عوام تیار تھے، سوال صرف قیادت کا تھا۔ سفرخان بلوچ (آسگال) 

49

عوام تیار تھے، سوال صرف قیادت کا تھا
تحریر:سفرخان بلوچ (آسگال) 
دی بلوچستان پوسٹ

بلوچ مزاحمت کی تاریخ ایک طویل تاریخی، سماجی اور نفسیاتی عمل کا تسلسل ہے۔ دنیا کی ہر قومی تحریک کی طرح بلوچ جدوجہد بھی وقت کے ساتھ مسلسل مراحل سے گزری ہے، جہاں صرف حکمتِ عملی ہی نہیں بدلی بلکہ سماجی کردار، فکری ترجیحات اور مزاحمت کی نوعیت بھی تبدیل ہو رہی ہے۔ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جب کوئی تحریک اجتماعی شعور اور قومی احساس کا حصہ بن جائے تو پھر اس کے اندر ایسے کردار جنم لینے لگتے ہیں جن کا کبھی تصور بھی محال سمجھا جاتا تھا۔

فرانز فینن نے نوآبادیاتی مزاحمت کے بارے میں لکھا تھا کہ جبر صرف زمینوں پر قبضہ نہیں کرتا بلکہ انسان کی نفسیات، شناخت اور اجتماعی شعور کو بھی متاثر کرتا ہے، اور پھر اسی جبر کے ردِعمل میں مزاحمت ایک مکمل سماجی عمل بن جاتی ہے۔ بلوچ سرزمین پر جاری جدوجہد بھی آج اسی مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دیتی ہے، ایک وقت تھا جب یہ تصور بھی غیر معمولی سمجھا جاتا تھا کہ بلوچ خواتین کرد خواتین جنگجوؤں یا دوسرے قوموں کی طرح آزادی کی تحریک میں شریک خواتین کی طرح عملی مزاحمت کا حصہ بنیں گی۔ مگر تاریخ ہمیشہ جامد نہیں رہتی۔ سیاسی تحریکیں جب اجتماعی مزاحمت کے مرحلے میں داخل ہوتی ہیں تو وہ سماجی روایات، صنفی کرداروں اور پرانے تصورات کو بھی بدل دیتی ہیں۔ آج بلوچ خواتین کی شمولیت اسی بڑی تاریخی تبدیلی کی علامت محسوس ہوتی ہے۔

آج یہ بات بے جا نہیں ہوگا جاری بلوچ تحریک میں بی ایل اے کی پالیسیاں اور حکمتِ عملی اُن تمام توقعات سے کہیں آگے نکل چکی ہیں جن کا کبھی تصور بھی نہیں کیا جاتا تھا۔ ایک وقت تھا جب یہ خیال بھی غیر معمولی سمجھا جاتا تھا کہ بلوچ خواتین اس جدوجہد اور مزاحمتی تحریک کا فعال حصہ بنیں گی، مگر وقت نے ثابت کیا کہ بدلتے ہوئے حالات نے روایتی تصورات کو بھی بدل کر رکھ دیا ہے۔

شاری بلوچ نے اس باب کی ابتدا کرتے ہوئے پہلی بلوچ خاتون کے طور پر سامنے آئیں۔ شاری بلوچ کے بعد یہ سلسلہ رکا نہیں، بلکہ اس نے ایک نئے کارواں کی صورت اختیار کرلی۔ آج بلوچ خواتین اور نوجوان لڑکیاں بڑی تعداد میں اس نظریے اور جدوجہد کے ساتھ اپنی وابستگی کا اظہار کر رہی ہیں۔ ہزاروں خواتین اس تحریک کا حصہ بن چکی ہیں اور مختلف سطحوں پر اپنی موجودگی محسوس کرا رہی ہیں۔ یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ بلوچ سماج میں سیاسی اور مزاحمتی شعور ایک نئے مرحلے میں داخل ہوچکا ہے، جہاں خواتین صرف پس منظر تک محدود نہیں رہیں بلکہ ایک فعال اور نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں۔ یہ تبدیلی نہ صرف تنظیمی حکمتِ عملی کی وسعت کو ظاہر کرتی ہے بلکہ اس امر کی بھی نشاندہی کرتی ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ تحریکوں کی نوعیت، ترجیحات اور سماجی بنیادیں بھی تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔

