واقعی ایسی ماں ہوسکتی ہے؟ – سفرخان بلوچ (آسگال)

1

واقعی ایسی ماں ہوسکتی ہے؟

تحریر: سفرخان بلوچ (آسگال)

دی بلوچستان پوسٹ

انسانی تاریخ میں ماں کے کردار کو ہمیشہ محبت، قربانی، شفقت اور ایثار کی علامت سمجھا گیا ہے۔ دنیا کی ہر تہذیب، ہر مذہب اور ہر ادب نے ماں کے قدموں تلے جنت رکھی ہے مگر بعض مائیں ایسی بھی ہوتی ہیں جو صرف ممتا کی علامت نہیں رہتیں بلکہ حوصلے، استقامت، عزم اور قربانی کی ایک ایسی عظیم داستان بن جاتی ہیں جسے سن کر انسان حیرت میں ڈوب جاتا ہے۔

وہ مائیں جن کے دل نرم ہوتے ہیں، جن کی آنکھیں اولاد کی معمولی تکلیف پر بھی نم ہوجاتی ہیں، وہی مائیں جب وقتِ آزمائش آتا ہے تو پہاڑوں سے زیادہ مضبوط ثابت ہوتی ہیں۔ بعض کہانیاں ایسی ہوتی ہیں جنہیں سن کر انسان فوراً یہ سمجھتا ہے کہ یہ یقیناً کسی ناول، افسانے یا فلم کا حصہ ہوں گی، کیونکہ حقیقت اتنی سخت، اتنی عظیم اور اتنی حیران کن نہیں ہوسکتی مگر زندگی ہمیشہ انسان کے اندازوں سے بڑی ہوتی ہے۔ حقیقت کبھی کبھی افسانوں سے بھی زیادہ طاقتور اور ناقابلِ یقین ہوتی ہے۔

میں جب اس ماں کے کردار کے بارے میں سوچتا ہوں تو بار بار اپنے آپ سے یہی سوال کرتا ہوں کہ کیا واقعی ایسی ماں اس دنیا میں ہوسکتی ہے؟ کیا کوئی ماں اپنی جوان بیٹی کو ایک ایسے راستے پر جاتے دیکھ سکتی ہے جہاں سے واپسی ممکن نہ ہو؟ کیا کوئی ماں آخری ملاقات میں اپنے آنسو ضبط کرسکتی ہے؟ کیا کوئی ماں اپنی ممتا کو اپنے حوصلے کے پیچھے چھپا سکتی ہے؟ میں خود سے کہتا ہوں کہ شاید یہ سب ایک افسانہ ہے۔ پھر خیال آتا ہے کہ نہیں، یہ کسی ناول کا کردار ہوگا۔ مگر جب میں اپنی آنکھوں سے دیکھے ہوئے مناظر کو یاد کرتا ہوں تو میری سوچ لرز جاتی ہے۔ میں نے وہ سب دیکھا ہے۔ میں جاگ رہا تھا۔ یہ خواب نہیں تھا۔ وہ ماں حقیقت تھی۔ اس کے الفاظ حقیقت تھے۔ اس کی خاموشی حقیقت تھی۔ اس کی دعا حقیقت تھی۔ یہ کوئی افسانوی کردار نہیں تھا بلکہ ایک ایسی حقیقی ماں تھی جس نے ممتا کی نئی تعریف لکھ دی۔ ادب میں اکثر ہمیں ایسی مائیں ملتی ہیں جو قربانی کی علامت بن جاتی ہیں۔

کبھی وہ اپنے بچوں کے لیے بھوک برداشت کرتی ہیں، کبھی زمانے کی سختیاں سہتی ہیں، کبھی اولاد کی خاطر اپنے خواب قربان کردیتی ہیں۔ ناول نگار اپنے قلم سے ایسے کردار تخلیق کرتے ہیں جنہیں پڑھ کر قاری متاثر ہوجاتا ہے۔ مگر ان کرداروں میں کہیں نہ کہیں تخیل کی آمیزش ضرور ہوتی ہے۔ افسانہ نگار اپنے کردار کو عظمت دینے کے لیے اس میں غیرمعمولی صبر، بے مثال قربانی اور حیرت انگیز حوصلہ شامل کردیتا ہے تاکہ قاری اس کردار کو کبھی بھلا نہ سکے۔ لیکن حقیقت میں انسان کمزور ہوتا ہے۔ حقیقت میں آنکھیں نم ہوجاتی ہیں۔ حقیقت میں دل ٹوٹ جاتے ہیں۔ حقیقت میں جدائی انسان کو بے بس کردیتی ہے۔ مگر اس ماں کو دیکھ کر محسوس ہوتا تھا کہ حقیقت نے افسانے کو شکست دے دی ہے۔

