بلوچستان میں پاکستانی فوج نے صرف تین دن میں 17 افراد قتل کردئیے۔ بی این ایم

24

بی این ایم کے مرکزی ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان میں پاکستانی فوج نہتے لوگوں کو نشانہ بنا رہی ہے اور عالمی برادری کی خاموشی نے بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال کو ہمہ پہلو گھمبیر بنا دیا ہے۔ صرف رواں ہفتے 17 افراد کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا۔ بلوچستان کے اضلاع مستونگ، نوشکے ، زھری، خضدار، کیچ اور گوادر کے نواحی علاقوں میں روزانہ کی بنیاد پر جبری گمشدگیوں کا سلسلہ جاری ہے اور شہری آبادی پر گن شپ ہیلی کاپٹروں سے شیلنگ کی جا رہی ہے۔ بی این ایم اس ریاستی دہشت گردی کی شدید مذمت کرتی ہے پاکستان بلوچ قوم کی نسل کشی کر رہی ہے عالمی مداخلت ناگزیر ہے۔

ترجمان نے تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ بلوچستان پاکستانی فوج کے مسلسل مظالم اور ریاستی دہشت گردی کا شکار ہے۔ دو جون 2026 بروز منگل پاکستانی فوج نے ایک مرتبہ پھر زھری کے علاقے کو نشانہ بنایا۔ اس حملے میں زھری کے علاقے بلبل میں ایک پرامن سیاسی کارکن خلیل احمد موسیانی کو گھر میں داخل ہوکر گولی مار کر پاکستانی فوج نے زخمی حالت میں گرفتار کیا اور بعد ازاں حراست کے دوران قتل کر دیا ، جبکہ متعدد افراد کو جبری طور پر لاپتہ کر دیا گیا ہے۔ لاپتہ ہونے والوں میں زھری خان موسیانی، شکر خان، ثناء اللہ موسیانی، امید علی خان، دوست محمد، ارشاد احمد اور دیگر شامل ہیں، جنھیں تاحال رہا نہیں کیا گیا۔

انھوں نے مزید واقعات کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ 31 مئی کو کردگاپ، مستونگ میں پاکستانی فوج نے گولہ باری کر کے غلام جان سمالانی کو قتل کر دیا جو پیشے کے اعتبار سے ڈرائیور تھے۔ یکم جون کو کڈ کوچہ کے علاقے کڈ عمرانی میں شہری آبادی پر ہیلی کاپٹروں سے شیلنگ کی گئی، جہاں رابطہ منقطع ہونے کی وجہ سے نقصانات کی تفصیلات کا علم نہیں ہو سکا۔

بی این ایم کے ترجمان نے کہا کہ مقبوضہ بلوچستان 1948 میں قبضے کے روزِ اول سے لے کر اب تک مسلسل پاکستانی فوج کی جارحانہ کارروائیوں کی زد میں ہے۔ یہاں سیاسی قوتوں کو تشدد اور طاقت کے زور پر دبانے کی ریاستی پالیسی شدت کے ساتھ جاری ہے۔ جبری گمشدگیوں کے تسلسل نے ہزاروں خاندان معاشی اور سماجی طور پر تباہ کر دیے ہیں۔ 31 مئی سے لے کر دو جون تک، صرف تین دن میں پاکستانی فوج نے 17 لوگوں کو اعلانیہ قتل کر دیا لیکن فوج قتل کیے گئے افراد کی تفصیلات بتانے سے گریز کر رہی ہے۔ اس طرح کے واقعات میں اکثر جبری طور پر گمشدہ افراد کو زیرِ حراست قتل کیا جاتا ہے اور پاکستانی فوج اسے مسلح افراد کے خلاف کارروائی کا نام دے کر جھوٹے دعوے کرتی ہے۔مقتولین کی لاشیں بھی لواحقین کے حوالے نہیں کی جا رہی ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستانی فوج بلوچ قوم کی نسل کشی کی پالیسی پر عمل کر رہی ہے۔ یہ ایک ایسا بتدریج عمل ہے جس سے کسی قوم کو سیاسی، ثقافتی، سماجی اور معاشی طور پر تباہ کیا جاتا ہے۔ ڈیرہ بگٹی، کوھلو، آواران، زھری، خضدار ، پنجگور ، کیچ اور گوادر کے اضلاع میں درجنوں گاؤں تاراج کر کے لوگوں کو جبری نقل مکانی پر مجبور کیا گیا۔ اسی پالیسی کے تسلسل میں حالیہ دنوں گوادر کی تحصیل جیمڑی کے گاؤں ’پانوان‘ کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستانی فوج کے اہلکار رات کے اندھیرے میں پانوان میں لوگوں کے گھروں پر حملے کرتے ہیں۔ جبری گمشدگیوں، گھروں کو مسمار کرنے اور ماورائے عدالت قتل کے واقعات سے تنگ آکر سینکڑوں افراد پر مشتمل درجنوں خاندان نقل مکانی کر کے مغربی بلوچستان منتقل ہو گئے ہیں جہاں انھیں معاشی اور سماجی مشکلات کا سامنا ہے اور درجنوں بچے تعلیم سے محروم ہوچکے ہیں۔

ترجمان نے آخر میں کہا کہ بی این ایم اپنی تمام تر قوت کے ساتھ بلوچستان کی تحریک آزادی کی سچائی کو دنیا کے سامنے لانے کے لیے سرگرم ہے اور عالمی برادری سے مطالبہ کرتی ہے کہ بلوچستان کو ایک جنگ زدہ متنازع خطہ قرار دیتے ہوئے فوری مداخلت کرے۔ بلوچستان کی آزادی کی بحالی کے بغیر نہ صرف بلوچ قوم کی بقا خطرے میں ہے بلکہ تزویراتی طور پر اس اہم خطے میں امن کا قیام بھی بلوچ قوم کے حقِ خودارادیت اور بلوچستان کی آزادی سے مشروط ہے۔