بلوچ خواتین کی شمولیت نے اس جدوجہد کو ایک نئی جہت دی ہے، جس کے اثرات مستقبل میں مزید گہرے اور دور رس ثابت ہوسکتے ہیں۔ اور اس راہِ مزاحمت میں ہمیں وہ سب کچھ دیکھنے کو ملا جس کا کبھی ہم صرف تصور ہی کر سکتے تھے۔ ایسے کردار، ایسی قربانیاں اور ایسی داستانیں سامنے آئیں جنہوں نے جدوجہد کے معنی کو مزید گہرا اور وسیع کردیا۔ یہ صرف ایک سیاسی یا عسکری تحریک نہیں رہی، بلکہ ایک ایسی اجتماعی داستان بن گئی جس میں ہر عمر، ہر طبقے اور ہر رشتے نے اپنا حصہ ڈالا۔
ہم نے بوڑھی ھتم ناز جیسی باہمت اور ضعیف العمر خاتون کو دیکھا، جن کے بارے میں شاید کبھی صرف سوچا جاسکتا تھا کہ کوئی عمر رسیدہ ماں یا خاتون اس قدر ثابت قدمی اور قربانی کی مثال بن سکتی ہے۔ مگر انہوں نے یہ ثابت کردیا کہ جدوجہد صرف نوجوانوں کا جذبہ نہیں ہوتی، بلکہ نظریہ جب دل میں اتر جائے تو عمر کی تمام حدیں بے معنی ہوجاتی ہیں۔ ان کی استقامت، ان کا حوصلہ اور ان کی قربانی اس بات کی علامت بن گئی کہ بلوچ سرزمین پر مزاحمت کی یہ آگ نسلوں کے فرق سے بالاتر ہوچکی ہے۔ اسی طرح یسما اور وسیم جیسی جوڑی نے بھی اس تحریک کی تاریخ میں ایک منفرد باب رقم کیا۔ وہ صرف دو افراد نہیں تھے بلکہ ایک خواب، ایک نظریے اور ایک مشترکہ عہد کی علامت تھے۔ انہوں نے زندگی کے سفر میں ایک ساتھ چلنے کا فیصلہ کیا اور پھر اسی راہ میں ایک ساتھ قربان ہونے کے لیے بھی قدم بڑھائے۔ ان کی داستان اس حقیقت کو نمایاں کرتی ہے کہ بعض رشتے صرف محبت تک محدود نہیں رہتے بلکہ ایک مشترکہ مقصد اور نظریے میں ڈھل کر تاریخ کا حصہ بن جاتے ہیں۔

ان کرداروں نے یہ واضح کردیا کہ اس جدوجہد نے بلوچ سماج کے اندر ایک نئی فکری اور جذباتی کیفیت پیدا کردی ہے۔ اب قربانی صرف ایک فرد کا عمل نہیں رہی بلکہ پورے خاندان، رشتوں اور نسلوں کی شمولیت اس تحریک کا حصہ بنتی جارہی ہے۔ مائیں، بیٹیاں، بزرگ اور نوجوان سب اپنے اپنے انداز میں اس داستان کا کردار بن رہے ہیں۔ یہ تمام واقعات اور قربانیاں اس حقیقت کی گواہی دیتے ہیں کہ بلوچ مزاحمت اب محض ایک محدود دائرے کی تحریک نہیں رہی، بلکہ ایک ایسی اجتماعی تاریخ میں تبدیل ہورہی ہے جس میں ہر روز نئے کردار جنم لے رہے ہیں۔ ایسے کردار، جن کے بارے میں کبھی صرف تصور کیا جاسکتا تھا، مگر آج وہ حقیقت بن کر اس سرزمین کی تاریخ میں اپنے نقوش چھوڑ رہے ہیں۔ ہم اکثر اس موضوع پر بحث کیا کرتے تھے کہ آخر وہ وقت کب آئے گا جب بلوچ خواتین بھی کرد جنگجو خواتین کی طرح مردوں کے شانہ بشانہ ایک ہی مورچے میں بیٹھ کر عملی جنگ کا حصہ بنیں گی۔