وہ ماں اپنی جوان بیٹی کے سامنے کھڑی تھی۔ ایک ایسی بیٹی جو ایک ایسے سفر پر روانہ ہونے والی تھی جہاں واپسی کی کوئی امید نہیں تھی۔ وہ راستہ صرف جدائی کا راستہ نہیں تھا بلکہ موت کا راستہ تھا۔ ایک ایسا مشن جس کی تکمیل کا مطلب اپنی جان قربان کردینا تھا۔ عام انسان تصور کرے تو اس کا دل کانپ اٹھتا ہے۔ ایک ماں اپنی بیٹی کو ہمیشہ کے لیے کھو دینے کے خیال سے ہی ٹوٹ جاتی ہے۔ مگر وہ ماں عجیب سکون کے ساتھ کھڑی تھی۔ اس کے چہرے پر اضطراب نہیں تھا۔ اس کی آنکھوں میں خوف نہیں تھا۔ اس کے لہجے میں کمزوری نہیں تھی۔ وہ پہاڑ کی مانند کھڑی تھی۔ اس لمحے مجھے محسوس ہوا کہ شاید انسان کے اندر ایک ایسی طاقت بھی ہوتی ہے جو صرف عظیم مقصد کے لیے بیدار ہوتی ہے۔  میں آج بھی سوچتا ہوں کہ اس آخری بار جب ماں اپنی بیٹی کو جاتے ہوئے دیکھ رہی تھی، عام مائیں ایسے موقع پر اپنی بیٹی کو سینے سے لگا کر رو پڑتیں۔ اس کے قدم روک لیتیں۔ اس کے سامنے اپنی ممتا کی قسم رکھ دیتیں۔ کہتیں “مت جاؤ۔ ہمیں چھوڑ کر مت جاؤ۔ یہ راستہ بہت کٹھن ہے۔ ہم تمہارے بغیر کیسے زندہ رہیں گے؟” مگر اس ماں نے ایسا کچھ نہیں کہا۔ اس نے اپنی بیٹی کے حوصلے کو کمزور نہیں ہونے دیا۔ اس نے اپنی ممتا کو اس کے راستے کی دیوار نہیں بننے دیا۔

اس نے بیٹی کو رخصت کرتے ہوئے صرف دعا دی۔ یہ دعا کسی کمزور ماں کی دعا نہیں تھی بلکہ ایک عظیم ماں کی دعا تھی۔  دنیا میں ماں کی محبت سے بڑھ کر کوئی محبت نہیں سمجھی جاتی۔ ماں اپنی اولاد کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتی۔ وہ اولاد کے درد کو خود پر لے لیتی ہے۔ مگر اس ماں نے اپنی محبت کو کمزوری نہیں بننے دیا۔ یہی اس کی عظمت تھی۔ وہ جانتی تھی کہ اگر اس نے ایک لمحے کے لیے بھی اپنی بیٹی کو کمزور کیا تو شاید اس کے قدم ڈگمگا جائیں۔ شاید اس کے دل میں جذبات کا طوفان اٹھ جائے۔ شاید اس کے مشن پر اثر پڑ جائے۔ اس لیے اس ماں نے اپنی ممتا کو ضبط کرلیا۔ یہ ضبط عام ضبط نہیں تھا۔ یہ ایک ایسی قربانی تھی جسے الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔

اس نے اپنی بیٹی کے جذبات کو اپنے جذبات پر ترجیح دی۔ اس نے اپنی جدائی کے درد کو اپنے دل میں قید کرلیا تاکہ بیٹی مضبوط رہ سکے۔ اور یہی وہ مقام تھا جہاں وہ ماں عام انسانوں سے بلند ہوگئی۔ اس ماں کی عظمت صرف اس کے صبر میں نہیں تھی بلکہ اس کی خاموشی میں بھی تھی۔ اسے معلوم تھا کہ اس کی بیٹی کس راستے پر جارہی ہے۔ اسے معلوم تھا کہ یہ سفر موت کا سفر ہے۔ مگر اس نے یہ راز اپنے دل میں اس طرح محفوظ رکھا جیسے کوئی مقدس امانت ہو۔ اس نے کسی سے کچھ نہیں کہا۔ اس نے اپنے رشتہ داروں کو نہیں بتایا۔ اس نے اپنے قریبی لوگوں کے سامنے اپنے دل کا بوجھ نہیں رکھا۔ کیونکہ وہ جانتی تھی کہ جذبات بعض اوقات انسان کو کمزور کردیتے ہیں۔ لوگ رونے لگتے ہیں۔ خوف پھیل جاتا ہے۔ اور پھر راز راز نہیں رہتا۔ وہ ماں یہ سب سمجھتی تھی۔ اس نے اپنی بیٹی کے مشن کو اپنی ذات سے بڑا سمجھا۔ اس نے اپنی محبت کو اپنے فرض کے تابع کردیا۔ یہ کردار کسی ناول میں ہوتا تو شاید لوگ کہتے کہ مصنف نے مبالغہ کیا ہے۔ مگر حقیقت اس سے بھی زیادہ حیران کن تھی۔ انسانی دل بہت کمزور ہوتا ہے۔ خاص طور پر ماں کا دل۔ ماں اپنے بچے کی معمولی بیماری پر رات بھر جاگتی رہتی ہے۔ بچے کو دیر ہوجائے تو بےچین ہوجاتی ہے۔ اولاد کے آنسو دیکھ کر خود رو پڑتی ہے۔ پھر وہ کون سی طاقت تھی جس نے اس ماں کو اتنا مضبوط بنادیا؟ شاید مقصد کی سچائی۔ شاید ایمان کی قوت۔ شاید قربانی کا شعور۔ یا شاید وہ محبت جو اپنی ذات سے بلند ہوجاتی ہے

