تربت میں نامعلوم مسلح افراد کی بڑی تعداد نے تربت کے نواحی علاقے میں تقریباً تین گھنٹوں تک ناکہ بندی قائم رکھی۔ اس دوران انہوں نے ایک قریبی پولیس چوکی پر قبضہ کر کے وہاں موجود اسلحہ اور دیگر ساز و سامان اپنے ساتھ لے گئے۔
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ بعد ازاں پاکستانی فوج کا ایک قافلہ، جس میں چھ گاڑیاں شامل تھیں، علاقے میں پیش قدمی کے لیے پہنچا۔ تاہم، ماشاء اللہ ہوٹل کے قریب اس قافلے پر گھات لگا کر حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں شدید جھڑپ شروع ہو گئی۔
ذرائع کے مطابق پاکستانی فورسز اور مسلح افراد کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ دیر تک جاری رہا۔ اس دوران جانی و مالی نقصان کی غیر مصدقہ اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں تاہم سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں کی گئی۔
یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ جھڑپ کے دوران پاکستانی فورسز کی جانب سے استعمال کیے جانے والے کواڈ کاپٹر ڈرونز کو نشانہ بنایا گیا اور ممکنہ طور پر تباہ کر دیا گیا۔
ادھر ایک علیحدہ واقعے میں مسلح افراد نے شاہداد ہوٹل کے قریب ایک مواصلاتی ٹاور اور دو نگرانی کے کیمروں کو نشانہ بناکر تباہ کردیا ہے۔
تاحال حکام کی جانب سے ان واقعات پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا اور ناہی حملوں کی ذمہ داری کسی نے قبول کی ہے۔

















































