے کہا میں  انسانی حقوق کی تنظیموں، صحافیوں اور انصاف پسند حلقوں سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ اس منظم بیانیے کے پیچھے موجود حقائق کو بغور دیکھیں اور بلوچستان کی زمینی صورتحال کا آزادانہ جائزہ لیں۔

بلوچ سیاسی کارکنوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور بی وائی سی کی پرامن جدوجہد کو جھوٹے الزامات اور پروپیگنڈے سے بدنام کرنے کی کسی بھی کوشش کو ہم قبول نہیں کریں گے۔

ماہ رنگ بلوچ نے آخر میں کہا تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی قلم، علم اور پرامن سیاسی جدوجہد کو دبانے کی کوشش کی گئی، حقیقت اور مزاحمت مزید مضبوط ہوئی میں ایک بار پھر واضح کرتی ہوں کہ یہ الزامات ہمیں نہیں روک سکتے کیونکہ ہماری قومی مزاحمت ہی ہماری زندگی کا مقصد بن چکا ہے اور  بلوچ عوام کے حقوق اور انسانی وقار کے لیے ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