کوئٹہ میں اتوار کی صبح ایک شٹل ٹرین کو ایک بڑے حملے میں نشانہ بنایا گیا۔ حملے کی ذمہ داری بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے قبول کی ہے۔ ترجمان جیئند بلوچ نے کہا کہ بی ایل اے مجید برگیڈ کے فدائی کمانڈر بلال شاہوانی عرف سائیں نے یہ کاروائی سرانجام دی۔ بلوچ لبریشن آرمی کی جانب سے ٹرین و ریلوے اسٹیشن پر شدید نوعیت کا یہ تیسرا حملہ ہے جس میں پاکستانی فوج کے اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
حملہ کب اور کہاں ہوا؟
حملہ اتوار کی صبح آٹھ بجے قریب اس وقت پیش آیا جب تین بوگیوں پر مشتمل ایک شٹل ٹرین کوئٹہ کینٹ سے کوئٹہ ریلوے اسٹیشن کی جانب جارہی تھی۔ دھماکہ ریلوے اسٹیشن سے چند گز کے فاصلے پر چمن پھاٹک کے قریب ہوا۔ دھماکے میں ٹرین کی تینوں بوگیاں تباہ ہوگئی جبکہ عید کے موقع پر اہلکاروں کی تعداد زیادہ تھی۔
دھماکے کا مقام شہر کے حساس اور گنجان علاقوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس علاقے میں کچھ فاصلے پہ پاکستانی فورسز فرنٹیئر کور (ایف سی) کی میس، لیویز ہیڈکوارٹر، نیوی آفس، بلوچستان سول سیکٹریٹ، گورنر ہاوس اور چیف منسٹر آفس واقع ہیں۔
جس مقام پہ ریل گاڑی کو نشانہ بنایا گیا اس مقام سے گورنر ہاوس صرف آٹھ سو میٹر دور ہے جبکہ کوئٹہ کا حساس ترین علاقہ کوئٹہ کینٹ پندرہ سو میٹر کے فاصلے پہ واقع ہے۔
حملے کی نوعیت کیا تھی؟
حکام کے مطابق دھماکے کے لیے ایک سفید رنگ کی ویگن گاڑی استعمال کی گئی۔ سکیورٹی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ حملے میں تقریباً 70 سے 80 کلوگرام بارودی مواد استعمال ہوا ہے، تاہم سیکورٹی ذرائع کے دعوے کے برعکس اتنی بڑی تباہی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس حملے میں ہزار کلو بارودی مواد سے زیادہ استعمال کیا گیا ہے۔ دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ ٹرین کی ایک بوگی مکمل طور پر تباہ ہوگئی اور کئی فٹ دور جاگری، جبکہ باقی دو بوگیاں بھی شدید متاثر ہوئیں اور جائے وقوعہ پر تقریباً 10 فٹ گہرا گڑھا پڑا۔
بلوچ لبریشن آرمی کی جانب سے بارودی دھماکوں اور خاص طور پر مجید برگیڈ کی کاروائیوں میں استعمال ہونے والی گاڑی بھاری مقدار دھماکہ خیز مواد استعمال کرنا مشاہدے میں آیا ہے۔ رواں سال اکتیس جنوری کو بی ایل اے کے آپریشن ہیروف کے وقت کوئٹہ سمیت دیگر شہروں میں چار حملے بارود سے بھری گاڑیوں کے ذریعے کیے گئے جن میں ہزاروں کلوگرام بارودی مواد استعمال ہوا جبکہ بی ایل اے کے اس آپریشن کے دوران شاہراہوں اور ریلوے ٹریکس پر مرکزی پلوں کو بھی دھماکوں میں تباہ کیا گیا۔
ٹرین میں کتنے لوگ سوار تھے؟
