کوئٹہ: فدائی حملے کے بعد سیکیورٹی ہائی الرٹ، سخت چیکنگ اور ناکہ بندی

1

اتوار کے روز کوئٹہ شہر میں ایک عسکری شٹل ٹرین پر فدائی حملے کے بعد آج بھی شہر کی سڑکیں ویران ہیں، جبکہ سخت فوجی پہرہ جاری ہے۔ ریڈ زون کے اطراف سخت سیکیورٹی حصار قائم کیا گیا ہے۔

ریلوے حکام کے مطابق شٹل ٹرین کے ذریعے مسافروں کو کینٹ اسٹیشن سے سٹی ریلوے اسٹیشن منتقل کیا جا رہا تھا، جہاں سے انہیں جعفر ایکسپریس میں سوار ہونا تھا۔

حکام کے مطابق یہ مسافر پشاور، اور پنجاب روانہ ہونے والے تھے، جن میں سرکاری اہلکاروں اور فورسز کے اہلکار شامل تھے، جو عید کی چھٹیوں کے سلسلے میں اپنے آبائی علاقوں کو جا رہے تھے۔

جائے وقوعہ پر کرین بھی موجود ہے، جس کے ذریعے متاثرہ بوگیوں کو ٹریک سے ہٹایا جا رہا ہے، جبکہ زخمیوں اور ہلاک ہونے والوں کو سول اسپتال ٹراما سینٹر منتقل کیا گیا۔ تاہم وہاں میڈیا کو جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔

جائے حادثہ پر پاکستانی فوج اور دیگر اداروں کے اہلکار موجود ہیں۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ اس کی آواز شہر کے دور دراز علاقوں تک سنی گئی۔ مقامی افراد کے مطابق ریلوے لائن کے اطراف پارکنگ لاٹ میں کھڑی کئی گاڑیاں بھی تباہ ہو گئیں۔

دھماکے کے بعد کوئٹہ شہر کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔

دوسری جانب سرکاری حکام نے تاحال ہلاکتوں اور نقصانات کے حوالے سے کوئی واضح مؤقف پیش نہیں کیا، جبکہ اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ ہونے کے باعث عام شہریوں اور صحافیوں کو رسائی کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ تاہم آج بھی لاشوں کی کینٹ منتقلی کا سلسلہ جاری رہا۔

واضح رہے کہ بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو جاری بیان میں کہا تھا کہ تنظیم کے فدائی یونٹ مجید بریگیڈ اور انٹیلی جنس ونگ “زراب” نے کوئٹہ شہر میں ایک انتہائی پیچیدہ، منظم اور مشترکہ آپریشن کے دوران کوئٹہ کینٹ ریلوے اسٹیشن کے مضافات میں، چمن پھاٹک کے قریب، پاکستانی فوج کے اہلکاروں کو منتقل کرنے والی ایک مخصوص عسکری شٹل ٹرین کو فدائی حملے کا نشانہ بنایا۔

بیان کے مطابق اس کارروائی کے نتیجے میں 82 اہلکار موقع پر ہلاک جبکہ 121 سے زائد زخمی ہوئے۔ تنظیم کے مطابق ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں پاکستانی فوج کے جے سی اوز (جونئیر کمیشنڈ آفیسرز)، این سی اوز (نان کمیشنڈ افسران)، سپاہی اور نئے بھرتی ہونے والے عسکری ریکروٹس شامل تھے۔

مزید کہا گیا کہ متاثرہ اہلکاروں کا تعلق 4 فرنٹیئر فورس رجمنٹ، 10 بلوچ رجمنٹ، 25 بلوچ رجمنٹ، ای ایم ای سینٹر، انفنٹری اسکول، 31 کیولری، 2 پنجاب رجمنٹ، 80 فیلڈ آرٹلری، 50 سگنلز، 63 میڈیم آرٹلری رجمنٹ اور 54 میڈیم آرٹلری رجمنٹ سے تھا۔

بیان میں کہا گیا کہ یہ فدائی مشن بی ایل اے کے فدائی کمانڈر بلال شاہوانی نے انجام دیا۔