معاہدہ نہ ہوا تو امریکہ ایران پر دوبارہ حملوں کے لیے تیار ہے – امریکی وزیر دفاع

1

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا ہے کہ اگر کوئی معاہدہ طے نہ پا سکا تو امریکہ ایران پر دوبارہ حملے شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔

ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن اور تہران کے مذاکرات کار ایک معاہدے کی راہ میں حائل بڑے اختلافات کو دور کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سنگاپور میں ایشیا کے دفاعی رہنماؤں، افواج اور سفارت کاروں کے سب سے بڑے فورم ‘شانگری لا ڈائیلاگ’ سے خطاب کرتے ہوئے پیٹ ہیگستھ  نے کہا ’اگر ضرورت پڑی تو (حملے) دوبارہ شروع کرنے کی ہماری صلاحیت… ہم اس کے بھرپور اہل ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا ’ہمارے ہتھیاروں کے ذخائر اس کے لیے بالکل موزوں ہیں، وہاں بھی اور دنیا بھر میں بھی، اس لیے ہم بہت اچھی پوزیشن میں ہیں۔‘

پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ ایران کے ساتھ تنازع میں مصروف ہونے کے باوجود امریکہ نے ایشیا بحرالکاہل (ایشیا پیسیفک) خطے سے منہ نہیں موڑا ہے۔

انہوں نے کہا ’ہم ایک وقت میں دو کام کر سکتے ہیں۔ ہم اپنی دفاعی صنعتی بنیاد کو انتہائی تیز رفتار بنا رہے ہیں تاکہ بہت جلد 2 گنا، 3 گنا اور 4 گنا زیادہ گولہ بارود تیار کیا جا سکے اور یہ یقینی بنایا جا سکے کہ دنیا بھر میں ہمارے تمام (آپریشنل) منصوبوں کو مناسب فنڈز فراہم ہوں۔‘

پینٹاگون کے سربراہ نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ’صابر’ ہیں اور وہ ایک ایسا ’شاندار معاہدہ‘ کرنا چاہتے ہیں جو اس بات کو یقینی بنائے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔

جمعے کو صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ ایران جنگ کے خاتمے کی ایک تجویز پر ’حتمی فیصلہ‘ کرنے کے لیے وائٹ ہاؤس کے ایک محفوظ کمرے میں ملاقات کریں گے۔

اس تجویز کے تحت اپریل کے اوائل میں ہونے والی جنگ بندی میں مزید 60 دنوں کی توسیع کی جائے گی تاکہ مذاکرات کاروں کو اس تنازع کے مستقل خاتمے کے لیے وقت مل سکے۔

امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو شروع کی جانے والی اس جنگ میں اب تک ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن کی اکثریت ایران اور لبنان میں ہے، اور اس نے عالمی معیشت کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے کیونکہ ایران کی طرف سے آبنائے ہرمز کو عملی طور پر بند کیے جانے کے باعث توانائی کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔

’ٓاتحادی اپنے فوجی اخراجات میں اضافہ کریں‘

اس کے علاوہ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے ایشیائی اتحادیوں پر زور دیا ہے کہ وہ خطے میں چین کی بڑھتی ہوئی طاقت کا مقابلہ کرنے اور اس کے غلبے کو روکنے کے لیے اپنے فوجی اخراجات میں اضافہ کریں۔ انہوں نے چین کی تیز رفتار فوجی تیاریوں پر ’بھرپور تشویش‘ کا انتباہ بھی جاری کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ چین کے جارحانہ عزائم کو روکنے کے لیے مضبوط اور خود انحصار اتحادی ناگزیر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’خطے اور اس سے باہر چین کی تاریخی فوجی تیاریوں اور اس کی فوجی سرگرمیوں میں توسیع پر شدید تشویش پائی جاتی ہے جو کہ بالکل حق بجانب ہے۔‘

امریکی وزیر دفاع نے واضح کیا کہ ’کسی بھی بڑی طاقت کے زیر اثر پیسفک (بحر الکاہل) خطے کا توازن بگاڑ کر رکھ دے گا۔ چین سمیت کوئی بھی ملک اپنی بالادستی قائم نہیں کر سکتا اور نہ ہی ہماری اور ہمارے اتحادیوں کی سلامتی کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔‘

پینٹاگون کے سربراہ نے بتایا کہ امریکہ نے اپنی فوج میں 15 سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا عزم ظاہر کیا ہے اور اب وہ اپنے ایشیائی اتحادیوں اور شراکت داروں سے بھی یہ توقع رکھتا ہے کہ وہ اپنے دفاعی اخراجات کو جی ڈی پی کے 3.5 فیصد تک بڑھائیں۔

تاہم پیٹ ہیگستھ نے اس بات پر زور دیا کہ اتحادی استحکام چاہتے ہیں، کشیدگی نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اتحادی جو چاہتے ہیں اور جو امریکہ فراہم کرتا ہے، وہ ایک منظم طاقت، مستقل عزم اور ایک ایسی پراعتماد قیادت ہے جو بڑا ڈنڈا ہاتھ میں رکھ کر نرمی سے بات کرنے اور چلنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔‘

’اب مفت خوری نہیں چلے گی‘

دوسری جانب انہوں نے بیجنگ کے ساتھ فوجی سطح پر بڑھتے ہوئے رابطوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ چین کے ساتھ تعلقات ’گزشتہ کئی برسوں کے مقابلے میں اب بہتر ہیں‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم فوجی مواصلات کے کھلے ذرائع برقرار رکھ کر اپنے چینی ہم منصبوں کے ساتھ زیادہ کثرت سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔‘

دوبارہ برسرِاقتدار آنے کے بعد سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مسلسل اس بات کا تقاضا کر رہے ہیں کہ اتحادی ممالک اپنے دفاعی اخراجات خود اٹھائیں اور انہوں نے واشنگٹن پر یورپی اور نیٹو شراکت داروں کا انحصار کم کرنے پر بھی خصوصی زور دیا ہے۔

پیٹ ہیگستھ نے اسی پالیسی کو دہراتے ہوئے کہا کہ ’امریکہ کی جانب سے امیر ممالک کے دفاع کے لیے مالی امداد (سبسڈی) دینے کا دور اب ختم ہو چکا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’ہمیں شراکت داروں کی ضرورت ہے، نہ کہ ایسے ممالک کی جن کی حفاظت کی ذمہ داری صرف ہم پر ہو۔ ہمارا اتحاد اس وقت تک مضبوط نہیں ہو سکتا جب تک ہر کوئی اس میں برابر کا حصہ دار نہ بنے۔ اب مفت خوری نہیں چلے گی۔‘