دستیاب معلومات کے مطابق ہر بوگی میں تقریباً 90 سے 95 افراد موجود تھے۔ عید کے موقع پر اس خصوصی شٹل ٹرین میں سوار نفری کی تعداد زیادہ تھے۔ مجموعی طور پر 336 لوگ اس میں شٹل ٹرین میں سوار تھے جن میں 74 مسلح اہلکاروں کے پاس سات ہزار تین سو بیس زندہ گولیاں اور دیگر فوجی ساز و سامان موجود تھی۔
ہلاکتوں کے بارے میں کیا معلوم ہے؟
پاکستانی حکام نے تاحال ہلاکتوں اور زخمیوں کی حتمی تعداد باضابطہ طور پر جاری نہیں کی۔ دوسری جانب بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے تفصیلی بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ حملے میں 82 پاکستانی فوجی اہلکار ہلاک اور 121 زخمی ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ہلاک و زخمی ہونے والوں میں پاکستانی فوج کے جے سی اوز (جونئیر کمیشنڈ آفیسرز)، این سی اوز (نان کمیشنڈ افسرز)، سپاہی اور نئے بھرتی ہونے والے عسکری ریکروٹس شامل ہیں۔
مزید برآں بی ایل اے کی جانب سے نشانہ بننے والے فوجی یونٹس کی بھی تفصیلات فراہم کی گئی۔
حملہ آور کون تھا؟
حملہ آور کی شناخت 25 سالہ بلال شاہوانی عرف “سائیں” کے نام سے ہوئی ہے جو مجید بریگیڈ کا رکن تھا اور کوئٹہ کے علاقے کلی سردہ، سریاب کا رہائشی تھا۔
بی ایل اے ترجمان جیئند بلوچ کے مطابق بلال شاہوانی عرف سائیں نے سن دو ہزار بیس میں بلوچ مزاحمتی تحریک برائے آزادی میں شمولیت اختیار کی۔ عسکری میدان میں بہترین کارکردگی اور تنظیمی ڈسپلن کی بنیاد پر سن دو ہزار بائیس میں شہید بلال کو انکی رضاکارانہ خواہش پر مجید بریگیڈ کے فدائی یونٹ میں شامل کیا گیا۔ آپ ناگاہو، دشت کومبیلا، کوئٹہ اور قلات کے اہم محاذوں پر سرگرم رہے اور اپنی خداداد عسکری صلاحیتوں کی بنا پر کمانڈر کے عہدے پر فائز ہوئے۔
ترجمان نے کہا کہ بلال شاہوانی نے اس سے قبل آپریشن ہیروف اول کے وقت قلات جبکہ ہیروف دوم کے وقت کوئٹہ شہر میں دستوں کی عسکری قیادت کی۔
یہ حملہ کیوں اہم سمجھا جارہا ہے؟
حملہ کوئٹہ کے انتہائی حساس علاقے میں کیا گیا جہاں فوجی چیک پوسٹوں، تعینات اہلکاروں اور سیکورٹی کیمروں کے درمیان یہ کاروائی سرانجام دی گئی۔ گذشتہ دو سال کے دوران کوئٹہ ریلوے اسٹیشن اور جعفر ایکسپریس ہائی جیکنگ میں فوجی اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے بعد اس نوعیت کا حملہ کیا گیا۔
حملے کی ذمہ داری ایک ایسی تنظیم، بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی ہے جو حالیہ مہینوں میں اپنی کارروائیوں میں شدت لاچکی ہے۔ رواں سال پاکستانی حکام نے تیس سو کے قریب بی ایل اے جنجگوؤں کو مارنے کا دعویٰ کیا جس کے بعد تنظیم کے کمزور ہونے کے دعوے بھی کیئے جارہے تھے تاہم بلوچ لبریشن آرمی کی جانب سے مارچ کے مہینے بلوچستان بھر میں مربوط حملے کیئے گئے جبکہ رواں مہینے مرکزی شاہراہوں کا کنٹرول حاصل کیا گیا اور آپریشن ہیروف کے محض چار مہینے گزرنے کے بعد کوئٹہ میں بڑی نوعیت کا حملہ کیا گیا۔

















































