افغان وزیر دفاع ملا یعقوب کا دورہ روس اور ماسکو سے ’فضائی دفاعی نظام‘ کا معاہدہ

29

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق افغانستان کے وزیر دفاع ملا محمد یعقوب مجاہد روس کو اس بات پر آمادہ کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں کہ وہ ان کی حکومت کو جدید فضائی دفاعی نظام فراہم کرے۔

ذریعے کے مطابق یہ معاملہ پہلے ہی ماسکو کے ساتھ زیرِ بحث تھا اور وزیر دفاع کے حالیہ دورے کے دوران روس کی جانب سے کرائی گئی یقین دہانیوں پر عملی پیش رفت ہوئی۔

ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اس معاہدے میں صرف فضائی دفاعی ساز و سامان شامل ہے یا اس میں ڈرونز جیسے حملہ کرنے والے ہتھیار بھی شامل ہیں۔

تاہم ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ دونوں فریقوں کے درمیان ایک ایسا معاہدہ طے پایا ہے جس میں فضائی دفاعی آلات کے علاوہ زمینی فوجی ساز و سامان اور طالبان حکومت کی افواج کی تربیت بھی شامل ہے۔

یہ معاہدہ روس کے دار الحکومت ماسکو میں روسی قومی سلامتی مشیر سرگئی شوئیگو اور طالبان حکومت کے وزیرِ دفاع ملا محمد یعقوب مجاہد کی موجودگی میں طے پایا۔

یہ معاہدہ روس کے دار الحکومت ماسکو میں روسی قومی سلامتی مشیر سرگئی شوئیگو اور طالبان حکومت کے وزیرِ دفاع ملا محمد یعقوب مجاہد کی موجودگی میں طے پایا۔

افغانستان میں اقتدار سنبھالنے کے بعد طالبان حکومت کے روس کے ساتھ قریبی تعلقات رہے ہیں اور اس دوران متعدد اعلیٰ سطحی وفود نے روس کے دورے کیے ہیں۔

کابل میں وزارتِ دفاع کے ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ دفاعی شعبے میں روس کے ساتھ طالبان حکومت کے سمجھوتوں کو باضابطہ شکل دیتا ہے۔

ملا محمد یعقوب مجاہد منگل کے روز ایک بین الاقوامی سکیورٹی فورم میں شرکت کے لیے ماسکو پہنچے تھے۔ اس وقت طالبان حکومت کے ایک ذریعے نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ اس دورے کی تیاریاں پہلے سے جاری تھیں اور ایک وفد پیشگی طور پر ماسکو بھی روانہ کیا گیا تھا۔

ملا یعقوب مجاہد نے روسی سلامتی کونسل کے مشیر سرگئی شوئیگو سے ملاقات کے دوران کہا کہ ’روس خطے اور دنیا میں ایک اہم ملک ہے اور ہمارے کے لیے روس کے ساتھ تعلقات خاص اہمیت رکھتے ہیں، اور ہم چاہتے ہیں کہ یہ تعلقات مزید مضبوط اور وسیع ہوں۔‘