ایک طویل عرصے تک یہ تصور محض ایک سوال، ایک بحث اور شاید ایک دور کی امید معلوم ہوتا تھا۔ اکثر یہی سمجھا جاتا رہا کہ اگر خواتین اس جدوجہد میں شامل بھی ہوں گی تو ان کا کردار صرف فدائی کارروائیوں تک محدود رہے گا، گویا اُن کے لیے مزاحمت کا واحد راستہ قربانی کا آخری مرحلہ ہی ہے۔ مگر وقت کے ساتھ حالات نے یہ ثابت کردیا کہ تحریکیں جب مختلف مراحل سے گزرتی ہیں تو اُن کے اندر کرداروں کی نوعیت بھی بدلتی ہے اور سماجی حدود بھی نئی شکل اختیار کرلیتی ہیں۔ بی ایل اے کی جانب سے حالیہ شائع کی گئی ویڈیوز اور خواتین کمانڈر کو منظرِ عام پر لانا اسی تبدیلی کی ایک واضح علامت ہے۔ یہ محض چند مناظر یا علامتی تصاویر نہیں، بلکہ ایک نئے دور کے آغاز کا اعلان ہیں، جہاں بلوچ خواتین اب محاذوں پر مردوں کے ساتھ ایک ہی مورچے میں موجود ہیں۔ خواتین کمانڈرز کی موجودگی اور ان کی قیادت اس امر کو ظاہر کرتی ہے کہ اب بلوچ مزاحمت میں عورت محض ایک علامت یا جذباتی حوالہ نہیں رہی، بلکہ ایک فعال، منظم اور فیصلہ کن کردار بن چکی ہے۔ وہ اب صرف قربانی دینے والی نہیں بلکہ محاذ سنبھالنے والی، قیادت کرنے والی اور اپنے نظریے کے لیے عملی جنگ لڑنے والی قوت کے طور پر سامنے آرہی ہے۔ یہ تمام مناظر اُن تمام بحثوں اور سوالوں کا جواب معلوم ہوتے ہیں جو برسوں سے کیے جاتے رہے۔ اب یہ سوال باقی نہیں رہا کہ بلوچ خواتین مورچے میں کب نظر آئیں گی، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ آج مورچوں میں موجود ہیں، اپنے ساتھیوں کے ساتھ کھڑی ہیں، اور اس جدوجہد کی تاریخ میں اپنا ایک مستقل باب رقم کررہی ہیں۔ یہ تبدیلی اس بات کی بھی نشاندہی کرتی ہے کہ بلوچ مزاحمت اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہوچکی ہے، جہاں جدوجہد صرف مردوں کی ذمہ داری نہیں رہی بلکہ خواتین بھی اسی شدت، اسی یقین اور اسی عزم کے ساتھ اس راستے پر گامزن ہیں۔ اور شاید یہی وہ منظر تھا جسے کبھی ہم صرف تصور کرسکتے تھے، مگر آج وہ حقیقت بن کر ہمارے سامنے موجود ہے۔

