پاکستانی فوج کی جانب سے افغانستان کے مشرقی صوبے کنڑ کے شہر اسعدآباد پر میزائل حملوں کے بعد جانی و مالی نقصان کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق حملے پیر کے روز کیے گئے، جن میں سید جمال الدین افغان یونیورسٹی کے ہاسٹل کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ابتدائی اطلاعات میں کہا گیا کہ متاثرین میں بڑی تعداد عام شہریوں کی ہے، جن میں خواتین اور بچے شامل ہیں۔
کنڑ کے محکمہ اطلاعات و ثقافت کے سربراہ نجیب اللہ حنیف نے افغان میڈیا سے گفتگو میں تصدیق کی کہ ان حملوں میں کم از کم تین افراد جانبحق جبکہ 45 زخمی ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق زیادہ تر متاثرین خواتین اور بچے ہیں۔
صوبائی حکام کا کہنا ہے کہ زخمیوں کو قریبی طبی مراکز میں منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ نقصانات کا مکمل تخمینہ ابھی جاری ہے۔
دوسری جانب افغانستان کی وزارتِ اعلیٰ تعلیم نے ایک بیان میں یونیورسٹی پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ تقریباً 30 طلبہ اور اساتذہ زخمی ہوئے ہیں اور جامعہ کی عمارتوں کو بھی خاطر خواہ نقصان پہنچا ہے۔
وزارت نے اس کارروائی کو “تعلیم اور افغانستان کے بنیادی اداروں پر حملہ” قرار دیا ہے اور عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ اس واقعے پر خاموشی اختیار نہ کرے۔
یہ واقعہ ایک ایسے وقت پیش آیا ہے جب خطے میں سیکیورٹی کی صورتحال پہلے ہی کشیدہ ہے، اور سرحدی علاقوں میں وقتاً فوقتاً جھڑپوں اور حملوں کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔


















































