زیارت میں اغوا ہونے والے مزید 21 پولیس اہلکاروں کی لاشیں برآمد

11

بلوچستان کے ضلع زیارت سے اغوا کیے گئے مزید 21 پولیس اہلکاروں کی لاشیں زرغون غر کے علاقے سے برآمد ہوئی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والے اہلکاروں میں سعیم علی، پی ایس مانگی؛ اختیار محمد، پی ایس زیارت؛ نفس علی، اے ٹی ایف ونگ؛ جبار رحمان، اے ٹی ایف ونگ؛ محمد اقبال، اے ٹی ایف ونگ؛ محمد سلیم، اے ٹی ایف ونگ؛ سلطان جنان، پی ایس کچ؛ محمد زمان، پی ایس کچ؛ حضرت اللہ، پی ایس کچ؛ خیر اللہ، پی ایس کچ؛ مقبول احمد، پی ایس کچ؛ حبیب اللہ، پی ایس کواس؛ محمد احمد، پی ایس کواس؛ صابر احمد، پی ایس کواس؛ مفتاح اللہ، پی ایس کواس؛ محمد فراش، پی ایس کواس؛ محمد اسلام، پی ایس کواس؛ محمد عیشان، پی ایس کواس؛ محمد اکبر، پی ایس مانگی؛ احتشام احمد، پی ایس مانگی؛ اور زین محمد، پی ایس مانگی شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران زیارت میں مجموعی طور پر تقریباً 30 پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

حکام کے مطابق، درجنوں مسلح افراد نے پیر کے روز کوئٹہ سے شمال مشرق میں تقریباً 70 کلومیٹر دور واقع ضلع زیارت کے علاقے مانگی میں مانگی ڈیم پراجیکٹ کے فیز تھری کی سکیورٹی پر تعینات پولیس اہلکاروں پر حملہ کیا، جس پر پولیس اہلکاروں نے جوابی کارروائی کی۔

واضح رہے کہ زیارت میں واقع اس ڈیم سے پانی کی پائپ لائنیں کوئٹہ تک جاتی ہیں۔ اس منصوبے پر کام کرنے والے انجینئرز اور ان کی حفاظت پر تعینات پولیس اہلکاروں پر اس سے قبل بھی کئی حملے ہو چکے ہیں۔