پچھلے سات دہائیوں سے جاری شدت کے ساتھ اس تحریک اور خصوصا پچھلے آٹھ برسوں کے مشاہدے، حالات کے اتار چڑھاؤ اور بلوچ سرزمین پر جاری مسلسل مزاحمت کو دیکھتے ہوئے انسان اب اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ پاکستانی قبضے کے آغاز سے لے کر آج تک بلوچ عوام نے دل سے کبھی بھی اس تسلط کو قبول نہیں کیا۔ یہ مزاحمت کبھی خاموش احتجاج کی صورت میں سامنے آئی، کبھی سیاسی جدوجہد کی شکل میں، اور کبھی عملی مزاحمت کے روپ میں، مگر ایک حقیقت ہمیشہ واضح رہی کہ بلوچ معاشرے کے اندر آزادی کی خواہش مسلسل زندہ رہی ہے۔ بلوچ عوام ہر دور میں اس قبضے کے خلاف کھڑے ہونے کے لیے ذہنی، جذباتی اور عملی طور پر آمادہ رہے۔ جب بھی حالات نے موقع دیا، لوگوں نے اپنی بے چینی، غصے اور مزاحمت کا اظہار کیا۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اس سرزمین کے عام انسان نے ہمیشہ قربانی کے لیے خود کو تیار رکھا۔ ماؤں نے اپنے بیٹے کھوئے، بہنوں نے اپنے بھائیوں کی جدائی برداشت کی، نوجوانوں نے اپنی زندگیاں داؤ پر لگائیں، اور خاندانوں نے اجتماعی اذیتیں سہیں، مگر اس کے باوجود مزاحمت کا جذبہ ختم نہ ہوسکا۔ یہ حقیقت اب کھلے دل سے تسلیم کرلینی چاہیے کہ بلوچ عوام نے کبھی قربانی دینے سے ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی۔ مسئلہ عوام کی بے رغبتی یا خوف کا نہیں تھا، بلکہ اصل خلا قیادت اور واضح حکمتِ عملی کا تھا۔

ہزاروں نوجوان، سیاسی کارکن اور عام لوگ ذہنی طور پرتیار بیٹھے تھے، مگر قیادت خود کنفیوژن، اختلافات اور غیر واضح سمت کا شکار دکھائی دیتی تھی۔ کئی مواقع ایسے آئے جب عوامی جذبات اپنے عروج پر تھے، مگر قیادت اس قوت کو ایک مؤثر سیاسی یا تنظیمی رخ دینے میں ناکام رہی۔ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ کئی ادوار میں بین الاقوامی حالات اور علاقائی سیاست بھی کسی حد تک بلوچ کے لیے سازگار ہوتے دکھائی دیتے تھے۔ خطے کی بدلتی ہوئی سیاست نے بھی کئی ایسے مواقع پیدا کیے جنہیں ایک مضبوط اور منظم قیادت اپنے حق میں استعمال کرسکتی تھی۔ مگر بدقسمتی سے کمزور حکمتِ عملی اور دور اندیش سیاسی وژن کے فقدان نے ان مواقع کو ضائع کردیا۔  