۔وہ رات جب اسے معلوم ہوا کہ اس کی بیٹی اپنے آخری مشن پر روانہ ہونے والی ہے، اس کے باوجود وہ ٹوٹ کر بکھر نہیں گئی۔ اس نے چیخ و پکار نہیں کی۔ اس نے اپنے ماتم سے آسمان نہیں ہلایا بلکہ وہ مصلے پر بیٹھ گئی۔ اس نے ہاتھ اٹھائے اور دعا مانگنی شروع کردی: “اے خدا! میری بیٹی کو کامیاب کردے۔” سوچیے، یہ دعا کتنی عظیم ہے۔ ایک ماں اپنی بیٹی کی زندگی نہیں مانگ رہی۔ وہ اس کی کامیابی مانگ رہی ہے، حالانکہ وہ جانتی ہے کہ اس کامیابی کا انجام موت ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں الفاظ ختم ہوجاتے ہیں۔ ادب میں ہمیں بے شمار عظیم مائیں ملتی ہیں۔ کبھی وہ غربت سے لڑتی ہیں، کبھی سماج کے ظلم کے خلاف کھڑی ہوتی ہیں، کبھی اپنی اولاد کے لیے قربانیاں دیتی ہیں۔ ناولوں میں ایسی ماؤں کو مثالی بنا کر پیش کیا جاتا ہے تاکہ قاری ان سے متاثر ہو۔ مگر ناول کے کردار اور حقیقت کے کردار میں ایک فرق ہمیشہ باقی رہتا ہے۔ ناول کا کردار مصنف کی تخلیق ہوتا ہے۔ مصنف جب چاہے اس کے اندر طاقت بھر دے، جب چاہے اسے رلادے، جب چاہے اسے خاموش کردے۔ مگر حقیقی انسان جذبات کا قیدی ہوتا ہے۔ اسی لیے جب کوئی حقیقی انسان ناول کے کردار سے بھی بڑھ کر عظمت دکھاتا ہے تو انسان حیران رہ جاتا ہے۔ یہ ماں بھی ایسی ہی تھی۔ اگر کوئی ناول نگار اس کے کردار کو لکھتا تو شاید لوگ کہتے “یہ حقیقت نہیں ہوسکتی۔ کوئی ماں اتنی مضبوط نہیں ہوسکتی۔” مگر حقیقت یہی تھی۔ وہ ایک حقیقی ماں تھی۔ اس کے سینے میں حقیقی ممتا تھی جسے اس نے اپنے مشن سے چھوٹا سمجھ لیا۔

عام طور پر قربانی کا مطلب اپنی خواہشات چھوڑ دینا سمجھا جاتا ہے۔ مگر اصل قربانی وہ ہوتی ہے جب انسان اپنی سب سے قیمتی چیز بھی ایک بڑے مقصد کے لیے قربان کردے۔ اور ماں کے لیے اس کی اولاد سے زیادہ قیمتی کچھ نہیں ہوتا۔ وہ ماں جانتی تھی کہ شاید اب وہ اپنی بیٹی کو دوبارہ کبھی نہ دیکھ سکے۔ وہ اس کی آواز دوبارہ نہ سن سکے۔ اس کے سر پر دوبارہ ہاتھ نہ رکھ سکے۔ مگر اس کے باوجود اس نے اپنی بیٹی کے راستے میں رکاوٹ بننا قبول نہیں کیا۔ یہ قربانی صرف جسمانی نہیں تھی بلکہ روحانی قربانی تھی۔

