اندھیروں میں روشنی کا مسافر
تحریر: حکیم واڈیلہ
دی بلوچستان پوسٹ
وہ جس سرزمین کا وارث تھا، وہاں حصولِ علم گناہ گردانا جاتا تھا۔ وہاں سوچنا، سمجھنا، سوال کرنا اور شعور یافتہ ہونا غداری کے زمرے میں آتا تھا۔ وہاں اپنی مادری زبان میں اپنی قوم کی بدحالی کا حال سنانا، اپنی سرزمین کے خوشحال مستقبل اور اپنی قومی شناخت کی بقا کی خاطر لب کشائی کرنا زہر کا پیالہ پینے کے مترادف تھا۔
اس سرزمین پر ایک ایسی بیرونی طاقت کا قبضہ تھا جو زمین زادوں کی زبان، ان کی اپنی زمین سے محبت، اپنی تاریخ، شناخت اور قومی لیجنڈز پر فخر کرنے کو نہ صرف اپنی توہین سمجھتا تھا، بلکہ اس نے یہ طے کر رکھا تھا کہ اس طرح کے “جرائم” کے مرتکب ہر سر کو تن سے جدا کر دیا جائے گا، ہر زبان کو گونگا کر دیا جائے گا، ہر یادداشت مٹا دی جائے گی، اور ہر علاقائی لیجنڈ کی جگہ بیرونی لیجنڈز کی جھوٹی تشہیر کی جائے گی تاکہ زمین زادوں کی یادوں سے ان کی شناخت، ان کی زبان، ان کی سرزمین اور ان کی قومیت، الغرض وہ تمام رشتے مٹا دیے جائیں جو انہیں اپنی مٹی سے جوڑے رکھتے ہیں۔ تاکہ قبضہ گیری کے رنگ میں ڈھال کر زمین زادوں کو غلامی کی بدترین شکل میں مبتلا کیا جا سکے۔
وہ جس دور میں جی رہا تھا، اس دور میں سانس لینے کو ہی زندہ رہنا سمجھا جاتا تھا۔ لوگ زندگی کو مقصد دینے کے بجائے اپنی جان بچانے کی خاطر سرنگوں ہو کر جیتے تھے۔ شاعر، ادیب، دانشور، صحافی، سیاستدان، سماجی کارکن، قبائلی معتبر، سردار، اکثر یا تو براہِ راست قابض قوت کا ساتھ دیتے تھے یا خاموش رہ کر اپنے اردگرد ہونے والے جرائم، ناانصافیوں، استحصال اور نسل کشی کی غیر اعلانیہ حمایت کرتے تھے۔ ایسے ماحول میں وہ اپنے عہد کے ان چند کرداروں میں شامل ہو گیا جن کی زندگیاں کسی واضح اور بڑے مقصد کے لیے وقف ہوتی ہیں۔
اس نے دیارِ غیر سے آئے قبضہ گیر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنی زبان میں بات کرنے کی ہمت کی۔ اس نے اپنی مادری زبان میں لکھنے کی جرات کی۔ اس نے سانس لینے سے زیادہ زندہ رہنے کو ترجیح دی۔ وہ اس حقیقت سے بخوبی آشنا تھا کہ جس راہ کا اس نے انتخاب کیا ہے، وہ ایک پرکٹھن راستہ ہے، ایسا راستہ جہاں آزمائشیں ہر قدم پر اس کی منتظر ہوں گی، جہاں خوف اور جبر کا سایہ ہمیشہ اس کے گرد منڈلاتا رہے گا، جہاں اسے خریدنے، توڑنے، وطن بدر کرنے یا جان سے مارنے کی کوششیں بھی کی جائیں گی۔ مگر وہ یہ سب جانتے ہوئے بھی اپنی محبوب وطن اور دلبر زبان کی خدمت میں مگن رہا۔
وہ اپنی مادری زبان سے عشق کرتا تھا، اس زبان سے جس میں اس نے شاید اپنے پہلے بول ادا کیے تھے، وہ زبان جو اس کے لاشعور میں اس قدر گہرائی تک رچ بس چکی تھی کہ اس زبان سے جڑی تاریخ، اس زبان سے وابستہ لوگ، اور اس زبان کے دکھ سکھ اسے اپنی سانسوں سے بھی زیادہ عزیز تھے۔
وہ اندھیروں کے شہر میں روشنی کا مسافر تھا۔ وہ اپنے عہد کا ایک ایسا کردار تھا جو اپنی مختصر زندگی میں صدیاں جی لیتا ہے، اور پھر اس کا کردار، اس کی فکر، اس کی جدوجہد اور اس کی موت ایک قومی اثاثہ بن جاتی ہے۔
ایسے کردار جسمانی طور پر مار دیے جاتے ہیں، مگر ان کے خواب، ان کی فکر اور ان کی زبان کبھی نہیں مرتی۔ قابض قوتیں کتابیں جلا سکتی ہیں، زبانوں پر پہرے بٹھا سکتی ہیں، جسموں کو مٹا سکتی ہیں، مگر وہ اس شعور کو ختم نہیں کر سکتیں جو ایک بار قوم کے دل میں جاگ اٹھے۔
وہ جاگتا ہوا شعور، شہید پروفیسر غمخوار حیات کی صورت میں بلوچستان کی تاریخ کا ہمیشہ زندہ رہنے والا باب بن چکا ہے۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔











