بلوچ عوام کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ یہاں مزاحمت ہمیشہ نیچے سے اوپر کی جانب ابھری ہے۔ عام لوگ، نوجوان نسل اور متاثرہ خاندان اکثر قیادت سے زیادہ شدت کے ساتھ اس جدوجہد کو محسوس کرتے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سخت دور، ہر فوجی آپریشن اور ہر جبر کے باوجود یہ تحریک مکمل طور پر ختم نہ ہوسکی۔ کیونکہ اس کی جڑیں صرف تنظیموں میں نہیں بلکہ قومی شعور اور تاریخی یادداشت میں موجود ہیں۔ آج جب انسان پچھلے برسوں پر نظر ڈالتا ہے تو محسوس ہوتا ہے کہ بلوچ عوام کے اندر جذبے، قربانی اور مزاحمت کی کبھی کمی نہیں تھی۔ کمی اگر تھی تو ایک ایسی بصیرت رکھنے والی اور واضح سمت دینے والی قیادت کی، جو عوامی قوت کو منظم کرکے ایک بڑے سیاسی اور قومی مقصد میں ڈھال سکتی۔ شاید یہی وہ خلا تھا جس نے اس طویل جدوجہد کو بار بار منتشر کیا، ورنہ عوام ہر دور میں اپنی حد سے بڑھ کر قربانی دینے کے لیے تیار رہے ہیں۔  بلوچ عوام اس قبضے اور مسلسل جبر سے اس حد تک بیزار ہوچکی ہے کہ جب بھی اسے کسی واضح سمت، نعرے یا پروگرام کی صورت میں راستہ دکھایا جاتا، وہ اس پر لبیک کہنے کے لیے تیار نظر آتی ہے۔ مسئلہ کبھی عوام کے جذبے، قربانی یا آمادگی کا نہیں رہا، بلکہ اصل مسئلہ ہمیشہ ایک منظم پروگرام، واضح حکمتِ عملی اور عملی سمت کا رہا ہے۔ بلوچ معاشرے کے اندر غصہ، محرومی اور مزاحمت کا احساس پہلے دن سے موجود رہا، مگر ایک طویل عرصے تک یہ طے نہیں ہوپارہا تھا کہ اس اجتماعی قوت کو کس انداز میں منظم کیا جائے اور عوام کو کس سمت لے جایا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی کسی تنظیم یا قیادت نے ایک واضح لائحۂ عمل پیش کیا، عوام خصوصاً نوجوان نسل نے غیر معمولی انداز میں اس کا جواب دیا۔ حالیہ برسوں میں اس کی کئی مثالیں سامنے آئیں۔ جب نوجوانوں کو یہ پیغام دیا گیا کہ بلوچ مرد اور خواتین دشمن کے خلاف فدائی کارروائیوں کا حصہ بنیں گے، تو سینکڑوں نوجوانوں نے بغیر ہچکچاہٹ اس آواز پر لبیک کہا۔ اس سے یہ ظاہر ہوا کہ بلوچ سماج کے اندر قربانی کا جذبہ محض نعروں تک محدود نہیں بلکہ عملی شکل اختیار کرنے کے لیے بھی تیار ہے۔