وہ خاموش رہی، مگر وہ مضبوط کھڑی رہی،اس منظر کا سب سے عظیم پہلو یہ تھا کہ وہ ماں دعا کررہی تھی۔ وہ صرف ایک ماں نہیں رہی تھی بلکہ ایک دعا بن گئی تھی۔ اس کے لبوں پر شکوہ نہیں تھا۔ اس کی زبان پر خوف نہیں تھا۔ اس کی آنکھوں میں مایوسی نہیں تھی۔ وہ صرف دعا کررہی تھی۔ یہ دعا صرف اپنی بیٹی کے لیے نہیں تھی بلکہ اس مقصد کے لیے تھی جسے اس کی بیٹی نے اختیار کیا تھا۔ اور شاید یہی وہ لمحہ تھا جب وہ ماں عام انسانوں سے بلند ہوگئی۔ دنیا طاقتور لوگوں کو عظیم سمجھتی ہے۔ دولت مندوں کو کامیاب سمجھتی ہے۔ مشہور لوگوں کو بڑا سمجھتی ہے۔ مگر اصل عظمت کردار کی عظمت ہوتی ہے۔ وہ ماں بظاہر ایک عام عورت تھی۔ نہ وہ کسی تخت پر بیٹھی تھی، نہ اس کے پاس کوئی سلطنت تھی، نہ اس کے پاس طاقت تھی۔ مگر اس کے دل کی طاقت نے اسے عظیم بنادیا۔ وہ ایک ایسی عورت تھی جس نے اپنے جذبات پر قابو پالیا۔ جس نے اپنی محبت کو مقصد کے تابع کردیا۔ جس نے اپنی کمزوری کو طاقت میں بدل دیا۔ اور یہی اصل عظمت ہے۔

ہم اکثر ماں کو صرف محبت کی علامت سمجھتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ماں محبت کے ساتھ ساتھ طاقت کی بھی علامت ہوتی ہے۔ جب وقت آسان ہو تو ماں نرم سایہ بن جاتی ہے۔ مگر جب وقت سخت ہو تو وہ چٹان بن جاتی ہے۔ یہ ماں بھی ایسی ہی تھی۔ اس نے اپنی بیٹی کو محبت دی، تربیت دی، حوصلہ دیا، اور پھر وقت آنے پر اسے مضبوطی کے ساتھ رخصت بھی کردیا۔ یہ رخصتی کمزور دل کی رخصتی نہیں تھی بلکہ ایک عظیم دل کی رخصتی تھی۔ دنیا کی تاریخ میں ایسی مائیں ہمیشہ امر ہوگئی ہیں جنہوں نے اپنے بچوں کو صرف محبت نہیں دی بلکہ حوصلہ بھی دیا۔ وہ مائیں جنہوں نے اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کو حق، سچائی اور مقصد کے لیے قربان ہوتے دیکھا، مگر ان کے قدم نہیں ڈگمگائے۔

یہ ماں بھی انہی عظیم ماؤں کی صف میں کھڑی نظر آتی ہے۔ اس کی خاموشی ایک اعلان تھی۔ اس کا صبر ایک پیغام تھا۔ اس کی دعا ایک تاریخ تھی۔ آج بھی جب میں اس ماں کے بارے میں سوچتا ہوں تو میرے اندر ایک عجیب کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔ میں خود سے سوال کرتا ہوں کہ کیا واقعی ایسی ماں ہوسکتی ہے؟ پھر مجھے یاد آتا ہے کہ یہ سب میری آنکھوں کے سامنے ہوا تھا۔ یہ خواب نہیں تھا۔ یہ افسانہ نہیں تھا۔ یہ ناول کا کوئی خیالی کردار نہیں تھا۔ یہ ایک حقیقی ماں تھی۔ ایک ایسی ماں جس نے اپنے آنسوؤں کو دعا میں بدل دیا۔ ایک ایسی ماں جس نے اپنی ممتا کو کمزوری نہیں بننے دیا۔ ایک ایسی ماں جس نے اپنی بیٹی کو آخری بار رخصت کرتے ہوئے اپنے دل کو خاموش رکھا اور اپنے رب سے صرف اس کی کامیابی مانگی۔ وہ ماں صرف ایک عورت نہیں تھی بلکہ صبر، قربانی، ایمان اور بہادری کی ایک زندہ تفسیر تھی۔ اس کی خاموشی میں ایک سمندر تھا۔ اس کی دعا میں ایک کائنات تھی۔ اور اس کے دل میں وہ عظمت تھی جسے الفاظ مکمل طور پر بیان نہیں کرسکتے۔ شاید اسی لیے بعض حقیقی کردار، افسانوں کے کرداروں سے زیادہ عظیم ہوتے ہیں۔ وہ عظیم ماں لال جان تھی، جس کی مقدس کوکھ سے جرأت و وفا کی پیکر، فدائی حوا نے جنم لیا۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