بی این پی کا زہری میں آپریشن، جبری گمشدگیوں و پارٹی رہنماء قتل کے خلاف بلوچستان بھر میں احتجاج

50

پارٹی رہنماء کے گھر پر چھاپہ، جبری گمشدگی و قتل کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔

بلوچستان نیشنل پارٹی نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ آج پارٹی کے زیر اہتمام کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں زہری واقعہ جس میں سردار نصیر احمد موسیانی کے بیٹے خلیل موسیانی ،عمیر سمالانی کی قتل اور ان کے دوسرے فرزندوں و دیگر رشتہ داروں، ساتھیوں کی گرفتاریوں، قتل و غارت گری چادر و چار دیواری کے تقدس کی پامالی کے خلاف کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔

مظاہرے میں پارٹی رہنماؤں، کارکنان و دیکر افراد نے شرکت کی اور نعرہ بازی کی۔

اس موقع پر مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا بی این پی قومی جمہوری بلوچستان کی بڑی سیاسی جماعت ہے موجودہ فارم 47کے مسلط حکمران بلوچ پشتون نوجوانوں کی ٹارگٹ کلنگ، ماورائے قانون گرفتاریوں میں آئے روز اضافہ کے سبب رہی ہے۔

مقررین نے کہا کہ سردار نصیر موسیانی خضدار کے سابق ناظم اعلیٰ رہے ہمیشہ سے ان کی جدوجہد جمہوری رہی اور وہ جمہوریت کے داعی رہے مگر مقام افسوس کہ گزشتہ روز فورسز کی جانب سے ان کے گھر پر حملہ، چادر و چار دیواری کے تقدس کی پامالی انہیں زووکوب اور فرزندوں کو گولیوں سے چلی کرنا کہاں کا انصاف ہے ان کے لخت جگر کو شہید کرنے اور دوسرے فرزندوں، قریبی عزیزوں کی گرفتاری قابل افسوس ہے۔

انہوں نے کہا سردار اختر جان مینگل کی قیادت میں پارٹی نے قومی جمہوری سیاست کی لیکن بلوچستان کے اہم معاملات جیسے کہ لاپتہ افراد کی عدم بازیابی، آپریشن، انسانی حقوق کی پامالی، بے گناہوں کے خون بہانے کے خلاف ہمیشہ حق کی آواز بلند کی آج بلوچستان میں بلوچ، پشتون و دیگر محکوم اقوام کی نسل کشی کی جارہی ہے جو کسی بھی طرح قابل برداشت نہیں بلوچستان میں اسٹیبلشمنٹ نے ایسے لوگوں کو اقتدار پر براجمان کیا جن کی وجہ سے حالات مزید ابتر اور بحرانی کیفیت سے دوچار ہو چکے ہیں۔

مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہم نے ہمیشہ حق و سچائی کی آواز بلند کی ہے بلوچستان نیشنل پارٹی سمیت ہر طبقہ فکر کے عوام کا یہ مطالبہ ہے کہ سردار نصیر موسیانی کے فرزند اور عمیر سمالانی کی شہادت میں جو بھی ملوث ہیں صاف شفاف تحقیقات یقینی بناتے ہوئے حقائق کو منظر عام پر لایا جائے ناانصافیوں و ظلم و زیادتیوں کو بند کیا جائے۔

مقررین نے آخر میں کہا آج ہمارے خواتین و بچے جیلوں میں پابند سلاسل ہیں، ماورائے قانون اقدامات کو فوری طور پر بند کیا جائے سردار اختر جان مینگل و سمیت دیگر پارٹی دوستوں کو انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا گیا پارٹی سیاسی جمہوری جماعت ہے جسے زیر کرنا ممکن نہیں بلوچ نسل کشی فوری طور پر بند کیا جائے فارم 47کے حکمران ناکام اور اخلاقی طور پر مستعفی ہوجائیں سانحہ زہری میں گرفتار جتنے زیر حراست ہے انہیں منظر عام پر لایا جائے۔