کچی میں ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کے کارندوں کو ہلاک کرنے کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ یو بی اے

86

یونائیٹڈ بلوچ آرمی کے ترجمان مزار بلوچ نے میڈیا کو بھیجے گئے بیان میں کہا ہے کہ سرمچاروں نے گزشتہ شب 4 اپریل کو ضلع کچی کے علاقے سنی میں گشت کے دوران ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کے سرغنہ فرید رئیسانی کے کارندوں کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس کے نتیجے میں ڈیتھ سکواڈ کے دو کارندے عزیز جتوئی اور نواب جتوئی ولد محمد اشرف جتوئی موقع پر ہلاک ہو گئے جبکہ ان کا اسلحہ ضبط کیا گیا۔

مزار بلوچ کے مطابق مذکورہ اشخاص گزشتہ کئی سالوں سے پاکستانی خفیہ اداروں کے قائم کردہ ڈیتھ اسکواڈ کے لیے کام کررہے تھے، اس معاملے میں پہلے بھی بلوچ سرمچاروں کے طرف سے عزیز اور نواب اور کو سخت تنبیہ کیا گیا تھا، مگر وہ باز نہ آئے اور مسلسل بلوچ آزادی پسند سرمچاروں کی مخبری اور ان کو ٹریک کرنے کے علاوہ علاقے میں عام شہریوں اور بلوچ نوجوانوں کی گرفتاریوں میں بھی ملوث رہے۔

یو بی اے ترجمان نے مزید کہا عزیز اور نواب جتوئی اور ان جیسے دیگر کارندوں کی مخبری کی وجہ سے ماضی میں متعدد بلوچ نوجوانوں کو دشمن اداروں کے ہتھے چڑھ چکے ہیں۔ 

انکا کہنا تھا کچی میں اس وقت کئی افراد پاکستانی خفیہ اداروں کے لیے کام کررہے ہیں کچھ ضمیر فروش چند پیسوں کے عوض اپنے قوم سے غداری کر رہے ہیں ہم ایسے تمام  عناصر کو سخت تنبیہ کرتے ہیں کہ وہ قابض ریاست کے دلالی اور فوجی چیک پوسٹوں اور ریاستی تمام اداروں سے دور رہیں ورنہ اپنے جان و مال کے ذمہ دار خود ہوں گے۔

ترجمان نے آخر میں کہا ہم ایسے تمام کارندوں کے متعلق مکمل معلومات و آگاہی رکھتے ہیں جوکہ قابض ریاست کا ساتھ دے رہے ہیں جو کہ مستقل میں ہمارے سرمچاروں کے نشانے پر ہونگے قومی غداروں کے لیے کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