گوادر: سبزل بلوچ اور غلام قادر کی جبری گمشدگی اور قتل انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ بی وائی سی

111

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے کہا ہے کہ سبزل بلوچ اور غلام قادر کی جبری گمشدگی کے بعد ان کے لاشیں برآمد ہونا بلوچ نوجوانوں کے خلاف جاری زیادتیوں اور غیر قانونی قتل کی ایک تسلسل وار مثال ہے۔

بی وائی سی کے مطابق، سبزل بلوچ ولد بدل سکنہ تربت خیرآباد کو 25 جولائی 2025 کو تلار چیک پوسٹ سے ایف سی اہلکاروں نے جبری طور پر لاپتہ کیا جبکہ 1 اپریل 2026 کو اس کا لاش گوادر سے برآمد ہوا۔

اسی طرح، غلام قادر ولد مراد بخش سکنہ گوادر کو 24 نومبر 2025 کو کوسٹ ہسپتال گوادر سے بغیر کسی قانونی کارروائی کے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔ 1 اپریل 2026 کو اس کی لاش گوادر سے برآمد ہوئی۔

بی وائی سی کے مطابق یہ واقعات انسانی اور آئینی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ ہر شخص کو قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جانا چاہیے اور ریاستی ادارے ان غیر قانونی کارروائیوں کا جوابدہ ہوں۔