شہید عبدالرسول بنگلزئی اور لاپتہ فتح بنگلزئی کی نہ ختم ہونے والا غم کا سلسلہ آخر کار والدین کی جان لی
تحریر: شاہین بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
یہ کہانی ان ان گنت آنکھوں کی ہیں۔ جو دروازے کی جھری سے باہر تکتے تکتے پتھرا گئیں، اور ان پیروں کی ہے جو انصاف کی دہلیز ڈھونڈتے ڈھونڈتے تھک کر مٹی تلے جا سوئے۔ صبر کی دہلیز پر ٹوٹتا انصاف اور سسکتی انسانیت یہ کہانی صرف ایک غریب گھرانے کے اجڑنے کی نہیں، بلکہ اس قابض پاکستانی فوج کے ظالمانہ نظام اور بے حس معاشرے کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ ہے، جہاں قابض پاکستانی ریاست کے ہاتھوں بلوچوں کے آنسوؤں کا کوئی مول اور اس کی فریاد کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔
بوڑھے والدین اور بیٹوں پر مشتمل بے سہارا خاندان، جو کہ بوڑھے والدین جس کی دنیا ان کے جوان بیٹوں سے آباد تھی، ظلم کی چکی میں ایسا پسا کہ۔ ایک بیٹا جسکا نام عبدالرسول بنگزئی تھا۔ جسے قابض نے سال 2011 میں اغوا کر کے تین ماہ بعد اسکی مسخ شدہ لاش پھینک دیا۔
بوڑھے والدین جوان بیٹے کی شہادت کے دکھ کو بھلایا ہی نہیں تھا کہ انکے دوسرے بیٹے عبدالفتح بنگلزئی کو سال 2014 میں لاپتہ کردیا۔ یہ ایک حادثہ نہیں بلکہ اس فرسودہ اور ظالم پاکستانی نظام کے ماتھے پر لگا وہ سیاہ دھبہ ہے جو کبھی نہیں مٹ سکتا۔
وہ ماں باپ جنہوں نے اپنے لختِ جگر کی جدائی میں 10 سال تک خون کے آنسو بہائے اور اپنی بینائی تک کھو دی، جنہوں نے اپنی پوری ہستی، اپنی جمع پونجی اور اپنی ہمت اس ایک مقصد کی نذر کر دی کہ اپنے بیٹے کا سراغ لگا سکے۔ اس بوڑھے والدین نے ہر دروازے پر دستک دی ظالم ریاستی اداروں کے ہر دروازے کھٹکھٹائے، تپتی سڑکوں پر احتجاج کیا اور ہر اس شخص کے سامنے ہاتھ جوڑے جو اس کے بیٹے کی واپسی میں مددگار ہو سکتا تھا۔ انہوں نے اپنی انا، اپنی صحت اور اپنا سکون سب کچھ اپنے بیٹے کی بازیابی کی بھینٹ چڑھا دیا۔
اپنے لاپتہ بیٹے کو دوبارہ سینے سے لگانے کی حسرت میں اپنی پوری زندگی تیاگ دی تھی، آخر کار موت کی آغوش میں چلے گئے۔ انکی آنکھیں بند تو ہوئیں مگر ان میں وہی ایک ادھورا خواب تھا، وہی ایک ان کہی پکار تھی: “ہمارا لاپتہ بیٹا عبدالفتح کہاں ہے؟” وہ اس دنیا سے رخصت ہو گئے، مگر انکی کی روح شاید آج بھی اسی دہلیز پر بھٹکتی ہوگی جہاں انہوں نے آخری بار اپنے بیٹے کی راہ تکتے ہوئے دم تھوڑے تھے
انکی موت ایک طبعی موت نہیں، بلکہ یہ اس نظامِ انصاف کی ناکامی اور ریاست کی بے حسی کی موت ہے۔ ان کی اندھی آنکھیں اور سسکتی ہوئی روحیں آج بھی حاکمِ وقت اور ظالم سماج سے سوال کرتی ہیں کہ آخر ان کا قصور کیا تھا؟ کیا بلوچ ہونا اس دھرتے پر سب سے بڑا جرم ہے؟
یہ دردناک انجام صرف ایک گھر کا ماتم نہیں، بلکہ ہر اس انسان کے ضمیر کے لیے ایک کھلا چیلنج ہے جو اس خاموش ظلم کا تماشا دیکھ رہا ہے۔ یہ وقت خاموش رہنے کا نہیں، بلکہ ایک ایسی انقلابی سوچ کو جنم دینے کا ہے جو ظلم کے اس استحصالی نظام کی جڑیں ہلا دے۔ ہمیں مل کر ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینا ہو گا جہاں طاقتور کا ظلم اور غریب کی بے بسی ختم ہو، جہاں کوئی ماں اپنے بچوں کے لیے ترس کر نہ مرے اور ہر مظلوم کو دہلیز پر انصاف مل سکے۔
خونِ ناحق کبھی رائیگاں نہیں جاتا۔ ان بوڑھے ماں باپ کی آہیں اور ان معصوم بیٹوں کا لہو اس نظام کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا۔ آج نہیں تو کل، اس ظلم کی رات کا خاتمہ ہو گا اور مظلوموں کی یہ قربانی انقلاب کی وہ شعلہ بنے گی جو ناانصافی کے ہر محل کو راکھ کر دے گی۔ ظلم کی یہ داستان آنے والی نسلوں کو سکھائے گی کہ خاموش رہنا بھی ظلم کا ساتھ دینا ہے، اور جدوجہد ہی وہ واحد راستہ ہے جس سے غریب کے آنسو پونچھے جا سکتے ہیں۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