یہ تمام صورتحال اس حقیقت کو نمایاں کرتی ہے کہ بلوچ عوام کے اندر مزاحمت کا جذبہ ہمیشہ سے موجود تھا۔ لوگ ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار تھے، مگر انہیں ایک واضح پروگرام، ایک منظم سمت اور ایک ایسے بیانیے کی ضرورت تھی جو ان کی بے چینی کو عمل میں تبدیل کرسکے۔ جب انہیں یہ سمت ملی تو نوجوانوں، خواتین اور مختلف طبقوں نے غیر معمولی انداز میں اس کا جواب دیا۔ آج یہ منظر اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بلوچ مزاحمت صرف ایک محدود عسکری یا سیاسی تحریک نہیں رہی، بلکہ یہ ایک وسیع سماجی اور فکری تبدیلی کی شکل اختیار کرتی جارہی ہے۔ ایک ایسی تبدیلی جہاں مرد اور عورت دونوں ایک ہی نظریے، ایک ہی مقصد اور ایک ہی مورچے میں کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ شاید یہی وہ حقیقت ہے جو اس پوری جدوجہد کو بلوچ تاریخ کے دیگر ادوار سے مختلف اور زیادہ گہرا بناتی ہے۔

میں آج بھی اپنی اس بات پر قائم ہوں اور اسے پوری سنجیدگی کے ساتھ دہراتا ہوں کہ اگر بلوچ جنگ اور یہ طویل جدوجہد کامیابی سے ہمکنار ہوتی ہے، تو اس کی کامیابی کا سہرا باندھنے کے لیے بے شمار لوگ سامنے آجائیں گے۔ ہر شخص اور ہر حلقہ خود کو اس کامیابی کا حصہ ثابت کرنے کی کوشش کرے گا۔ تاریخ ہمیشہ یہی دکھاتی ہے کہ کامیابی کے لمحوں میں دعویداروں کی کمی نہیں ہوتی۔ لوگ اپنی وابستگیاں، قربانیاں اور کردار گنوانا شروع کردیتے ہیں تاکہ آنے والے وقت میں خود کو اس فتح کا معمار ثابت کرسکیں۔ مگر اگر خدانخواستہ اس جدوجہد کو ناکامی، انتشار یا شکست کا سامنا کرنا پڑا، تو پھر اس کی تمام تر ذمہ داری صرف اور صرف قیادت پر عائد ہوگی۔ کیونکہ عوام نے اپنی جانب سے کبھی بخل نہیں کیا، کبھی قربانی سے پیچھے نہیں ہٹے، اور کبھی خوف کو اپنے راستے کی دیوار نہیں بننے دیا۔ اس سرزمین کے نوجوانوں کو جب مرنے کے لیے پکارا گیا تو وہ مسکراتے ہوئے اپنی جانیں دینے نکل کھڑے ہوئے۔ ماؤں نے اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کو رخصت کیا، بہنوں نے بھائیوں کی جدائی برداشت کی، اور نوجوان نسل نے اپنی زندگیاں ایک نظریے کے نام کردی۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ بلوچ عوام نے اپنی حد سے بڑھ کر قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے جیلیں دیکھیں، لاپتہ افراد کا درد جھیلا، فوجی آپریشن برداشت کیے، اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھائیں، مگر اس کے باوجود ان کے اندر مزاحمت کا جذبہ ختم نہیں ہوا۔ عوام نے ہر بار یہ ثابت کیا کہ وہ اس جدوجہد کے لیے تیار ہیں، چاہے اس کی قیمت ان کی زندگیاں ہی کیوں نہ ہوں۔ اسی لیے اگر کوئی کمزوری باقی رہ جاتی ہے تو وہ عوام کے جذبے یا قربانی میں نہیں بلکہ قیادت کی حکمتِ عملی، دوراندیشی اور تنظیمی صلاحیت میں ہوگی۔ کیونکہ عوام کا کام اپنے حصے کی قربانی دینا تھا، اور وہ یہ فرض بارہا ادا کرچکے ہیں۔

اب ذمہ داری قیادت پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اس بے پناہ عوامی قوت، اس جذبے اور ان قربانیوں کو کس سمت لے جاتی ہے۔ قیادت صرف نعروں کا نام نہیں ہوتی، بلکہ قیادت وہ قوت ہوتی ہے جو منتشر جذبات کو ایک واضح مقصد میں ڈھالتی ہے، قربانیوں کو سیاسی اور قومی کامیابی میں تبدیل کرتی ہے، اور تحریک کو ایسے راستے پر لے جاتی ہے جہاں عوام کی دی ہوئی جانیں رائیگاں نہ جائیں۔ اگر قیادت واضح وژن اور حکمتِ عملی فراہم نہ کرسکے تو پھر سب سے بڑی قربانیاں بھی تاریخ کے دھندلکوں میں کھو جاتی ہیں۔ بلوچ عوام نے تو بارہا یہ ثابت کیا ہے کہ وہ ہر قیمت ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ جب انہیں کہا گیا کہ مزاحمت کرو، انہوں نے مزاحمت کی۔ جب انہیں قربانی کے لیے پکارا گیا، وہ آگے بڑھے۔ جب نوجوانوں اور خواتین کو مورچوں کی طرف بلایا گیا، تو انہوں نے لبیک کہا۔ اب سوال عوام کے عزم کا نہیں رہا، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا قیادت اس جذبے کو ایک کامیاب قومی منزل تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتی ہے یا نہیں۔ اسی لیے میں یہ سمجھتا ہوں کہ اگر کل یہ جنگ کامیابی سے ہمکنار ہوتی ہے تو بہت سے لوگ اس کامیابی میں اپنا حصہ تلاش کریں گے، مگر اگر خدانخواستہ ناکامی ہوئی تو تاریخ سب سے پہلے قیادت سے سوال کرے گی، کیونکہ عوام تو اپنا فرض ادا کرچکے ہوں گے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